جنوبی کوریا میں مریضہ نمبر 31 کے نام سے مشہور کورونا وائرس کی شکار خاتون پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی لاپرواہی سے پانچ ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس پھیلایا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیلنے کے بعد صحت سے متعلقہ حکام نے مریضہ نمبر 31 کے معمولات چیک کئے تو وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ اس نے ایک ہزار سے زائد افراد کے ساتھ چرچ میں مذہبی رسومات میں حصہ لیا تھا۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق وہ شِن چیونجی چرچ کی رکن ہیں اور اس چرچ میں کورونا وائرس کی شکار اس خاتون کی ہزاروں افراد کے ساتھ شرکت کے بعد کورونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیلی۔
اسلام آباد میں تبلیغی جماعت کے 6 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی
کورونا کے شکار اٹلی کے 72 سالہ پادری نے قربانی کی لازوال داستان رقم کر دی
کورونا کا مریض لاہور سے فرار ہونے کے بعد خوشاب میں پولیس کے ہتھے چڑھ گیا
سیول میٹروپولیٹن حکومت نے اس مذہبی اجتماع کے خلاف قتل کی درخواست بھی دائر کر دی ہے۔
جاپان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کورونا وائرس کی اس مریضہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پرہجوم علاقوں میں بہت زیادہ وقت صرف کیا جس کی وجہ سے وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔
جنوبی کوریا کے عوام کی جانب سے چرچ پر الزام لگایا گیا کہ چرچ نے مذہبی اجتماع، جس میں مریضہ نمبر 31 بھی شریک تھیں، کے شرکاء کی تفصیلات حکام سے چھپائیں تاہم چرچ کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

عوامی تنقید کے بعد شن چیونجی چرچ کے بانی ’لی مین‘ کی جانب سے کورونا وائرس پھیلنے کے معاملہ پر عوام سے معافی مانگی گئی۔
