برطانیہ کے ایک سینئر ڈاکٹر نے ڈیلی میل کیلئے لکھے گئے آرٹیکل میں کورونا وائرس کا شکار بننے والے مریضوں کی اذیت اور انکا علاج کرنیوالے ڈاکٹروں کی حالت زار کی دردناک تفصیل بتائی ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ کیا آپ نے کبھی کسی کو آخری سانسوں کیلئے لڑتے دیکھا ہے؟ بہت زیادہ لوگوں نے وہ سب نہیں دیکھا ہوگا مگر جو اس تجربے سے گزرے ہیں وہ اس خوف کو کبھی نہیں بھول پائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ میری خواہش ہے کہ میں گزشتہ ہفتے کورونا وائرس سے مرنیوالے تمام چہروں کو بھول پاؤں، ہر چہرے پر خوف کی پرچھائی، پھیپھڑوں کیلئے آکسیجن لینے کی کوشش میں نکلنے والی آوازیں اور مزید بہت کچھ، یہ سب آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔
ان کا کہنا ہے کہ میں ایک دہائی سے زائد عرصہ سے ڈاکٹر ہوں، میرا خیال تھا کہ اب تک میں نے سب کچھ دیکھ لیا ہے مگرمیرے کسی بھی تجربے نے کورونا وائرس سے پھیلی دہشت دیکھنے کیلئے مجھے تیار نہیں کیا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ جب مجھے ہفتہ کی رات ستر برس سے اوپر کے کورونا وائرس کے مریض کے متعلق بتایا گیا تو میں جلدی سے اسپتال پہنچا۔ وہاں پہنچ کر میں نے اسپتال اسٹاف کو وحشت زدہ پایا، انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس مریض کو کیسے ڈیل کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس میں اسٹاف کی غلطی نہیں تھی بلکہ یہ اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ ہم نے بطور قوم اس وبا سے نمٹنے کیلئے تیاری نہیں کی تھی۔
ڈاکٹر نے لکھا ہے کہ میں ایک ایک سانس کے لیے لڑتے کورونا وائرس کے اس مریض کی آنکھوں میں دہشت دیکھ رہا تھا، دو نرسوں، ایک سینئر ڈاکٹر اور ایک بے ہوش کرنے والے ماہر کی کوششوں کے باوجود اس وائرس نے ہماری آنکھوں کے سامنے مریض کی جان لے لی۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت میں نے اپنے ساتھی ڈاکٹرز اور نرسز، جو بہترین پروفیشنلز تھے، کو خوفزدہ پایا، انہیں خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے تھا مگر یہ بات ان کے بس میں نہیں تھی۔
ڈاکٹر کا لکھنا ہے کہ جیسے ہی کورونا وائرس کا یہ مریض زندگی کی بازی ہارا تو میرا دل ڈوب گیا، بطور ڈاکٹر مجھے دباؤ میں بھی اندر سے اٹھنے والی دہشت کو دبانے کا تجربہ ہے مگر اس بار میں یہ نہیں کر پایا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد میں نے اسپتال میں کورونا وائرس سے متاثرہ کئی مریضوں کو دیکھا، کچھ لوگوں کو یہ سمجھانا مشکل ہوگا مگر میں بتاتا چلوں کی کورونا وائرس سردیوں کے فلو سے بہت ہی بدتر ہے۔
انہوں نے لکھا کہ پھیپھڑوں کی خطرناک بیماری کے علاہ اس کی جلد پھیلنے کی صلاحیت اسے فلو سے بالکل مختلف بنا دیتی ہے۔
ڈاکٹر نے کہا کہ میرا کورونا وائرس مریضوں سے مسلسل واسطہ پڑا ہے اس لیے زیادہ امکان یہی ہے کہ میں بھی وائرس کا کیرئیر ہوں۔ اسی طرح دوسرے ڈاکٹرز بھی اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہونگے مگر مجھے ٹیسٹ کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ برطانوی قومی صحت سروس NHS کا خیال ہے کہ جب تک ہم ڈاکٹروں میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر نہ ہوں ہمیں خود کو تنہا نہیں کرنا کیوں کہ اس سے ہمارے پاس اسٹا ف کم ہوجائے گا۔
انہوں نے لکھا ہے کہ بطور ڈاکٹر ہمیں زندگیاں بچانا ہوتی ہیں مگر اپنے کیرئیر میں پہلی بار مجھے اس خوف کا سامنا ہے کہ بطور ڈاکٹر میں ایک خاموش قاتل ثابت ہوسکتا ہوں۔ میرے پاس اس خوف کو دبا کر کام جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
کورونا کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے دورکو بھول جائیں اور اسے فقط ایک ڈراؤنا خواب سمجھیں، مگر ایسا نہیں ہے، کورونا وائرس ایک نیا سچ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس نے ہم ڈاکٹروں کو ایسا کرنے پر مجبور کر دیا ہے جو ہم نے زندگی بھر نہیں کرنا تھا، اب ہمیں "خدا” بننا پڑ گیا ہے اور لوگوں کی زندگی موت کا فیصلہ بڑے پیمانے پر کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے اس دکھ کا اظہار کیا کہ اب ہمیں یہ اخلاقی فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس کو بچائیں اور کس کو مرنے دیں، کسی ڈاکٹر نے زندگی موت کے متعلق اس بڑی سطح پر آج تک فیصلہ نہیں کیا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ڈاکٹر کو مریضوں کی زندگی موت کا انتخاب کرنے کیلئے مجبور نہیں کرنا چاہئے مگر کورونا وائرس وبا کی وجہ سے اب ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں رہا۔
ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کس کے عزیز کو یہ بتانا آسان نہیں کہ انکی ماں، باپ، اہلیہ یا شوہرکو آئی سی یو اس لیے نہیں بھیج سکتے کہ انکی عمر زیادہ ہے۔
انہوں نے لکھا ہے کہ جب بھی آپ کسی کو کال کرکے بتائیں کہ آپ کا پیارا کورونا وائرس سے مرنے والا ہے تو ان کا سوال ہوتا ہے کہ کیا وہ اپنے عزیز کو مل سکتے ہیں؟
انہوں نے مزید لکھا کہ یوں لگتا ہے جیسے ہم کوئی کمپیوٹر گیم کھیل رہے ہوں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم ایک نئے مشکل لیول میں داخل ہورہے ہوں۔
آخر میں انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ہمارا مستقبل قریب بھی اٹلی جیسا ہونے جا رہاہے۔
