رپورٹ : شفیق لغاری
سینیٹ کی کمیٹی برائے تفویض کردہ قانون سازی میں سی ایس ایس امتحان دینے والے امیدواروں کی عمر کی حد بڑھانے کے معاملے پر سینیٹرز اور فیڈرل حکام کے درمیان شدید اختلاف سامنے آ گیا ہے۔
سینیٹرز نے سی ایس ایس امتحان کے لیے امیدواروں کی عمر کی حد 35 برس تک بڑھانے پر زور دیا، جبکہ فیڈرل بورڈ کے حکام عمر کی حد 32 برس سے بھی کم کر کے 28 برس تک لانے پر اصرار کرتے رہے۔
عمر کی حد کے معاملے پر سینیٹرز اور فیڈرل حکام کے درمیان کسی قسم کی افہام و تفہیم نہ ہو سکی، جس کے باعث ڈیڈ لاک برقرار رہا۔کمیٹی اجلاس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اس سے قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بھی سی ایس ایس امیدواروں کی عمر کی حد 35 برس تک بڑھانے کی تجویز دے چکی ہے۔
پارلیمنٹیرینز کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور دیگر تمام صوبوں کے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبا عمر کی حد کی وجہ سے سی ایس ایس کے مقابلے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق آئینِ پاکستان کے تقاضوں کے مطابق محروم طبقات کے طلبا کو ترقی یافتہ طبقات کے طلبا کے مساوی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں، جس کے لیے عمر کی حد 35 برس کی جانی ضروری ہے۔
اس کے برعکس فیڈرل حکام کا مؤقف تھا کہ عمومی طور پر عمر کی حد 35 برس تک بڑھانا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف مخصوص حالات میں انفرادی سطح پر ایک یا دو برس کی رعایت دی جا سکتی ہے، تاہم مجموعی طور پر عمر کی حد میں اضافہ قابلِ عمل نہیں۔ البتہ محروم طبقات کے طلبا کو سول سروسز اکیڈمی میں سی ایس ایس امتحان کی تیاری کے لیے مفت تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریٹائرڈ فوجی افسران، ریٹائرڈ ججز اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس نے سی ایس ایس امیدواروں کی عمر کی حد 32 برس برقرار رکھنے کی سفارش کی ہے۔
یہ امر قابلِ حیرت ہے کہ جہاں بیوروکریسی آئندہ آنے والے سی ایس ایس افسران کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے، وہیں پارلیمنٹیرینز سی ایس ایس کے خواہش مند طلبا کے لیے راستے آسان بنانے کے حق میں نظر آتے ہیں۔





