• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, اپریل 20, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

زندگی کی دعا نہ دے

by sohail
مارچ 25, 2020
in کالم
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

(پہلی قسط)

نیویارک کے ہسپتال سے جڑے ایک قریبی عزیز کے ایام تیمارداری کی روداد ۔  یہ کالم صاحبزادہ حسن کی دختر فرخندہ اختر مشعل حسن کی نذر ہے۔

(حرمت و رازداری کی وجہ سے کرداروں کے نام بدل دیے گئے ہیں)

         ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔

 پیر میں شدید تکلیف کا احساس نیویارک کے ایک ٹونی علاقے مین ہٹن کے جم میں ہوا اور تشخیص بھی اسی شہر کے ہسپتال میں ۔  شایان کی عمر اٹھائیس برس، قد پانچ فیٹ آٹھ انچ، بدن کسرتی اور حس مزاحmacabre (دہلا دینے والی) ۔  شایان اعلی تعلیم کے قصد سے بہن کے پاس آئے تھے ۔  دو ڈاکٹروں نے جو تشخیص کی اس سے شایان کو اپنا وجود بے معنی اور موت بہتر لگی ۔

سرجن کا شمار امریکہ کے بڑے ڈاکٹرز میں ہوتا ہے ۔  دیکھنے میں اداکار جارج کلونی جیسے لگتے ہیں ۔  ہسپتال میں گاڑی سے اترتے تو اس مردانہ وجاہت کے پیکر کو دیکھ کو تیماردار اور عملے کی خواتین کی سانس بند ہو جاتی  ۔  نگاہیں جما کر بولتے تو لگتا تھا تپتی جولائی کی دوپہر کسی نے ہینڈ گرنیڈ جیسی بوتل والے پرفیوم Flowerbomb کا ٹھنڈا شاور کھول دیا ۔  مذہباً یہودی ۔  نیویارک کے مضافات میں پانچ ایکٹر کے گھر میں رہتے ہیں ۔  امریکہ میں ایسے لوگوں کو اولڈ منی یعنی پشتینی رئیس کہا جاتا ہے ۔

سرجری کا وقت صبح پانچ بجے کا دیا تھا ۔  یہ وہ وقت ہے جب ہمارے بڑے ڈاکٹر اپنی جاں بہ لب ساس کو دوائی دینے سے انکاری ہوں کجا یہ کہ وہ ہسپتال میں پڑے کسی بے آسرا مریض کے علاج کی خاطر نرم و گرم بستر سے برآمد ہوں ۔

سرجن نے شایان کی والدہ اور ہمشیرہ کو کہہ دیا کہ آپ رات کو ہی آجائیں ۔  کل شدید سردی اور برف باری ہوگی اس لیے رات میں ہسپتال آمد مشکل ہوگی ۔  میں ہسپتال کو ہدایت کردیتا ہوں یہ کمرہ شام ہی سے  آپ کے حوالے کردیں گے ۔  ساڑھے چار بجے صبح ہسپتال کے تھیٹر میں رول اِن ہوگام، میں نے پورا پروسیجر مریض کو سوال جواب کے ساتھ شایان کو آئی پیڈ پر سمجھابھی دیا ہے ۔  بارہ بجے شب سے برفباری کا آغاز ہوگیا ۔

مزید مطالعے سے پہلے آپ شدید سردی، برفباری، مصروف معاشرہ اور انسانیت کے پہلو اوقات کار کے تناظر میں سامنے رکھیں ۔

ماں کو نیند نہیں آتی تھی ۔  سجدہ گاہ اور مصحف دونوں اشک التجا سے بھیگ گئے تھے کہ چار بجے پر بہت خفیف سی دستک ہوئی ۔  کمرے کے باہر بہت خوش پوش، آسودہ حال اور سجل ایک گھرانہ ایک گفٹ تھامے دروازے پر موجود تھا ۔  میاں بیوی اور چنچل و جوان عمر دلنشین بیٹی ۔

