آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ فیصل آباد کا رہائشی 22 سالہ عمر میٹرک پاس طالب علم ہے جو سوشل میڈیا پر پروموشن کے ذریعے پیسے کماتا ہے۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ملزم عمر کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے اور ان کے والد ایک ریٹائر سرکاری ملازم ہیں۔ ملزم ثناء یوسف سے بار بار رابطہ کرتا رہا لیکن ثناء یوسف انکار کرتی رہی۔
اس سے قبل ملزم ثناء یوسف کے گھر آیا لیکن آٹھ گھنٹوں تک انتظار کے باوجود ملاقات نہ ہوسکی۔ 29 مئی کو ثناء کی سالگرہ کے روز بھی ملاقات کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
وقوعہ کے روز ملزم نے ملاقات کی کوشش کی لیکن ناکامی کی صورت میں اس نے گھر میں گھسنے کی منصوبہ بندی بنائی اور پھر یہ وقوعہ پیش آیا۔ آئی جی اسلام آباد کے مطابق ملزم ثناء یوسف سے دوستی کرنا چاہتا تھا جبکہ وہ انکار کرتی رہی۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے ڈی آئی جی اور ایس ایس پیز کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ثناء یوسف قتل کیس سے اسلام آباد سمیت پورے پاکستان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اور ٹیلنٹڈ ٹک ٹاکر نے سوشل میڈیا کے ذریعے سوسائٹی میں نام بنایا، 17 سال کی عمر میں ثناء یوسف کی بات کو سوسائٹی میں سنا جاتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کل ثمبل تھانہ کی حدود میں نوجوان ٹک ٹاکر کو قتل کیا گیا، کسی بیٹی کا یوں قتل ہو جانا ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج تھا، اسلام آباد پولیس کے لیے اس مررڈر کے ملزم کو ڈھونڈنا چیلنج تھا۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا کہ ملزم کی تلاش اور پہنچان کرنا بہت ضروری تھا، 17 سال کی نوجوان ٹک ٹاکر کی آواز کو آخر کیوں خاموش کروایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 2 تاریخ کو شام 5 بجے دو گولیاں گھر کے اندر ماری گئیں، نامعلوم ملزم کی تلاش میں 7 ٹیمیں فوری طور پر تشکیل دی گئیں، ٹیمز نے سیلولر ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سرویلنس پر کام کیا۔
ٹیمز کی جانب سے بہت زیادہ چھاپے مارے گئے 113 کیمروں کی فوٹیجز چیک کی گئیں، دوران تفتیش 300 سے زائد کالز کی تفصیلات کا معائنہ کیا گیا۔





