• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, مئی 31, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

کورونا وائرس کے دوران ہمارے پھیپھڑوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

by sohail
مارچ 22, 2020
in تازہ ترین, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ماہر تنفس پروفیسر جان ولسن کے مطابق جو لوگ کورونا وائرس کا شکار ہوتے ہیں ان میں سانس کی نالیوں (respiratory tree) تک انفیکشن پہنچ جانے کے باعث کھانسی اور بخار ہوجاتا ہے۔
انفیکشن کے باعث سانس کی نالی زخمی ہوجاتی ہے جس سے یہ سوج جاتی ہے۔ اس سوجن کے باعث سانس کی نالیوں میں موجود اعصاب میں تکلیف ہوتی ہے جس کے بعد گرد کا ایک ذرہ بھی کھانسی کی وجہ بن سکتا ہے۔

پروفیسر ولسن کے مطابق اگر معاملہ زیادہ بگڑ جائے تو انفیکشن ہوا کی گزرگاہ کے آخر میں موجود گیس ایکسچینج یونٹس تک پہنچ جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ جگہ متاثر ہوجائیں تو یہ ہمارے پھیپھروں کی نچلی جگہ پر موجود ہوا کی تھیلیوں میں سوزش والا مادہ انڈیل دیتے ہیں۔

اس کے نتیجہ میں اگر ہوا کی تھیلیاں سوج جائیں تو سوزش والا مادہ ان سے نکل کر پھیپھڑوں میں داخل ہوجاتا ہے جس سے مریض کو نمونیا ہوجاتا ہے۔
پروفیسر ولسن کے مطابق کورونا وائرس سے ہونیوالا نمونیا دیگر نمونیا کی نسبت شدید نوعیت کا ہوتا ہے، اس کے باعث چند حصون کے بجائے تمام پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں۔

ماہر تنفس پروفیسر جان وِلسن کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے لگ بھگ تمام شدید کیسز میں نمونیا ہوجا تا ہے۔

ان کے مطابق کورونا وائرس کے شکار افراد کو 4 بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی ایک قسم میں وائرس موجود ہوتا ہے مگر علامات نہیں ہوتیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی دوسری قسم میں سانس کی نالی کے اوپری حصہ میں انفیکشن ہوجاتا ہے۔ ایسے متاثرہ افراد کو کھانسی اور بخار ہوتا ہے اور انہیں سردرد جیسی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

پروفیسر ولسن کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ سب سے بڑے گروہ میں وہ مریض آتے ہیں جن میں فلو جیسی علامات ہوں اور اس کے باعث وہ کام کرنے کے قابل نہ ہوں، ان مریضوں کو اسپتال کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

پروفیسر ولسن کے مطابق کورونا وائرس کے شکار چوتھے گروپ میں بیماری شدت اختیار کر سکتی ہے جس میں نمونیا ہوسکتا ہے۔

Tags: کورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post

مودی کا کرفیو کا اعلان، عمران خان ہچکچاہٹ کا شکار

پاکستان سے فلسطین کے شہرغزہ پہنچنے دو شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی

پاکستان سے فلسطین کے شہرغزہ پہنچنے والے دو شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی

صحافی برادری کس طرح سے کورونا وائرس کا مقابلہ کر رہی ہے؟

صحافی برادری کس طرح سے کورونا وائرس کا مقابلہ کر رہی ہے؟

کورونا وائرس : پنجاب نے مدد کے لیے فوج طلب کر لی

کورونا وائرس : پنجاب نے مدد کے لیے فوج طلب کر لی

کوریا نے 10 منٹ میں کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والی کٹ تیار کرلی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In