سمیرا سلیم کا بلاگ
جنگ کی آڑ میں حکومت عوام پر جو پٹرول اور ڈیزل میزائل گرا رہی ہے، پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ اس کا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے زیادہ تعلق نہیں ہے، کیونکہ پاکستان میں پہلے سے ہی پٹرول کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ ہیں۔ ۔ یہ خبر تو پہلے ہی آ چکی تھی کہ آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے لئے جو شرط رہ گئی تھی، اسے پورا کرنے کے لئے حکومت جلد ہی پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کرنے جا رہی ہے۔ حکومت نے مزید 53 روپے کا ٹیکس لگانا تھا۔ اب یہ 53 روپے کا ٹیکس دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ڈیزل پر 19.39 روپے جبکہ پٹرول پر 6.59 روپے ٹیکس کی مد میں بڑھا دئیے ہیں۔ 53 روپے میں سے 26 روپے کا ٹیکس لگ چکا ہے۔ باقی 27 روپے کا ٹیکس ابھی مزید لگنا باقی ہے۔ جو اگلے ہفتے یا پھر 15 مئی تک لگ سکتا ہے۔ بہرحال عیدالاضحیٰ سے قبل مزید مہنگے پٹرول کا تحفہ عوام کو دے دیا جائے گا۔
حکومت نے مئی میں 53 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھا کر ایف بی آر کے شارٹ فال کو پورا کرنا ہے۔ کیونکہ رواں مالی سال میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس شارٹ فال 683 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اسی دوران آئی پی پیز کو اربوں روپے کی ادائیگیاں جاری رہیں گی۔ نقصان صرف عوام کا ہوگا، اشرافیہ کرائسس میں بھی منافع میں ہی رہے گی۔ ناکام معاشی پالیسیاں عوام کے گاٹے فٹ ہو گئیں ہیں۔ ایف بی آر اپنا ٹارگٹ پورا نہیں کر پاتا تو آسان حل یہ ہے کہ عوام پر مزید ٹیکس لگا کر حساب کتاب پورا کر لو۔ اس وقت اگر کوئی خسارے میں ہے تو وہ کسان، مزدور اور تنخواہ دار طبقہ ہے جس پر مسلسل مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ ادھر محصولات میں کمی ہوئی نہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی لیوی بڑھا کر اور بجلی گیس کے نرخ بڑھا کر اپنا مقصد پورا کر لیا جاتا ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے زراعت جو پہلے ہی عدم توجہی کا شکار ہے اس پر مزید منفی اثر پڑے گا۔ عجیب بات ہے کہ آئی ایم ایف کو بھی صرف غریب عوام نظر آتی ہے، حکمرانوں کے ششکے اور شاہ خرچیاں ، اربوں کے لگثرری جہاز نظر نہیں آتے۔ جہاں صرف ایک صوبہ پنجاب کی حکومت کی گاڑیوں کا خرچ سالانہ 30 ارب روپے ہو وہ بھی سادگی مہم کے دعوؤں کے بعد، تو اندازہ لگائیں ایسی حکومتیں غریب کو کیسے اور کیونکر ریلیف دیں گی۔ سی ایم پنجاب کے لگثرری جہاز کے علاؤہ وزیراعظم کے جہازوں پر بے پناہ غیر ملکی دوروں پر اربوں کے اخراجات الگ۔ کمال ہے ترقی پذیر ممالک کے لئے آئی ایم ایف بھی کتنی سیلیکٹو اپروچ رکھتاہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان ڈپلومیسی سے جو چیز پاکستان کے حق میں بہتر ہوئی وہ یہ کہ آبنائے ہرمز اور امریکی ناکہ بندی پاکستان کی ایندھن سپلائی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنی۔ تیل اور گیس کے بحری جہاز پاکستان کی بندرگاہوں پر پہنچ رہے ہیں، ابھی کل ہی جہاز 58 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول لے کر پاکستان پہنچا، لہٰذا قلت نہ ہونے کے باوجود بھی ہم انرجی اور فوڈ کرائسس کا شکار ہیں۔ بجائے اس کے کہ عوام کو ریلیف دیا جاتا الٹا عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے، مہنگائی کی شرح 11 فیصد کو چھو رہی ہے، اور اب جو ڈیزل اور پٹرول کے نرخوں میں اضافہ ہوا اس کے اثرات سے غریب اور متوسط طبقہ مزید مشکلات سے دو چار ہو گا۔ ٹرانسپورٹ اور اشیاء خوردنوش کے نرخوں میں مہنگائی کی یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔گندم 40 فیصد ، ٹماٹر ، 75 فیصد اور پیاز 42 فیصد مہنگے جبکہ ٹرانسپورٹ 38 فیصد مزید مہنگی ہو گئی ہے۔ پانی، بجلی، گیس 17 فیصد مزید مہنگے ہو چکے ہیں۔ ابھی حالیہ اضافے کے علاؤہ آنے والے دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے اثرات آنا باقی ہیں۔ لاوارث عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ آنے والے دنوں میں غریب عوام خودکشیاں نہیں کرے گی تو اور کیا کرے گی،معاشی بدحالی اور بے روزگار نوجوان طبقہ میں بے چینی جرائم میں اضافے کا باعث نہیں بنے گی تو اور کیا ہو گا؟
