کورونا وائرس وبا کے دوران جتنا ہوسکے احتیاط کریں اورسماجی دوری اختیار کریں کیونکہ 21 کروڑ سے زائد آبادی کے ملک پاکستان میں اس وقت صرف 2200 وینٹی لیٹرز موجود ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک لاکھ افراد کیلئے صرف ایک وینٹی لیٹر کی سہولت موجود ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق اس وقت پاکستان بھر میں موجود 2200 وینٹی لیٹرز میں کورونا مریضوں کیلئے صرف 1100 دستیاب ہوں گے، باقی پہلے سے آئی سی یو میں موجود افراد کی جان بچانے کے لیے وقف ہیں۔
تاہم انہوں نے بتایا کہ آنیوالے چند ماہ میں وہ مزید 10 ہزار وینٹی لیٹرز خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ڈان نیوز میں شائع ہونیوالی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اگر کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یکم جون تک اس سے متاثرہ افراد کی تعداد دو کروڑ تک جا سکتی ہے۔
وینٹی لیٹرز: بنیادی ہتھیار
وینٹی لیٹرز وہ مشینیں ہیں جو ان مریضوں کو سانس لینے میں مدد کرتی ہیں جن کا نظام تنفس خود سے اپنا کام نہ کر پا رہا ہو۔ ویسے تو پنجاب میں وینٹی لیٹرز کی کمی کا رونا کافی پرانا ہے مگر حالیہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران یہ کمی بہت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے امریکی ریاست نیویارک کے گورنر انڈریوکومو نے کہا ہے کہ آج وینٹی لیٹرز کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی جنگِ عظیم دوئم میں میزائلوں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کے خلاف اس جنگ میں یہ بنیادی ہتھیار ہیں۔
فارچون کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس اموات روکنے کیلئے وینٹی لیٹرز بنیادی چیز ہیں۔ کورونا وائرس کے جن مریضوں کی حالت تشویشناک ہوجائے ان کی اموات روکنے کی واحد امید وینٹی لیٹرز ہیں۔
کورونا وائرس: مریضوں کے علاج کیلئے حفاظتی لباس نہیں دیا گیا، پمز کے ڈاکٹرز کا شکوہ
پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی
کورونا کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے عوام سے مدد مانگ لی
انگریزی اخباد ڈان میں شائع ہونیوالی ایک اور خبر میں سرکاری حکام کے حوالہ سے انکشاف کیا گیا ہے کہ 11 کروڑ سے زائد آبادی کے صوبہ پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی تعداد صرف 1185 ہے۔
یہ وینٹی لیٹرز پنجاب کے ٹیچنگ اور ضلعی اسپتالوں میں ہیں۔ ان میں سے 430 لاہور جبکہ 755 صوبہ کے بقیہ سرکاری اسپتالوں میں ہیں۔
اس خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں نجی اسپتالوں کے پاس کل 425 وینٹی لیٹرز ہیں جن میں سے 116 لاہور کے نجی اسپتالوں میں دستیاب ہیں جہاں کے مہنگے اخراجات ادا کرنا پنجاب کے عام آدمی کے بس کا روگ نہیں ہے۔
279 وینٹی لیٹرزکا سہرا جوڈیشل ایکٹیوزم کے سر
لندن، امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک سے علاج کرانے والے حکمرانوں نے پنجاب کے اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی ضرورت کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔ یہ تو بھلا ہو سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا جنہوں نے پنجاب کی وزیرصحت یاسمین راشد کو بلا کر سختی سے سرکاری اسپتالوں کیلئے 279 وینٹی لیٹرز خریدنے کا حکم دیا تھا۔
26 دسمبر 2018 کو اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی کمی کے کیس کی سماعت کے دوران وزیر صحت کو چار ماہ کے اندر 279 وینٹی لیٹرز خریدنے کا حکم دیا تھا۔
