متحدہ عرب امارات کے پہاڑی علاقے راس الخیمہ میں ایک پاکستانی ہائیکنگ گائیڈ نے غیر معمولی جرات اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شدید ہیٹ اسٹروک اور دوروں (seizures) کی شکار ایک خاتون کو تین گھنٹے تک اپنی پیٹھ پر اٹھا کر محفوظ مقام تک پہنچا دیا۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ ہفتے 25 اپریل کو مشہور ہائیکنگ ٹریک “Stairway to Heaven” کے قریب پیش آیا، جہاں فیصل شلمانی، جو 43 سالہ ماؤنٹینیرنگ کوچ ہیں اور ہائیکنگ کمیونٹی میں “فائسی” کے نام سے جانے جاتے ہیں، 16 افراد کے ایک گروپ کی قیادت کر رہے تھے۔
فیصل شلمانی کے مطابق انہیں ایک دوسرے گروپ میں طبی ایمرجنسی کی اطلاع ملی، جس پر انہوں نے اپنی ٹیم کی ذمہ داری ایک اور گائیڈ کے سپرد کی اور فوراً جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہ 15 منٹ کے اندر موقع پر پہنچے، تاہم اس وقت تک خاتون کی حالت تشویشناک حد تک بگڑ چکی تھی۔
ان کے مطابق خاتون کو دورے پڑ رہے تھے، بولنے کی صلاحیت متاثر ہو چکی تھی اور وہ ہوش کھو رہی تھیں۔فیصل نے فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی، جسم کو ٹھنڈا کرنے کے لیے گیلا کپڑا استعمال کیا اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی۔
دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی راستے میں فوری ریسکیو ممکن نہ ہونے کے باعث فیصل شلمانی نے خاتون کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر نکالنے کا فیصلہ کیا۔
ان کے مطابق یہ راستہ نہ صرف تنگ اور کٹھن تھا بلکہ شدید گرمی کے باعث صورتحال مزید خطرناک ہو گئی تھی۔ تاہم انہوں نے مسلسل تین گھنٹے پیدل سفر کرتے ہوئے خاتون کو محفوظ مقام تک پہنچایا۔
اس مقام پر پہلے سے پولیس اور ایمبولینس کی ٹیمیں موجود تھیں، جنہوں نے فوری طور پر خاتون کو اپنی نگرانی میں لے لیا۔ بعد ازاں انہیں راس الخیمہ کے اسپتال منتقل کیا گیا اور حالت بہتر ہونے پر دبئی کے اسپتال بھی لے جایا گیا۔ خاتون 29 اپریل کو اسپتال سے ڈسچارج کر دی گئیں۔
فیصل شلمانی، جو گزشتہ 22 سال سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں اور ایک ہائیکنگ کمپنی کے بانی بھی ہیں، کہتے ہیں کہ اس طرح کے زیادہ تر حادثات ناقص تیاری اور موسم و راستے کو کم سمجھنے کے باعث پیش آتے ہیں۔
ان کے مطابق ہائیکرز اکثر پانی، مناسب لباس اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی بنیادی تیاری کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یو اے ای میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافے کے ساتھ ہائیکنگ مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب درجہ حرارت انسانی جسم کے نارمل درجہ حرارت (تقریباً 36–37 ڈگری) سے بڑھ جائے تو جسم کو ٹھنڈا رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
فیصل کے مطابق ہائیکنگ کے لیے محفوظ وقت صبح سویرے یا سورج غروب ہونے کے بعد ہے، اور ہر گھنٹے کم از کم ایک لیٹر پانی ساتھ ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چکر آنا، متلی، کمزوری یا نظر دھندلانا جیسے علامات کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہیٹ اسٹروک ایک جان لیوا ایمرجنسی ہے جس میں فوری کارروائی ضروری ہوتی ہے۔
ڈاکٹر محمد مصطفیٰ الشیخ کے مطابق متاثرہ شخص کو فوری طور پر سایہ یا ٹھنڈی جگہ منتقل کرنا، جسم کو ٹھنڈا کرنا اور ضرورت پڑنے پر محدود مقدار میں پانی دینا ضروری ہے۔
اگر مریض کو دورے پڑ رہے ہوں تو اسے کروٹ کے بل لٹانا چاہیے اور منہ میں کوئی چیز نہیں ڈالنی چاہیے تاکہ سانس کی نالی محفوظ رہے۔
فیصل شلمانی کا کہنا ہے کہ قدرتی مناظر جتنے خوبصورت ہیں، اتنے ہی خطرناک بھی ہو سکتے ہیں اگر احتیاط نہ کی جائے۔
ان کے الفاظ میں: “موسم، راستے اور اپنی جسمانی حد کو سمجھیں۔ پہاڑوں کو کبھی ہلکے میں نہ لیں۔”