علیک سلیک کے بعد والدین بتانے لگے کہ ان کے اکلوتے بیٹے افرایم پر بھی ایسا ہی جان لیوا طبی حملہ ہوا تھا ۔  وہ بفضلہ الہی صحت یاب ہوکر اب کیلی فورنیا یونی ورسٹی میں پڑھ رہا ہے ۔  جب ہمارے بیٹے کا ہم عمر کوئی مریض آتا ہے تو ہسپتال والے ہمیں بتا دیتے ہیں ۔  ہم بطور شکرانہ اور امداد کے طور پر مریض اور اس کے گھرانے کی دھاڑس بندھانے آتے ہیں ۔  مریض کو سمجھاتے بھی ہیں ۔  یہ گفٹ پیک ہماری طرف سے ایک نیا لیپ ٹاپ ہے تاکہ مریض کا ہسپتال میں دوران قیام وقت اچھا گزرے ۔

شایان کی  والدہ نے آنے والے واقفان حال سے پوچھا ”اتنی برفباری ہے، جانے ڈاکٹر پہنچ بھی پائیں گے کہ نہیں؟ لڑکی نے بتایا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہی داخل ہوئے ہیں اور خود سرجری کے انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں ۔  مریض کو تھیٹرمیں لے جانے کی تیاریاں ہورہی ہیں ۔  آپ کی اجازت ہو میرے بھائی سے میں شایان آپ کی بات کرا دوں، اس سے  گھبراہٹ میں کمی آئے گی ۔

سرجری ہوئے تیسرا دن تھا اور مریض بہت اداس، درد بھی بہت تھا ۔  ہسپتال کے قریب ایک پاکستانی ریسٹورنٹ ہے ۔  بیٹے کی فرمائش پر اماں وہاں بریانی اور آئس کریم سوڈا لینے گئی تھیں ۔  امریکہ میں ہرے رنگ کا آئس کریم سوڈا صرف دیسی اسٹورز پر ملتا ہے ۔  مریض کے پاس ان کی غیر موجودگی میں ڈیوٹی والی ایک نرس آئی ۔

نرس کا نام عجوبہ اور تعلق گھانا سے ہے ۔  یہ گھانا میں پیر کے دن پیدا ہونے والی لڑکیوں کا نام ہوتا ہے ۔  جمعرات کو پیدا ہونے والی لڑکیوں کو البتہ وہاں ”ابینا“ کہا جاتا ہے ۔  لڑکے وہاں صرف جمعہ کے دن پیدا ہوتے ہیں اور ہمارے مولوی صاحبان کی طرح خود کو جمعہ خان کہلا کر خوش ہوتے ہیں ۔

درد اور مایوس کے کسی سیاہ بوجھل لمحے میں نوجوان مریض نے آنکھ کھولی ۔  نرس عجوبہ کو دیکھا اور اپنےmacabre  حس مزاح کے تحت ہلکے سے منھ بنا کر کہا ”س سے اچھا تھا کہ میں مرگیا ہوتا” ۔  نرس نے درد کی شدت کا پوچھا تو شایان نے کہا کہ درد تو بہت ہے مگر اب جینے کی کوئی امنگ باقی نہیں رہی ۔  تین سے چار منٹ نرس علاج سے جڑی گفتگو کرتی رہی بغیر کسی رد عمل کے ۔  بس فون سے ایک ٹیکسٹ میسج کیا ۔  تھوڑی دیر میں ایک ٹیم آن کر مریض کو ایک کشادہ کمرے میں لے گئی جہاں ہر طرف دبیز پیڈنگ تھی ۔  نگرانی کے کیمرے بھی لگے تھے ۔  کوئی ایسی چیز نہ تھی کہ جس سے مریض خود کو زخمی کرسکتا ۔  نرس عجوبہ نے Suicide Watch کا الارم دھیمے سے ٹیکسٹ میسج سے بجا دیا تھا جو سسٹم میں لوڈ ہوگیا تھا۔

چند منٹ بعد وہ ڈاکٹر صاحب جو اس وقت اپنے گھر پر تھے ان کا فون آگیا ۔ مریض سے پہلا سوال یہ تھا کہ اسے ان کی مہارت یا معالجے کے بارے میں تو کوئی شک و شائبہ نہیں۔ وہ سمجھاتے رہے کہ ایک پورا نیا سسٹم پنڈلی میں ڈالا گیا ہے۔ جسم کچھ دن بغاوت کرے گا پھر مشرقی گھرانے کی طرح وہ اسے گوری امریکی بہو کی طرح قبول کرلے گا۔ میں آپ کی والدہ کو بھی ایک میسج فون پر کررہا ہوں۔ تمہاری حالت دیکھ اور ہمارا پروسیجر دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی ہوں گی۔ کچھ دیر بعد والدہ کے فون پر جو میسج آیا وہ اس قدر دھاڑس بندھانے والا تھا کہ اسے تبرک کے طور پر تیمارداروں میں بانٹنا چاہیئے ۔