اس کیس کی سماعت کے دوران پنجاب کی وزیرصحت یاسمین راشد نے جب عدالت کو بتایا کہ وینٹی لیٹرز خریداری کی سمری وزیراعلیٰ کے پاس پڑی ہے تو سابق چیف جسٹس نے کہا تھا کہ آپ وینٹی لیٹرز کو لطیفہ سمجھتے ہیں؟
انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں وزیراعلیٰ کو یہاں بلا کر سمری منظور کرانی چاہئے، انہوں دریافت کیا تھا کہ کیا اسپتال وینٹی لیٹرز کے بغیر چلائے جا سکتے ہیں؟
سابق چیف جسٹس نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا تھا کہ نجی اسپتال مریضوں سے ICUمیں بیڈ کے 23 ہزار جبکہ وینٹی لیٹرز کیلئے پانچ ہزار لے رہے ہیں۔
ماضی میں پنجاب میں وینٹی لیٹرز کی کمی سے کئی اموات ہو چکیں
کورونا وائرس وبا کے بعد پوری دنیا میں وینٹی لیٹرز کی مانگ اور قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے مگر پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے کئی برس قبل بھی پنجاب اور ملک کے کئی اسپتالوں میں اس کے نہ ہونے سے کئی اموات ہوچکی ہیں۔
22 دسمبر 2015 کو دی نیوز میں شائع ہونے والی خبر میں بتایا گیا کہ لاہور کے چلڈرن اسپتال میں وینٹی لیٹرزکی کمی سے نمونیا کے شکار 8 بچے دم توڑ گئے تھے۔
4 دسمبر 2011 کو پاکستان ٹوڈے میں شائع ہونیوالی خبر کے مطابق لاہور کے جنرل اسپتال میں وینٹی لیٹر دستیاب نہ ہونے کے باعث آٹھ سالہ بچی کی ہلاکت ہوگئی تھی۔
وینٹی لیٹرز کی خریداری کیلئے فنڈز کی کمی؟
پاکستانی حکمرانوں نے سرکاری فنڈز کو اپنے بیرون ملک علاج اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر پانی کی طرح بہایا مگر علاج کیلئے ترستی عوام کیلئے ہمیشہ ایک ہی بہانہ پیش کیا جاتا کہ فنڈز کی کمی ہے۔
چین کے 21 سالہ کورونا مریض ٹائیگر یی کی کہانی، جسے زندگی موت سے واپس چھین لائی
بے وفائی کا بدلہ، کورونا مریض اپنی گرل فرینڈ کے منہ پہ چھینک کر فرار
کورونا سے متاثر ہونے والی دنیا کی مشہور شخصیات
قومی اسمبلی میں پیش کردہ وزارت خارجہ کی دستاویزات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف جب 2016ء میں لندن علاج کیلئے گئے تو وہاں انہوں نے کیمپ آفس لگایا جس پر غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے تین لاکھ 28 ہزار ڈالرز خرچ آیا۔
اسی طرح جب سابق وزیراعظم نواز شریف لندن کے اس طویل دورے سے پاکستان واپس آئے تو انکی واپسی پی آئی اے کے خصوصی طیارے کے ذریعے ہوئی اور دستاویزات کے مطابق اس وی وی آئی پی فلائٹ پر قومی خزانہ سے ساڑھے تین کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے وزراء نے جولائی2019ء میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے2015ء کے دورہ امریکہ پر قومی خزانے سے 4 لاکھ 60 ہزار ڈالرز خرچ ہوئے۔
تحریکِ انصاف وزراء نے مزید بتایا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری ذاتی سیکیورٹی اور انٹرٹینمنٹ پر قومی خزانے سے 3ارب16کروڑ روپے خرچ کئے۔
وزراء کی جانب سے مزید بتایا گیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کی سیکیورٹی پر قومی خزانے سے آٹھ ارب 73 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
حکومتی وزراء کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف نے اپنے لیے نئے ہیلی کاپٹر پر قومی خزانے سے ایک ارب 30 کروڑ روپے خرچ کئے تھے۔
حکومت کی طرف سے جاری کردہ سابق حکمرانوں کے اخراجات کے ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران اگر چاہتے تو ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز سمیت کسی بھی طبی سہولت کی کمی نہ ہوتی مگر لندن، دبئی، امریکہ میں جائیدادوں کی مالک حکمران اشرافیہ کی ایسی کوئی ترجیح ہی نہیں تھی۔
