• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, اپریل 20, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

کیا کورونا وائرس مغربی جمہوریتوں کو مستقل تبدیل کر دے گا؟

by sohail
مارچ 27, 2020
in تازہ ترین, تجزیہ, کورونا وائرس
0
کیا کورونا وائرس مغربی جمہوریتوں کو مستقل تبدیل کر دے گی؟
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محض چند ہفتوں میں ایک وائرس نے، جو کہ سائز میں ملی میٹر کا بھی دس ہزارواں حصہ ہے، مغربی جمہورتوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ ریاست کی جانب سے کاروبار بند کرکے لوگوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا ہے اور معیشت کو زندہ رکھنے کیلئے ریاست کی جانب سے کھربوں ڈالرز کا وعدہ کیا گیا ہے۔

مغربی ممالک کی جانب سے ماضی میں بری قرار دیے جانے والے کام اب ریاست خود کر رہی ہے، عام شہریوں کو معمولات زندگی کے دوران جرمانوں اور قید کی دھمکی دی گئی ہے، معیشت میں حکومت کا کردار بھی بدل گیا ہے۔

ریاست کا کردار تیزی سے بدلنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ کورونا وائرس وبا جنگل کی آگ کی مانند پھیلتی ہے، چار ماہ سے کم دورانیہ میں یہ وبا ووہان کی ایک مارکیٹ سے شروع ہو کر دنیا کے ہر ملک میں پھیل گئی ہے۔

صرف گزشتہ ایک ہفتہ میں کورونا وائرس کے دو لاکھ 53 ہزار نئے کیسز سامنے آئے۔ لوگ اٹلی کی مثال سے خوفزدہ ہیں جہاں کورونا وائرس کے 80 ہزار سے زائد کیسز دنیا کے بہترین نظام صحت پر غالب آ گئے ہیں اور اس بیماری سے اٹلی میں 8 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

کورونا وائرس عالمی سطح پر کیا تبدیلیاں‌لائے گا؟ دنیا کے 12 معروف دانشوروں کی پیش گوئیاں

کورونا وائرس: کیا فلاحی ریاست کا ٹائی ٹینک ڈوب رہا ہے؟

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں پہلی حکومت تبدیل

اس بیماری سے پھیلا خوف ریاست کا کردار تبدیل ہونے کی ایک دوسری وجہ ہے۔ برطانوی حکومت نے اپنا کردار محدود رکھنے کی کوشش کی تو اس پر وبا سے لڑنے کیلئے کم اقدامات اٹھانے کا الزام لگ گیا۔ اس کے برعکس فرانس نے اس ہفتہ ایک قانون پاس کیا ہے جس میں حکومت کو لوگوں کی نقل وحرکت کنٹرول کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

کورونا وائرس وبا بڑھنے کے دوران توقع کی جا رہی ہے کہ ریاست لوگوں کا ڈیٹا کا استعمال کرکے انکی نگرانی کرے۔ شہریوں کو الگ تھلگ رکھنے کے عمل کے نفاذ کیلئے ہانگ کانگ فون پر ایپس کا استعمال کرتا ہے۔

چین اس ضمن میں پاسپورٹنگ نظام کا استعمال کررہا ہے، فون ڈیٹا سے کورونا وائرس پھیلاؤ کے متعلق پتہ چلتا ہے۔ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ فون ٹیکنالوجی سے کورونا وائرس سے متاثرہ نئے افراد کا 24 گھنٹوں کی بجائے 10 منٹ میں پتہ چل جاتا ہے۔

محدود حکومت اور اوپن مارکیٹ پر یقین رکھے والوں کیلئے کورونا وائرس وبا نئے مسئلہ کا پیش خیمہ ہے۔ ریاست کو کورونا وائرس کے خلاف بھرپور فیصلہ کن اقدامات اٹھانے چاہئیں مگر تاریخ یہ کہتی ہے کہ بحران ختم ہونے کے بعد بھی ریاستیں ایسے اقدامات جاری رکھتی ہیں۔ ان اقدامات میں نہ صرف معیشت کیلئے بلکہ شہریوں کی نگرانی کیلئے بھی خطرات چھپے ہیں۔

