پاکستان میں لاک ڈاؤن کا معاملہ سیاست کی نذر ہوتا جا رہا ہے جبکہ بھارت نے کورونا کے حوالے ٹھوس اقدامات اٹھا نا شروع کردیے ہیں اور ریاستوں میں لاک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔
بھارتی کے معروف انگریزی اخبار کے ایڈیٹر یادیو نے نقارخانہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 340 ہے جس میں سے 7 ہلاک ہوچکے ہیں تاہم ابتدا ہی سے بھارت میں انتہائی ترجیحات پر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور صبح 7 سے رات 9 بجے تک جنتا کرفیو نافذ کرنے کے احکامات ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسی خصوصی سروسز جن کی ایمرجنسی کے وقت ضرورت پڑ سکتی ہے صرف وہی کھلی رہیں گی۔
بھارتی صحافی کے مطابق پورے پنجاب میں 31 مارچ تک مکمل لاک ڈاؤن ہے. بھارتی ریاست راجھستان میں بھی لاک ڈاؤن رہےگا صرف مقامی انتظامیہ کا سپرے کرنےوالاعملہ ڈیوٹی پر موجود ہے۔
مودی کا کرفیو کا اعلان، عمران خان ہچکچاہٹ کا شکار
کورونا وائرس: اٹلی میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کیلئے فوج طلب
کورونا: لندن کو لاک ڈاؤن کرنے کا اشارہ، فوج الرٹ
انہوں نے کہا کہ جس مسافر کی رپورت مثبت آجائے اسکے ساتھ سفر کرنے والے تمام افراد کو تلاش کرکے نگرانی کی جا رہی ہے.
یادیو نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی لندن سے دہلی آیا، وہاں سے ٹرین کے ذریعے امرتسر پہنچا اور پتا چلا کہ وہ وائرس کا شکار ہے تو اسکی فلائٹ اور ٹرین کے تمام مسافروں کو تلاش کیا جاتا ہے اور ان کے گھر جا کر نگرانی کی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جس مریض کو ڈاکٹرز نے قرنطینہ میں جانے کا کہا اور وہ نہ مانا تو اسکے خلاف مقدمہ دائر کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ملک میں لاک ڈاؤن کے بھرپور مطالبہ کے باوجود وزیر اعظم نے لاک ڈاؤن سے انکار کردیا ہے. دوسری جانب بھارت میں غربت کی بڑھتی ہوئی شرح کے باوجود زیادہ تر ریاستوں میں لاک ڈاؤن شروع ہوگیا ہے۔
بھارت آبادی اور رقبہ کے لحاظ سے پاکستان سے بڑا ملک ہے جہاں متاثرہ افراد کی تعداد کم ہے جبکہ پاکستان میں حکومتوں کی نا اہلی اور بروقت اقدامات نہ اٹھانے کی وجہ سے تعداد 7 سو سے بڑھ گئی ہے۔
