اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے قوم کے نام اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ملک میں بحث چلی ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن لگا دیں ، کرفیو کا مطلب لوگوں کو گھروں میں بند کر کے فوج اور پولیس کا پہرہ لگانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات اٹلی جیسے ہوتے تو میں پورے ملک کو لاک ڈاؤن لگا دیتا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں سوچتا ہوں کہ لاک ڈاؤن میں 25 فیصد غریبوں کا کیا بنے گا؟ انہیں دو وقت کا کھانا بھی نہیں ملے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے، اس وائرس سے زیادہ خطرہ افراتفری سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ ایک دوسرے سے جتنا فاصلہ رکھیں گے اتنا ہی وہ وائرس سے محفوظ رہیں گے۔
مودی کا کرفیو کا اعلان، عمران خان ہچکچاہٹ کا شکار
صحافی برادری کس طرح سے کورونا وائرس کا مقابلہ کر رہی ہے؟
کورونا وائرس کے متعلق چین میں موجود پاکستانی طالب علم کی ویڈیو وائرل ہو گئی
عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ 90 فیصد افراد میں کورونا وائرس خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے، کھانسی، نزلہ، زکام والے افراد خود الگ تھلگ ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، اسے چاہیے کہ ملک میں افراتفری نہ پھیلنے دے۔
وزیراعظم نے کہا کہ لوگ احتیاط نہیں کریں گے تو یہ ان لوگوں پر بڑا ظلم ہوگا جو کورونا وائرس کے اعلاج کے لیے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن رش ہونے کی وجہ سے انہیں بروقت اعلاج پہنچنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں چین اور اٹلی جیسے حالات ہوتے تو فوراً لاک ڈاؤن کر دیا جاتا، ہم بھی چین کی طرح مشکل حالات سے نکل آئیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قوم کا پتا مشکل میں لگتا ہے، ہم نے شاپنگ مالز، مارکٹس اور تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں، اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتیاط کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی قوم کو 2005ء کے زلزلے اور 2010ء کے سیلاب کے دوران دیکھا ہے ،مجھے اپنی قوم پر فخر ہے۔
انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ یہاں پر کھانے پینے کی کوئی کمی نہیں ہے، اگر سارے لوگوں نے سامان جمع کرنا شروع کردیا تو کورونا سے زیادہ نقصان ہوگا۔
