نئی دہلی: بھارت کے ہمالیائی علاقے میں رواں ہفتے آنے والے خطرناک سیلابی ریلے کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی۔
مارہین کا کہنا ہے کہ یہ سیلاب ممکنہ طور پر ایک گلیشیئر (برفانی پہاڑ) کے ٹوٹنے کی وجہ سے آیا۔
منگل کے روز بھارتی ریاست اُتراکھنڈ کے پہاڑی علاقے میں واقع دھرالی نامی قصبے میں اچانک آنے والے سیلاب سے کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن اچانک آنے والے سیلاب نے سب کچھ بہا دیا۔
اس واقعے میں اب تک کم از کم 4 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 50 سے زائد افراد لاپتا ہیں۔
حکومت نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ یہ سیلاب کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے آیا لیکن اب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کلاؤڈ برسٹ اس سیلاب کا صرف آخری محرک تھا اور اصل وجہ گلیشیئر پھٹنا ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے جاری مسلسل بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے سے پانی کے جمع ہونے سے بننے والی جھیل کا ٹوٹ جانا اس سیلاب کی ممکنہ وجہ ہے۔
ماہرین کے مطابق برف کے پگھلنے سے بننے والی ایک جھیل کے کنارے موجود کمزور مٹی یا پتھروں کا بند ٹوٹا جس سے بڑی مقدار میں پانی نیچے کی طرف بہہ نکلا ، اس اچانک اور تیز بہاؤ نے خطرناک سیلاب کی شکل اختیار کر لی جس نے علاقے میں تباہی مچائی۔
بدقسمتی سے ابر آلود موسم کی وجہ سے سیٹلائٹ تصاویر سے یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکا کہ اصل میں سیلابی ریلا کہاں سے آیا۔





