برازیل کے صدر جیئر بولسونارو نے کورونا وائرس کو’معمولی زکام‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے سیاسی مخالفین اور میڈیا اس کے خطرات سے متعلق شہریوں سے چال چل رہے ہیں۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کورونا وائرس کے خطرات کو کم ظاہر کرتے ہوئے برازیل کی ان ریاستوں کے گورنرز پر تنقید کی جنہوں نے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور سماجی دوری اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ انہیں گھروں پر رہنے کا حکم دینے والے گورنرز اور میڈیا کے ایک بڑے حصے نے ان کے ساتھ چال چلی۔
کورونا وائرس کا آغاز چین سے نہیں اٹلی سے ہوا؟ نئے حیران کن حقائق منظرعام پر
کورونا وبا : جاپان کے شہریوں کا حکومتی احکامات ماننے سے انکار
برازیلی صدر کے ہمراہ امریکہ کے دورے پر جانیوالے وفد کے 14 اراکین میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی تھی۔
دوسری جانب برازیل کے لاکھوں شہریوں نے اپنے گھروں کی کھڑکیوں سے برتن بجا کر برازیل کے صدر کی کوروناوائرس کے خلاف غیر سنجیدہ اور ناقص پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے ان سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا۔
برازیلی صدر نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برتن بجا کر مظاہرے کرنیوالے افراد کو میڈیا کی پشت پناہی حاصل ہے اور یہ مظاہرے انہیں نکالے جانے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں
ان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برازیل میں کورونا وائرس کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
برازیل میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1924جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 34 ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ اس وقت تک دنیا بھر میں کورونا وائرس سے 15 ہزار کے لگ بھگ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
