• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

چین کے 21 سالہ کورونا مریض ٹائیگر یی کی کہانی، جسے زندگی موت سے واپس چھین لائی

by sohail
مارچ 25, 2020
in تازہ ترین, کورونا وائرس
1
چین کے 21 سالہ کورونا کے مریض کی کہانی، خود اس کی زبانی
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کورونا وائرس کی وبا کے دوران کوئی شخص نزلہ ،بخار اور جسم درد میں کس طرح تمیز کرسکتا ہے کہ یہ موسمی تبدیلی کے اثرات ہیں یا وہ کورونا وائرس کے شکار ہوچکے ہیں؟ ایک فرد کی ہلکی سی لاپرواہی پورے خاندان کو کس طرح بڑی مصیبت میں مبتلا کر سکتی ہے؟

برطانیہ کے معروف جریدے ’دی گارڈین‘ نے چین کے علاقے ووہان کے 21 سالہ ٹائیگر یئ کی کہانی لکھی ہے جسے ہلکے سے بخار نے کورونا وائرس کے جبڑوں میں پھنسا دیا۔ آئیے اس کی زبانی سنتے ہیں۔

بیماری کا آغاز

 17 جنوری کو میرے پٹھوں میں کھچاؤ شروع ہوا ، میں نے سوچا یہ معمولی سا بخار ہے جس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں تھی۔

اب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو یہ بہت خطرناک محسوس ہوتا ہے کیونکہ میرا گھر اور اسکول، جہاں میں جاپانی زبان کی تعلیم حاصل کرتا ہوں، وہ ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں آتے ہیں۔

اپنے پٹھوں کی تکلیف کم کرنے کے لیے میں نے زکام کی کچھ گولیاں استعمال کیں، اب خیال آتا ہے کہ میں نے علاج کے لیے بہترین وقت ضائع کر دیا تھا۔

بیماری اور خود کو الگ تھلگ کرنا

21 جنوری تک میرے جسم میں درد ختم نہیں ہوا تو میں نے اپنے والد کو فون کیا۔ انہوں نے فوری طور پر اصرار کیا کہ مجھے گھر جانا چاہیے۔

اس شام میں نے بخار چیک کیا تو ہلکا سا بخار تھا، میری ماں نے کہا کہ اس رات اگر درجہ حرارت کم نہیں ہوتا تو ہم اسپتال جائیں گے۔ اس رات بخار کم نہ ہوا تو اگلی صبح ہم ’ٹونگ جی ‘ اسپتال چلے گئے۔

وہاں پہنچنے پر میں نے دیکھا کہ پورا اسپتال مریضوں سے بھرا ہوا ہے۔ حقیقی زندگی میں پہلی مرتبہ میں نے ڈاکٹروں کو حفاظتی لباس میں دیکھا جسے اس سے قبل صرف سارس کی دستاویزی فلموں میں دیکھتا تھا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ کچھ غلط ہورہا ہے۔

بہت زیادہ ہجوم کی وجہ سے میں نے ووہان پلمونری اسپتال جانے کا فیصلہ کیا اور یہ درست ثابت ہوا۔ میرے پہنچے کے وقت وہاں ایک بھی مریض نہیں تھا ۔

وہاں میں نے خون اور جگر کے فنکشن ٹیسٹ اور سی ٹی اسکین کرایا جن کے نتائج میں میرے پھیپھڑوں کے نچلے اطراف پیچیدہ سائے دکھائی دیے۔ تب میں نے اسپتال کے ڈاکٹرز کی جانب سے تجویز کردہ ادویات استعمال کرنا شروع کر دیں۔

جب ووہان کو لاک ڈاؤن کیا جا رہا تھا تب میرے والد نے مجھے گھر پر الگ تھلگ کر دیا۔ میں فلمیں دیکھنے کی وجہ سے جانتا تھا کہ ان حالات میں ہ میں گھر پر کھانے پینے کا سامان رکھنا چاہیے۔ ہم بھی نوڈلز کے پیکٹ خرید لائے جو ابھی تک ختم نہیں کیے جا سکے۔

