کورونا وائرس کے پیش نظر حکومت کے لاک ڈاؤن کے فیصلے کے بعد پولیس نے اختیارات سے تجاوز شروع کر دیا ہے جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آ گئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کراچی پولیس نے ایک ڈھابا ہوٹل پر بیٹھے لوگوں پرلاٹھیاں برسانا شروع کر دیں اور کھانے کا سامان الٹا دیا۔
ایک اور ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں پولیس نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے شہریوں کو سڑک پر مرغا بنا ڈالا۔
سندھ سے اس قسم کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں پولیس نے شہریوں کو شائستہ انداز میں روکنے کے بجائے اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کیا اور انہیں جسمانی سزائیں دینا شروع کر دیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے احکامات ملتے ہی پولیس نے خود ہی عوامی عدالتیں لگانا شروع کر دی ہیں جن میں موقع پر لوگوں کو سزا سنانا اور اس پر عمل کرنا شامل ہے جو کہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیو کے آنے کے بعد عوامی حلقے پولیس پر شدید تنقید کر رہے ہیں اور اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان حرکتوں کا الٹا اثر ہو سکتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین میں سے کئی نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے طاقت کا بے محابہ استعمال قانون کا احترام کم کر رہا ہے اور وہ لوگ جو پہلے ہی کورونا وائرس سے خوفزدہ ہیں، مزید خوف و ہراس میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پولیس اہلکاروں کو ہدایات دے کہ وہ قانون سے تجاوز نہ کریں اور شہریوں کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔

کون سا قانون اور کون سی عدالت؟ افسوس ہے کہ موت سامنے کھڑی ہے اور ہم آئیڈیل سسٹم کا رونا رو رہے ہیں۔ کیا عوام پاگل ہیں جو موٹر بائیکس پر غول در فُول گھومتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایسا نہ ہو تو بہتر ہے لیکن جہاں قابو پایا گیا اور جہاں قابو پاتے پاتے سینکڑوں لوگ مر گے ان کے درمیان یہ سو کالڈ قوانین کی پاسداری کا ہی فرق ہے چین میں اور اٹلی سپین میں عوام کی عزت نفس اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری نے سینکڑوں جیتے جاگتے انسانوں کو ہمیشہ کے سلا دیا۔ آہ سے درخواست ہے کہ حالات اور انسانی عادات کو مد نظر رکھتے ہو مطالبہ کیجیے کہ ڈنڈے ماریطانیہ جاے یا عدالت کھلوا کر مجسٹریٹ صاحب سے ریمانڈ لیں اور کون سی جیل میں رکھیں۔