متحدہ عرب امارات میں سکیورٹی حکام نے ایک ایسے بین الاقوامی نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے جس پر انسانی امداد کے نام پر اسلحہ اور گولہ بارود اسمگل کرنے کا الزام ہے۔ حکام کے مطابق اس نیٹ ورک نے جعلی دستاویزات، فرنٹ کمپنیوں اور امدادی سامان کے لبادے کا استعمال کرتے ہوئے فوجی سازوسامان سوڈان منتقل کرنے کی کوشش کی۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک نجی طیارے کو یو اے ای کے ایک ایئرپورٹ پر اس بنیاد پر لینڈنگ کی اجازت دی گئی کہ اس میں “انسانی امداد اور طبی سامان” موجود ہے۔ تاہم بعد ازاں تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ طیارے میں گوریونوف (Goryunov) گولہ بارود لدا ہوا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق لینڈنگ پرمٹ کی درخواست میں کارگو کو انسانی امداد اور طبی آلات ظاہر کیا گیا تھا جبکہ بطور وصول کنندہ سوڈان کی حکومت کی وزارتِ صحت کا نام درج تھا۔ ایک علیحدہ شپنگ دستاویز میں بھی اسے “سرجیکل ٹولز اور طبی آلات” قرار دیا گیا۔
تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یہ کھیپ ایک منظم اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ تھی جو فرنٹ کمپنیوں اور جعلی تجارتی ریکارڈ کے ذریعے فوجی سامان کو سوڈان کے شہر پورٹ سوڈان منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یو اے ای حکام کے مطابق یہ منصوبہ گزشتہ سال 30 اپریل کو اس وقت ناکام بنایا گیا جب سکیورٹی اداروں نے مشکوک سرگرمیوں کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے اسلحہ اور فوجی مواد کی غیر قانونی ترسیل روک دی۔ اس کارروائی کے بعد ایک سال طویل تحقیقات کا آغاز ہوا، جس کے نتیجے میں 13 افراد اور 6 یو اے ای میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
تحقیقات میں حاصل ہونے والے شواہد میں ایک ریکارڈ شدہ فون کال بھی شامل ہے جس میں سوڈان کی سابق نیشنل انٹیلی جنس سروس کے سربراہ صلاح عبداللہ محمد صالح، المعروف “صلاح گوش”، مبینہ طور پر طیارے کی روانگی میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری پرواز کا مطالبہ کرتے ہیں۔حکام کے مطابق ریکارڈنگ میں انہیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ طیارہ “کسی بھی طرح آج رات ہی اڑایا جائے”، کیونکہ انتظار کرنے والے مزید تاخیر قبول نہیں کریں گے۔
یو اے ای پراسیکیوشن کے مطابق صلاح گوش اس نیٹ ورک کے مبینہ منصوبہ سازوں میں شامل ہیں اور ان پر پہلے بھی مختلف بین الاقوامی پابندیاں عائد رہ چکی ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
تحقیقات کے مطابق یہ نیٹ ورک دو بڑے سودوں پر مشتمل تھا۔ پہلا معاہدہ یو اے ای سے باہر طے پایا، جس میں کلاشنکوف رائفلز، مشین گنز اور دستی بموں کی فراہمی شامل تھی۔ اس معاہدے کی مالیت 13 ملین ڈالر ظاہر کی گئی، تاہم اصل قیمت 10 ملین ڈالر سے زیادہ نہیں تھی، اور 3 ملین ڈالر کا فرق مبینہ طور پر غیر قانونی کمیشن کے طور پر تقسیم کیا گیا۔ادائیگیاں یو اے ای میں رجسٹرڈ کمپنیوں اور بینکنگ چینلز کے ذریعے جعلی تجارتی دستاویزات کی آڑ میں کی گئیں۔
دوسرا معاہدہ اسی نیٹ ورک کے اندر طے پایا، جس کے تحت پہلے سودے سے حاصل شدہ رقم میں سے 2 ملین ڈالر سے زائد استعمال کرتے ہوئے گوریونوف گولہ بارود خریدا گیا، جسے بعد میں انسانی امداد کے طور پر ظاہر کر کے منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان مزید چھ لین دین کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جن کے ذریعے تقریباً 5 ملین مزید گولیاں اسمگل کی جانی تھیں۔ تاہم پہلی ہی کھیپ کی روک تھام نے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔
یو اے ای حکام نے 13 افراد اور 6 کمپنیوں کو ابو ظہبی فیڈرل کورٹ آف اپیل (اسٹیٹ سکیورٹی کورٹ) میں پیش کر دیا ہے۔ ان میں بعض افراد کو نیٹ ورک کا مرکزی منتظم قرار دیا گیا ہے، جبکہ دیگر پر مالی، لاجسٹک اور آپریشنل معاونت کے الزامات ہیں۔
پبلک پراسیکیوشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اپنی سرزمین، اداروں اور مالی نظام کو کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا، اور قومی سلامتی کو ہر صورت میں مقدم رکھا جائے گا۔
یہ مقدمہ خطے میں اس نوعیت کے اسلحہ نیٹ ورکس اور انسانی امداد کے غلط استعمال سے متعلق ایک اہم کیس قرار دیا جا رہا ہے، جس کی سماعت آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے۔

