لاہور سے فرار ہونے والے کورونا کے مریض کو پنجاب پولیس نے خوشاب کے قریب پکڑ کر اسپتال منتقل کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق پولیس کو علم ہوا کہ کورونا کا ایک مریض لاہور سے فرار ہو گیا ہے جس کے بعد پنجاب پولیس اور انتظامیہ حرکت میں آ گئی اور طویل کوششوں کے بعد اسے خوشاب پل پر بس میں تلاش کر لیا گیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے مریض کی آن لائن ٹکٹ کے اندراج کی وجہ سے نشاندہی ممکن ہوئی جس کے بعد اسے ڈھونڈنا آسان ہو گیا۔
اس حوالے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لاہور پولیس نے ناکہ بندی کر کے خوشاب پل پر ایک نجی بس سروس سے ایک شخص کو اتار کر ایمبولینس میں سوار کرا دیا۔
کورونا وائرس کے خلاف مزاحیہ نظم گانے والے سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے
کورونا وبا : جاپان کے شہریوں کا حکومتی احکامات ماننے سے انکار
کورونا وائرس کی شکار برطانیہ کی پاکستانی نژاد نرس اریمہ نسرین کی کہانی
بس سے اترنے والے شخص نے چہرے کو ماسک سے ڈھانپا ہوا تھا جبکہ پولیس اہلکار بھی چہرے پر ماسک لگائے ہوئے تھے، ایک شخص نے، جو مکمل حفاظتی لباس میں تھا، مریض کو ایمبولینس پر بٹھایا۔
اس دوران 911 کے اہلکار اور پولیس کا عملہ دور رہ کر اس پورے واقعہ کی ویڈیو ریکارڈ کرتا رہا۔
کورونا کے مریض کو تو پولیس اور انتظامیہ اپنے ساتھ لے گئی مگر تشویش کی بات یہ ہے کہ بس میں بیٹھے درجنوں مسافروں میں سے کوئی بھی اس کا مرض کا شکار ہو سکتا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کہ فرار ہونے والا شخص مرض سے آگاہ ہونے اور اسے پھیلانے کا باعث بننے کے شعور کے باوجود فرار کیوں ہوا؟
یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ اگر وہ اپنے گھر پہنچ جاتا تو مزید کتنے افراد کو اس وبائی مرض سے دوچار کر سکتا تھا۔
حکومت کی بار بار اپیل کے باوجود ابھی تک عوام نے حفاظتی اقدامات کی پرواہ نہیں کی اور کورونا وائرس کے حوالے سے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک بڑے طبقے کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ دیگر کئی ممالک کی طرح پاکستانی حکومت بھی ملک بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کرے اور اس پر سختی سے عمل کرائے۔
اٹلی کی مثال سب کے سامنے ہے جہاں حکومت کی ہچکچاہٹ اور عوامی سطح پر حفاظتی اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے یہ ملک کورونا وائرس سے شدید متاثر ہو چکا ہے اور وہاں اموات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
