ماہر تنفس پروفیسر جان ولسن کے مطابق جو لوگ کورونا وائرس کا شکار ہوتے ہیں ان میں سانس کی نالیوں (respiratory tree) تک انفیکشن پہنچ جانے کے باعث کھانسی اور بخار ہوجاتا ہے۔
انفیکشن کے باعث سانس کی نالی زخمی ہوجاتی ہے جس سے یہ سوج جاتی ہے۔ اس سوجن کے باعث سانس کی نالیوں میں موجود اعصاب میں تکلیف ہوتی ہے جس کے بعد گرد کا ایک ذرہ بھی کھانسی کی وجہ بن سکتا ہے۔
پروفیسر ولسن کے مطابق اگر معاملہ زیادہ بگڑ جائے تو انفیکشن ہوا کی گزرگاہ کے آخر میں موجود گیس ایکسچینج یونٹس تک پہنچ جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ جگہ متاثر ہوجائیں تو یہ ہمارے پھیپھروں کی نچلی جگہ پر موجود ہوا کی تھیلیوں میں سوزش والا مادہ انڈیل دیتے ہیں۔
اس کے نتیجہ میں اگر ہوا کی تھیلیاں سوج جائیں تو سوزش والا مادہ ان سے نکل کر پھیپھڑوں میں داخل ہوجاتا ہے جس سے مریض کو نمونیا ہوجاتا ہے۔
پروفیسر ولسن کے مطابق کورونا وائرس سے ہونیوالا نمونیا دیگر نمونیا کی نسبت شدید نوعیت کا ہوتا ہے، اس کے باعث چند حصون کے بجائے تمام پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں۔
ماہر تنفس پروفیسر جان وِلسن کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے لگ بھگ تمام شدید کیسز میں نمونیا ہوجا تا ہے۔
ان کے مطابق کورونا وائرس کے شکار افراد کو 4 بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی ایک قسم میں وائرس موجود ہوتا ہے مگر علامات نہیں ہوتیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی دوسری قسم میں سانس کی نالی کے اوپری حصہ میں انفیکشن ہوجاتا ہے۔ ایسے متاثرہ افراد کو کھانسی اور بخار ہوتا ہے اور انہیں سردرد جیسی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
پروفیسر ولسن کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ سب سے بڑے گروہ میں وہ مریض آتے ہیں جن میں فلو جیسی علامات ہوں اور اس کے باعث وہ کام کرنے کے قابل نہ ہوں، ان مریضوں کو اسپتال کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
پروفیسر ولسن کے مطابق کورونا وائرس کے شکار چوتھے گروپ میں بیماری شدت اختیار کر سکتی ہے جس میں نمونیا ہوسکتا ہے۔
