امارات الیوم: متحدہ عرب امارات میں خاندان افسردہ، حادثات اور جنازوں کی تصاویر آن لائن شیئر ہونے پر شدید پریشانی
متحدہ عرب امارات میں متعدد خاندانوں نے شدید افسوس اور صدمے کا اظہار کیا ہے، جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے مرحوم عزیزوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر بغیر اجازت پھیلائی جا رہی ہیں، جس سے ان کے غم میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
امارات الیوم کے مطابق، حادثات کی جگہوں، قبرستانوں اور جنازوں کی تصاویر اکثر موت کے چند ہی گھنٹوں بعد آن لائن شیئر کر دی جاتی ہیں ، بعض اوقات تو گھر کے تمام افراد کو اطلاع ملنے سے پہلے ہی۔
ایک والدہ نے امارات الیوم کو بتایا کہ وہ اس وقت ٹوٹ کر رہ گئی جب اس نے اپنے بچے کے حادثے کی جگہ کی تصاویر دیکھیں، جن میں خون کے نشانات اور بچے کی ذاتی اشیاء بھی دکھائی دے رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر ان کے خاندان کے صدمے کا بالکل خیال کیے بغیر واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلائی گئیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی تصاویر لینا اور انہیں شائع کرنا امارات کے نجی زندگی کے تحفظ اور سائبر کرائم قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ قانونی مشیر سعید الزاہمی نے زور دیا کہ مرحومین کی تصاویر ان کے خاندان کی تحریری اجازت کے بغیر پوسٹ کرنا قابلِ سزا جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ “پرائیویسی موت کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی، اور ایسے لوگ جنہوں نے یہ تصاویر پھیلائیں وہ قانونی طور پر جواب دہ ہو سکتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل سوگوار خاندانوں کے صدمے کو مزید بڑھاتا ہے اور بعض اوقات سرکاری تحقیقات میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔
ماہرین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ موت کی حرمت اور خاندانوں کی پرائیویسی کا احترام کریں، اور یہ سمجھیں کہ آن لائن توجہ حاصل کرنے کی خواہش کسی بھی صورت حساس اور تکلیف دہ تصاویر شیئر کرنے کو جائز نہیں بناتی۔





