تمکورو : کرناٹک کے تمکورو ضلع کے کورتگیرے علاقے میں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سڑک پر پڑے پلاسٹک کے تھیلوں میں انسانی جسم کے ٹکڑے ملنے پر لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ بعد ازاں پولیس نے انکشاف کیا کہ یہ 42 سالہ لکشمی دیوی کی لاش تھی جسے بے دردی سے ٹکڑوں میں کاٹ کر پھینک دیا گیا تھا۔
7 اگست کی صبح کولالا گاؤں کے پاس کچھ لوگ سڑک کے کنارے سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے وہاں پلاسٹک کے بہت سے تھیلے پڑے ہوئے دیکھے۔ جب انہیں شک ہوا تو انہوں نے تھیلے کھولے تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ تھیلوں میں انسانی جسم کے ٹکڑے تھے۔ پولیس کو فوری اطلاع دی گئی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر آس پاس کے علاقے کی تلاشی لی اور اگلے دن مزید سات تھیلے برآمد کیے، جن میں جسم کے باقی اعضاء اور خاتون کا سر ملا ۔ خاتون کے جسم کے اعضا ملنے کے چار دن بعد پیر کو پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں اس کا داماد، جو پیشے سے ڈینٹسٹ ہے، بھی شامل ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت 42 سالہ لکشمی دیوی کے طور پر ہوئی، جو بیلاوی گاؤں کی رہائشی تھیں۔ ملزمان میں 47 سالہ ڈاکٹر رام چندرایاہ ایس، 38 سالہ ستیش کے این اور 32 سالہ کرن کے ایس شامل ہیں، جو سب کالا ہلی کے رہائشی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ رام چندرایاہ کی شادی دیوی کی بیٹی، 26 سالہ تیجسوی سے ہوئی تھی اور یہ اس کی دوسری شادی تھی۔
پولیس کے مطابق 3 اگست کو دیوی اپنی بیٹی سے ملنے گھر سے نکلی تھیں۔ اگلے دن ان کے شوہر بسوراج نے بیلاوی پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ تین دن بعد، 7 اگست کو، پولیس کو اطلاع ملی کہ چِمپُوگنہلی کے مختلف مقامات سے 19 ٹکڑوں میں ایک لاش ملی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ٹکڑے تھیلوں میں ڈال کر کم از کم 19 مقامات پر پھینکے گئے تھے۔
کوراتگیری پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کیا اور ضلع کے تمام تھانوں کو پیغام بھیجا کہ اگر کوئی گمشدگی کی رپورٹ درج ہوئی ہے تو مطلع کریں۔ اس پر بیلاوی پولیس نے بسوراج کو اطلاع دی، جس کے بعد انہوں نے لاش کی شناخت دیوی کے طور پر کی۔
پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہ ظاہر ہوا کہ لاش کے ٹکڑوں کو پھینکنے کے لیے ایک ماروتی سوزوکی بریزا گاڑی استعمال کی گئی تھی، جو مبینہ طور پر ستیش کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ ایک پولیس افسر نے بتایا، "ہم نے ستیش کو حراست میں لیا تو اس نے سب کچھ بتا دیا۔ ستیش اور کرن کو ہورناد سے گرفتار کیا گیا، جبکہ رام چندرایاہ قتل کے بعد دھرمستھلا میں تھا اور تفتیش کے لیے دستیاب نہیں تھا، جس سے شبہ بڑھ گیا۔”
ضلع تُماکورو کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اشوک کے وی نے بتایا کہ رام چندرایاہ کا الزام تھا کہ اس کی بیوی اپنی ماں کی بات سنتی ہے، جس سے ان کی شادی میں مسائل پیدا ہو رہے تھے۔ "وہ اپنی ساس کی مداخلت سے ناخوش تھا۔ اس کی پہلی شادی ابھی طلاق کے مرحلے میں ہے۔ 2019 میں اس نے تیجسوی سے شادی کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا، "ہم ابھی تک یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملزمان نے لاش کے ٹکڑے کیوں کیے اور انہیں مختلف جگہوں پر کیوں پھینکا۔ ہم نے ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا ہے اور مزید تفتیش کے لیے پولیس ریمانڈ پر لیں گے۔
پولیس کے مطابق ستیش، رام چندرایاہ کا مریض تھا اور اس کے گھر کے قریب رہتا تھا۔ کرن، ستیش کا کزن تھا۔ایس پی اشوک نے اس بات کی تردید کی کہ قتل کا تعلق انسانی قربانی سے ہے۔





