رپورٹ : رافعہ زاہد
گنڈاپور جو کہتے ہیں اور جو کرتے ہیں وہ کس کی اجازت سے کرتے ہیں؟اڈیالہ جیل میں عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی غیر معمولی ملاقات پر وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ ردعمل منظر عام پر آگیا۔
وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی نیوز پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صبح 7 بجے ملاقات ہونا معمول سے ہٹ کر ہے، یہ ملاقات کسی کے کروانے سے ہی ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گنڈاپور جو کہتے ہیں اور جو کرتے ہیں ہمیں معلوم ہے وہ اجازت سے کرتے ہیں۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جیل کے حوالے سے پی ٹی آئی کا سارا پراپیگنڈہ زمین پر آ گیا ہے۔
پروگرام میں جب پی ٹی آئی کے بیرسٹرسیف سے جلسہ کی منسوخی اور عمران خان سے غیر معمولی ملاقات سے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے بتایا کہ جلسہ منسوخی کیلئے عمران خان نےنہیں بلایاتھا بلکہ مرکزی قیادت نےحکومت سےتصادم کےخدشےپرعمران خان سےمشاورت کافیصلہ کیااورصبح بیرسٹرگوہراوراعظم سواتی ملاقات کیلئے گئے۔علیمہ خان کوکسی چڑیانےبتایاہےکہ اسٹبلشمنٹ نےملاقات کروائی تو اسکاجواب وہ خود دیں گی۔
پروگرام میں گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقات سے متعلق بھی سوال ہوا جس پر گفتگو کرتے ہوئے راناثنا اللہ نے جواب دِیا کہ بلاول کی وزیراعظم سےملاقات خوشگواررہی۔ متعدد معاملات طے ہوگئے ہیں، بقیہ معاملات پر اگلے ہفتے ملاقات ہوگی۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان ایک ملاقات اتوار کو گورنر ہاؤس میں ہوگی۔