پیغام یوں تھا کہ شایاں کے ساتھ جو کچھ ہوا اسے سڑک کا خاتمہ نہیں شاہراہ کا موڑ جانیں۔ سال         گزرے گا تو آپ سب یہ پیچھے چھوڑے ہوئے منظر کی طرح  عقبی آئینہ نما (Rear View Mirror)  میں دیکھیں گے۔

ہسپتال یہودیوں کے زیر انتظام ہے۔ سن 1857 کے لگ بھگ بنا تھا۔ کچھ دیر بعد نرس عجوبہ کی رفاقت میں سینگال کے روایتی افریقی سفید لباس میں شیخ خالدو آ گئے۔ سینے سے قرآن العظیم کا نسخہ چپکایا ہوا تھا۔ آہستہ سے شایان کو کہنے لگے سسٹر عجوبہ نے بتایا کہ ایک مسلمان نوجوان اللہ کی رحمت سے مایوس ہوگیا ہے۔ میں یہاں ہسپتال کی مسجد میں امام ہوں۔ مسلمان مریضوں کے سرہانے قرآن پڑھتا ہوں۔ یہ میرے فرائض کا حصہ ہے۔

 شایان کی والدہ نے کہا کہ ہمارے ملنے والوں کے ایک مرشد یہاں نیویارک میں ہوتے ہیں۔  پیری مریدی کا بڑا کام ہے۔  وہ کہہ رہے تھے شایان پر کسی رشتہ دار لڑکی نے جادو کرایا۔ میں نے انہیں بتایا کہ شایان تو رو کے روٹی مانگتا ہے۔ اس بے روزگارپر کون جادو کرے گی۔ پڑھ رہا ہے۔ جب کسی کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانا ہوا تو یہ حربہ آسان اور بہترین ہے کہ جن آ گیا ہے، جادو ہوگیا ہے۔

مسکراکر سرجھکایا اور مصحف کھول کر قرآن سے سورہ الرحمان یوں پڑھنے لگے کہ شایان کو بھی شامل کرلیا تھا، اس کی وجہ سے تمہارے تالو کے پپچھے جو Nerves ہیں وہ تمہارے دماغ کو  متحرک  کریں گی، دماغ اچھا محسوس کرے گا تو  Body -Healing جلد ہوگی ۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد اقبال  دیوان کے کالمز  ہمارے  ویب میگزین ’نقار خانے‘ میں ”مومن مبتلا“ کے نام سے شائع ہوں گے۔ آپ چار عدد کتب کے مصنف ہیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا، پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ، دیوار گریہ کے آس پاس۔ پانچویں کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ ان دنوں ادارہ قوسین کے ہاں زیرطبع ہے۔ آپ کے کالمز وجود، دلیل،دیدبان اور مکالمہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔آپ سابق بیورکریٹ ہیں.

sohail

sohail

Next Post
چین کے 21 سالہ کورونا کے مریض کی کہانی، خود اس کی زبانی

چین کے 21 سالہ کورونا مریض ٹائیگر یی کی کہانی، جسے زندگی موت سے واپس چھین لائی

کورونا وائرس: پاکستان میں ایک لاکھ افراد کیلئے صرف ایک وینٹی لیٹر

کورونا وائرس: پاکستان میں ایک لاکھ افراد کیلئے صرف ایک وینٹی لیٹر

اسپین میں ایک ہی رات میں کورونا وائرس سے ریکارڈ 700 سے زائد ہلاکتیں

اسپین میں ایک ہی رات میں کورونا وائرس سے ریکارڈ 700 سے زائد ہلاکتیں

کورونا وائرس کے اثرات، روپے کے مقابلے ڈالر تین روپے مہنگا

کورونا وائرس کے اثرات، روپے کے مقابلے ڈالر تین روپے مہنگا

کورونا وائرس، لاک ڈاؤن کے دوران بھارتی انتظامیہ کے عمدہ انتظامات

کورونا وائرس، لاک ڈاؤن کے دوران بھارتی انتظامیہ کے انتظامات پر ایک رپورٹ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In