سپر مارکیٹس میں سب کچھ تھا سوائے وائرس سے بچاؤ کے سامان کے جو ہم نہ ڈھونڈ سکے۔ میرے والد ایک ادویہ ساز کمپنی میں کام کرتے ہیں جبکہ میری والد ہ، میڈیکل یونیورسٹی کے ایک سکول میں جاتی ہیں، اس لیے دونوں میری دیکھ بھال کے لیے کافی معاون ثابت ہوئے۔

میں نے 22 جنوری کو خود ساختہ تنہائی اختیار کرلی، میرے کمرے کے ساتھ باتھ ٹب اور واش روم علیحدہ تھا اس لیے مجھے آسانی رہی۔ میری دادی اماں میرے لیے کھانا بناتی تھی اور جب وہ میرے لیے کھانا لاتیں تو ماسک پہنتیں اور ہم ڈسپوزیبل برتن استعمال کرتے رہے۔

بدترین وقت

25 جنوری کو میں نے دوبارہ چیک اپ کرایا کیونکہ مجھے کھانسی ہونے لگی تھی، یہ ایک بہت ہی خشک کھانسی تھی جس میں تھوڑا سا زرد بلغم تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ میرے پورے پھیپھڑوں میں انفیکشن پھیل چکا ہے، اس دوران ڈاکٹر نے مجھے ڈرپ دی جبکہ منہ کے ذریعے لینے والی ادویات میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی۔

اس وقت ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ مجھے وائرس ہونے کا خدشہ ہے لیکن یہ ایک ماہر کمیٹی ہی فیصلہ کرسکتی ہے کہ کون ٹیسٹنگ کٹ استعمال کرسکتا ہے۔

26جنوری تک میرا اٹھنا انتہائی مشکل ہوگیا تھا اور میں سردی سے کانپ رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ مجھے تیز بخار ہورہا ہے، بعد میں رپورٹس میں کہا گیا کہ بیماری کے درمیانی مرحلے میں صورت حال تیزی کے ساتھ بگڑ سکتی ہے۔ لیکن اس شام تک بخارختم ہوگیا تھا۔

21 سے 26 جنوری کا وقت میرے لیے بدترین تھا، اس دوران میں اتنے برے طریقے سے کھانس رہا تھا کہ میرا معدہ دُکھ رہا تھا اور پیٹھ میں شدید تکلیف تھی۔ وہ دن میری زندگی کے بدترین دنوں میں شمار ہوں گے۔

روحانی مدد کی ضرورت

اس تکلیف کے دوران مجھے احساس ہوا کہ شاید مجھے کسی روحانی مدد کی ضرورت ہے، اس دوران میں نے انیمی شو دیکھا اور ان کی معمول، خوشگوار زندگی دیکھ کر میں نے سوچا کہ شاید مجھے اب اس زندگی کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنا پڑے۔

شو کے دوران میں نے دیکھا کہ پہلے حصے میں ہیروئن کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا لیکن آخر کار اسے کامیابی نصیب ہوئی۔

میں نے فروری کے وسط میں جاپانی وائس ایکٹرس ایاکہ اوہاشی کے کنسرٹ میں شرکت کے لیے پرواز لینی تھی، جب میں نے لاک ڈاؤن دیکھا تو خیال آیا سب کچھ کینسل ہوجائے گا۔

میں نے گزشتہ سال ایاکہ اوہاشی کی سولو پرفارمنس دیکھی تھی جس کے بعد میں نے وائس ایکٹر بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ شو دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ اگر میں اس کے اگلے کنسرٹ کو زندہ دیکھنا چاہتا ہوں تو مجھے کچھ کرنا ہوگا۔

دوا کے ساتھ ساتھ اس بات نے میرا حوصلہ بڑھایا جس سے مجھے کچھ راحت ملی، میں نے اس ہفتے دو بار خواب دیکھا تھا کہ میں اس سے ملا ہوں ۔

