اسلام آباد کے علاقہ بارہ کہو کے اے ایس پی حمزہ امان اللہ نے تبلیغی جماعت کے 6افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کر دی ہے۔
اسلام آباد : اے ایس پی حمزہ امان نے بتایا کہ کوٹ ہتھیال میں 6 غیر ملکیوں سمیت 13 لوگوں کا ایک گروہ تبلیغ پرتھا، جماعت میں شامل پہلے ایک غیرملکی میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد جماعت میں شامل پانچ مزید افراد کا ٹیسٹ لیا گیا جو مثبت آیا۔
انہوں نے بتایا کہ جماعت میں شریک باقی 6 افراد کے بھی ٹیسٹ کرائے جا رہے ہیں، ان کیسز کی وجہ سے کوٹ ہتھیال کے خارجی و داخلی راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے اور تمام علاقے کو قرنطینہ میں بدل دیا گیا ہے۔
اے ایس پی کے مطابق اب ضلعی انتظامیہ اہل علاقہ کے ٹیسٹ کرائے گی، علاقے میں دودھ، کریانہ، بیکری کے علاوہ باقی دکانیں بند کرا دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ضلعی انتظامیہ کے احکامات کا انتظار ہے جن کے آنے کے بعد بارہ کہو بازار بھی بند کر دیں گے۔
پاکستانی حکومت بھی اٹلی کی بھیانک غلطیاں دہرا رہی ہے ؟ قسمت خان کی ریسرچ
کورونا وائرس کا پھیلاؤ، کینیڈا کے شہر وینکور سے آنکھوں دیکھا حال
کورونا وائرس عالمی سطح پر کیا تبدیلیاںلائے گا؟ دنیا کے 12 معروف دانشوروں کی پیش گوئیاں
یاد رہے کہ اسلامی ملک ملائیشیا میں بھی ایک مذہبی اجتماع کے ذریعے کورونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوا تھا، ملائیشیاء کے معتبر جریدے ’’سٹریٹس ٹائمز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق حکومت کوالالمپور کے نزدیک ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کرنیوالے ہزاروں افراد کا سراغ لگا رہی ہے جنہیں 841 کورونا وائرس کیسز سے جوڑا جارہا ہے۔
اجتماع کے آرگنائزر نے اخبار کو بتایا کہ ملائیشیا میں ایک بڑے اجتماع میں شرکت کرنیوالے ہزاروں عقیدت مندوں کو تلاش کرنے میں وہ اداروں کی مدد کر رہے ہیں۔
پورے ملائیشیاء میں رپورٹ ہونیوالے 1183 کیسز میں سے کوالا لمپور کے نزدیک ایک مسجد میں منعقد ہونیوالے چار روزہ اجتماع کے شرکاء کا حصہ 60 فیصد بتایا جاتا ہے۔
ملائیشیا میں اب تک 15 افراد کی کورونا وائرس کے باعث موت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ جنوب مشرقی ایشیاء میں کورونا وائرس سے متاثر ہونیوالوں کی تعداد 3 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
ملائیشیا کی وزارت صحت کے حکام نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ 27 فروری سے یکم مارچ تک مذہبی اجتماع میں شرکت کرنیوالے افراد کی سکریننگ کے بعد اگلے ہفتے کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
مذہبی اجتماع کے آرگنائزر نے بتایا کہ اس اجتماع میں شریک ساڑھے بارہ ہزار افراد میں ایک بڑی تعداد غیر ملکیوں کی تھی جبکہ 200 روہنگیا مہاجرین بھی اس میں شامل تھے، تاہم آزاد ذرائع بتاتے ہیں کہ اجتماع میں 16 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔
مختلف ممالک مذہبی اجتماعات کو روکنے کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہیں، گزشتہ روز کراچی میں حکومت کی جانب سے مسجد میں نماز کی ادائیگی سے روکنے پر شہریوں نے مسجد کے باہر صفیں بنا کر نمازادا کی ۔
وزارت صحت کے حکام نے خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ حکومتی ہدایت پر عمل نہ کیا گیا تو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
