عمار نے دور سے مجھے دیکھا،اس کی آنکھوں میں چمک آئی ۔ اس نے اجازت طلب نظروں سے اپنی ٹیچر کی طر ف دیکھا ۔ ٹیچر نے مسکرا کر اس کے لیے دروازہ کھول دیا ۔ وہ میری جانب بڑھا اور میں نے عادتاً اپنی بانہیں پھیلا دیں ،لیکن اس سے پہلے کہ وہ میرے قریب پہنچتا ،اس نے ایک دم سے رُک کر شکایت آمیز لہجے میں کہا ’’یو فارگیٹ ‘‘ میں نے کہا ’’سوری‘‘پھر میرے چہرے کی شرمندگی دیکھ کر اس نے کہا ’’اوکے‘‘اور دور سے اپنی کہنی بلند کی اور جواباً میں نے بھی اپنی کہنی اس کی کہنی سے دور سے چھونے کے انداز میں بلند کی ۔
یہ ہمارا وباء کے دنوں میں نیا مصافحہ کا انداز ہے جو سکولوں میں ٹیچرز اور بچے پریکٹس کر رہے ہیں ۔ چار سالہ عمار کو کچھ بھی نیا سکھانے کے لیے ہر معصوم بچے کی طرح تھوڑی محنت اور تھوڑی تعریف درکار ہوتی ہے ۔ اس کے بعد ذرا سی غلطی پر بس ایک ہی لفظ کہنا پڑ تا ہے ’’یو فارگیٹ ‘‘ اور وہ فوراً سمجھ کر ’’سوری ‘‘کہتا ہے ۔
میں سوچتا ہوں کہ ہمارے معصوم ذہن یہ سب سیکھ سکتے ہیں اور بڑوں کے کہے پر عمل کرسکتے ہیں تو ایسا کیا ہے کہ ہم بڑے وہ سب نہیں کر سکتے ۔ وجہ شاید یہ ہے کہ ہم اپنی ذات کے حصار میں قید ہو کر اپنی اصلاح کو ممکن بنانے سے آزاد ہوچکے ہیں ۔ پوری دنیا کے منظر نامے پر ایک وباء ایسی پھیلی کہ دنیا کی سپر پاور سے لے کر چھوٹے ممالک تک اس کی لپیٹ میں آگئے ۔ کورونا وائرس ایک ایسا ان دیکھا دشمن ہے جو ہر جگہ اپنی موجودگی کا اظہار انسانی اموات کی شکل میں کررہا ہے ۔
اپنی ذات کے حصار میں قید خود پرست لیڈر بھی اپنے چہرے پر اڑتی ہوائیاں نہیں چھپا پارہے ۔ ان میں سے ایک ڈونلڈ ٹرمپ جس نے چند روز پہلے کوروناوائرس کو میڈیا اور چند صحافیوں کی پھیلائی ہوئی فیک نیوز سمجھا تھا اب سنجیدگی اور فکر مندی سے اس سے بچاؤ کے اقدامات کی طرف توجہ دے رہا ہے ۔ اسی طرح چین ،اٹلی ، سپین ،یورپ سے سبق نہ سیکھنے والے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی اسے اس وقت تک سنجیدگی سے نہیں لیا جب تک اس خطرے نے برطانیہ میں کئی زندگیوں کے چراغ گل نہیں کر دیے ۔
برطانیہ نے اپنی معیشت بچانے کے چکر میں دیر کردی اور لاک ڈاؤن سے گریز کیا ۔ سکول،کالج بند کرنے میں بہت دیر کی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر ،نرسیں اور دیگر عملے کے افراد اپنے بچوں کے ساتھ رہنے کے سبب ڈیوٹی پر نہیں آسکتے تھے ۔ اس کے علاوہ دیگر مراکز کی بندش بھی لوگوں کے لیے بے چینی کا سبب بن سکتی تھی لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ بچوں کے آپس کے میل جول کی وجہ سے مرض کا پھیلاءو ان کے گھروں تک پہنچ رہا ہے ۔
برطانیہ نے بھی لوگوں کو بے چینی سے بچانے کی خاطر لاک ڈاؤن سے اجتناب کیا اور مشکل وقت کے لیے کوئی تیاری نہ کی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب لوگوں کو آنے والے مشکل دنوں کا احساس ہوا تو انہوں نے گھروں میں خوراک کا ذخیرہ کرنے کی غرض سے صرف ایک ہفتے میں ایک ارب پاؤنڈ سے زائد خوراک پر خرچ کر دیے ۔ اس اضافی خوراک کی خریداری سے تمام بڑی سپر مارکیٹس اور گروسری سٹورز مکمل خالی ہوگئے ۔ اس کا سب سے زیادہ اثر ان افراد پر پڑا جو کم وسیلہ ڈیلی ویجزڈیوٹی پر ہونے کے سبب خریداری نہ کرسکے ۔ لیکن جب ایک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں کام کرنیوالی نرس نے اپنی ویڈیو میں روتے ہوئے لوگوں کو شرم دلائی تو اس کی میڈیا کوریج کے بعد اعلیٰ حکام اور ایڈوائزرز نے پریس کانفرنس میں عوام سے اپیل کی کہ وہ احتیاط کریں ،سپر مارکیٹس نے فوری طور پر اعلان کر دیا کہ خوراک کے حصول کے لیے ہسپتالوں میں کام کرنیوالے عملے اور بزرگوں کے لیے علیحدہ سے وقت مقرر کر دیا ہے ۔
برطانیہ کے میڈیا نے اس مشکل وقت میں بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا شروع کیا ہے ۔ اخبارات نے آگاہی کی مہم میں اپنا حصہ ڈالا ہے تو ساتھ ہی ٹی وی نے اپنے معمول کے پروگراموں کی بجائے عوام کو وائرس کے حوالے سے حکومتی پیش رفت،بچاؤ کی تدابیر اور آگاہی کے حوالے سے خصوصی پروگرام شروع کیے ہیں ۔ خبروں کے ساتھ ساتھ آن لائن ڈاکٹرز اور دیگر ماہر ین سوال و جواب کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور لوگ ان سے اپنی پریشانیوں اور ممکنہ حل پر بات کرسکتے ہیں ۔
گزشتہ کئی ہفتوں میں سکولوں میں ٹیچرز نے نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو ہاتھ دھونے سے لے کر دیگر حفاظتی تدابیر کے حوالے سے اتنا کچھ سکھا دیا ہے کہ اب بچے نہ صرف خود اپنی احتیاط میں لگے رہتے ہیں بلکہ بڑوں کو بھی یقین دہانی کراتے ہیں ۔ یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہوسکا ہے کہ دنیا نے اپنی غلطیوں سے بہت جلد یا بدیر سیکھ لیا ہے کہ خبر یا پیغام لانے والے پیغام رساں کو ماردینے کے بجائے اس کے پیغام کو غور سے سنا جائے ،سمجھا جائے کیونکہ کچھ پیغام رسانوں کے خاموش کرادینے سے نقصان ان کا اپنا ہوگا جو اپنی ذات کے حصار میں قید ہیں اور ان کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ جن انسانوں کا آقا بننے کا شوق ان کے سروں میں سمایا تھا جب وہ انسان ہی نہیں رہیں گے تو وہ حکومت کس پر کریں گے؟