28 جنوری کو دوبارہ چیک اپ کرایا جس میں بتایا گیا کہ میرے دونوں پھیپھڑوں میں بہتری آئی ہے۔

ڈاکٹروں نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرانے کے لیے اہل ہوں۔

وائرس پھیل گیا

اس دوران 29جنوری کو میرے بڑے بھائی کو بخار اور کھانسی ہونے لگی، اس کی ٹیسٹ رپورٹ میں پھیپھڑوں کے اندر شیشے جیسے چھوٹے چھوٹے نشان سامنے آئے، اسے بھی ایک مشتبہ کیس تسلیم کر لیا گیا۔

اسی دن میری دادی کو بھی بخار ہوا تھا۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میری ٹیسٹ رپورٹ پازیٹو تھی اور میں باضابطہ تصدیق شدہ کیس تھا۔ اسپتال کی جانب سے مجھے پانچ دن کے لیے اینٹی ایچ آئی وی دوا مفت دی گئی، ساتھ میرے خاندان نے بھی تجویز کردہ ادویات کا استعمال شروع کرد یا۔

میری بہتر حالت اور اسپتال میں محدود بستروں کی وجہ سے مجھے بتایا گیا کہ میں گھرجاؤں اور خود کو الگ تھلگ کر دوں، اس طرح میری تھراپی اختتام پذیر ہوئی۔

2 فروری کو میرے بھائی کے دوبارہ چیک اپ کے دوران اس کا ٹیسٹ پازیٹو آیا، میری دادی اماں کو چار دن بخار رہا لیکن وہ صحت یاب ہوگئیں، انہوں نے ٹیسٹ کرایا نہ ہی میری والدہ نے۔ لیکن اس دوران سب نے ادویات کا استعمال جاری رکھا۔ میرا بھائی بھی صحت یاب ہوچکا ہے اس کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ اب نیگٹو آیا ہے۔

4 فروری کو سی ٹی اسکین کے رزلٹ سے سامنے آیا کہ میرے پھیپھڑوں میں بہتری آ رہی ہے اور میری کھانسی رک گئی۔ اس دوران مجھے ایک اور کورونا وائرس ٹیسٹ تجویز کیا گیا اور ادویات بھی دی گئیں۔

میرے اگلے دن کے ٹیسٹ نیگٹو آئے لیکن ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق میرے لیے ایک اور ٹیسٹ تجویز کیا گیا۔ 7فروری کا دوبارو رزلٹ بھی نیگٹو آیا اور اس طرح مجھے کورونا وائرس سے صحت یاب مریض تسلیم کر لیا گیا۔

Tags: چین میں‌کورونا وائرسکورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post
کورونا وائرس: پاکستان میں ایک لاکھ افراد کیلئے صرف ایک وینٹی لیٹر

کورونا وائرس: پاکستان میں ایک لاکھ افراد کیلئے صرف ایک وینٹی لیٹر

اسپین میں ایک ہی رات میں کورونا وائرس سے ریکارڈ 700 سے زائد ہلاکتیں

اسپین میں ایک ہی رات میں کورونا وائرس سے ریکارڈ 700 سے زائد ہلاکتیں

کورونا وائرس کے اثرات، روپے کے مقابلے ڈالر تین روپے مہنگا

کورونا وائرس کے اثرات، روپے کے مقابلے ڈالر تین روپے مہنگا

کورونا وائرس، لاک ڈاؤن کے دوران بھارتی انتظامیہ کے عمدہ انتظامات

کورونا وائرس، لاک ڈاؤن کے دوران بھارتی انتظامیہ کے انتظامات پر ایک رپورٹ

بھارت میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر مزاحیہ سزا کی ویڈیو وائرل

بھارت میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر مزاحیہ سزا کی ویڈیو وائرل

Comments 1

  1. Aman says:
    6 سال ago

    Informative post by rauf klasra

    جواب دیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In