ریاست کے اختیارات میں بڑے پیمانے پر ہونیوالا یہ اضافہ تقریبا بغیر کسی بحث کے ہوا ہے۔ کچھ لوگ سوچ رہے ہونگے کہ یہ سب عارضی ہوگا اور اسکے اثرات نہیں ہونگے جیسا کہ ایک صدی قبل اسپینش فلو کے دوران ہوا تھا۔ تاہم کورونا وائرس کے خلاف ردعمل اسے جنگ یا ڈپریشن جیسا بناتا ہے اور ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے بحران مستقل طور پر بڑی ریاست کو جنم دیتے ہیں۔

ایک ایسی ریاست جس کی ذمہ داریاں اور اختیارات زیادہ ہوں اور ان کے لیے ٹیکسز کی شکل میں ادائیگیاں کرنا پڑیں۔  فلاحی ریاست، نیشنلائزییشن، انکم ٹیکس جیسے تمام معاملات بحرانوں اور تنازعات کا نتیجہ ہیں۔

کورونا وائرس وبا کے دوران کی جانیوالی کچھ تبدیلیاں ضروری ہونگی۔ یہ اچھا ہوگا کہ حکومتیں آنیوالی ایسی ہی وبا کے خلاف تیاری رکھیں۔ مگر اس وبا کے دوران بری عادات کا پھیلاؤ پریشان کن ہے۔

حکومتیں معاشی خود کفالت کا راستہ اختیار کر سکتی ہیں۔ کچھ حکومتوں کو دوائیں بنانے والے اجزاء کے کم ہونے کا خطرہ ہے۔ زیادہ تر ایسے اجزاء چین میں بنائے جا رہے ہیں۔

کورونا وائرس وبا کا خاتمہ کیسے ہوگا؟

کورونا وائرس کے باعث امریکہ شدید بیروزگاری کے چنگل میں

روس کی جانب سے دیگر ممالک کو اناج فروخت کرنے پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے۔ صنعت کار اور سیاستدانوں کا سپلائی چین پر اعتبار اٹھ گیا ہے۔

ان سے بھی بڑی پریشانی اختیارات کے ناجائز استعمال اور شہری آزادیوں کو متوقع خطرات میں ہے۔  ہنگری میں حکومت لامحدود عرصہ کیلئے ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نینتن یاہو اس بحران کو کرپشن ٹرائل سے بچنے کا موقع سمجھ ہے ہیں۔

سب سے پریشان کن چیز شہریوں کی نگرانی کا بڑھتا عمل ہے۔ چونکہ یہ وبا کے خلاف لڑنے میں معاون ہے اس لیے شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنے کا عمل مزید بڑھے گا اوراس وبا کے خاتمہ کے بعد بھی شہریوں کی نگرانی جاری رہنے کا امکان ہے جیسا کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف کی گئی قانون سازی کو توسیع دے دی گئی تھی۔

اس رویے کے خلاف شہری ہی اہم ہتھیار ثابت ہونگے۔ شہریوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ وبا کے دنوں کی حکومت روزمرہ معاملات کیلئے موزوں نہیں ہوسکتی۔

Tags: کورونا وائرسکورونا وائرس اور شخصی آزادیکورونا وائرس اور مغربی جمہوریت
sohail

sohail

Next Post
کورونا وائرس کا علاج، سوشل میڈیا پر پھیلی افواہ نے 300 ایرانیوں کی جان لے لی

کورونا وائرس کا علاج، سوشل میڈیا پر پھیلی افواہ نے 300 ایرانیوں کی جان لے لی

بے احتیاطی رنگ لائی، برطانوی وزیراعظم بھی کورونا وائرس کا شکار

کورونا وائرس سے بچاؤ کا طریقہ بتانے والی بھارتی وزیراعلیٰ کی ویڈیو وائرل

امریکی جیل میں قید ایرانی سائنسدان کے دل دہلا دینے والے انکشافات

امریکی جیل میں قید ایرانی سائنسدان کے دل دہلا دینے والے انکشافات

کورونا کا مقابلہ کرنے کے لیے شروع میں‌ درست اقدامات نہیں کیے جا سکے، وزیراعظم کا اعتراف

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In