یورپ کے ایک بڑے طبی ماہر نے دعویٰ کیا ہے کہ چین میں کورونا وائرس کی وبا منظرعام پر آنے سے کئی ہفتے قبل شمالی اٹلی میں ڈاکٹروں نے ”عجیب نمونیا“ کے مریض دیکھے تھے۔
امریکی ریڈیو کو انٹرویو میں اٹلی کے طبی ماہرجیوسیپی ریمزی نے کہا ہے کہ اٹلی کے ڈاکٹروں نے مریضوں میں عجیب و غریب اور شدید نمونیا کے کیسز گزشتہ برس نومبر میں دیکھے تھے۔
یورپ کے بڑے طبی ماہر جیوسیپی ریمزی میلان میں ماریو نیگری انسٹیٹیوٹ برائے فارماکولوجیکل ریسرچ کے ڈائریکٹرہیں۔
ان کے مطابق چین میں کورونا وائرس کی تشخیص سے بہت قبل شمالی اٹلی میں سامنے آنے والا یہ نمونیا بڑی عمر کے افراد میں شدید نوعیت کا تھا۔
کورونا وائرس کی شکار برطانیہ کی پاکستانی نژاد نرس اریمہ نسرین کی کہانی
کورونا وائرس عالمی سطح پر کیا تبدیلیاںلائے گا؟ دنیا کے 12 معروف دانشوروں کی پیش گوئیاں
پاکستانی حکومت بھی اٹلی کی بھیانک غلطیاں دہرا رہی ہے ؟ قسمت خان کی ریسرچ
سیپی ریمزی کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے اٹلی میں نومبر کے دوران عجیب نمونیا دیکھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ کورونا وائرس چین میں تشخیص ہونے سے پہلے شمالی اٹلی میں پھیل رہا تھا۔
یورپ کے طبی ماہر کا بیان اس وقت آیا ہے جب سائنسدان کورونا وائرس کے آغاز بارے تحقیق میں لگے ہیں۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں کورونا وائرس کا پہلا کیس نومبر کے وسط میں آیا ہوگا مگر چین کی جانب سے اس بیان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یاد رہے کورونا وائرس وبا کی پہلی بار تشخیص دسمبرمیں چین کے شہر ووہان میں ہوئی تھی اور اٹلی نے کورونا وائرس کا پہلا کیس 26جنوری2020ء کو رپورٹ کیا تھا۔ اٹلی میں کورونا وائرس سے ساڑھے5ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔
