• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعرات, جولائی 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home دنیا

اقوامِ متحدہ کی عالمی رپورٹ 2026 میں منشیات اسمگلرزکے عالمی نیٹ ورکس سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات

by ویب ڈیسک
جولائی 23, 2026
in دنیا
0
اقوامِ متحدہ کی عالمی رپورٹ 2026 میں منشیات اسمگلرزکے عالمی نیٹ ورکس سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات
0
SHARES
14
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

رپورٹ:زاہد بلوچ
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسدادِ منشیات و جرائم (UNODC) کی ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2026 کے مطابق دنیا بھر میں منشیات فروش جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خفیہ مواصلاتی ذرائع اور عالمی عدم استحکام سے فائدہ اٹھا کر نئی اقسام کی منشیات تیار کر رہے ہیں، نئے اسمگلنگ راستے اختیار کر رہے ہیں اور تیزی سے نئی منڈیوں میں داخل ہو رہے ہیں۔

ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مونیکا جوما کے مطابق دنیا میں پہلی مرتبہ نئی اقسام کی مصنوعی منشیات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سے کئی پہلے سے زیادہ طاقتور اور مہلک ثابت ہو رہی ہیں۔

عالمی سطح پر منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

رپورٹ کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 33 کروڑ 10 لاکھ افراد نے کسی نہ کسی قسم کی منشیات استعمال کی جو 15 سے 64 سال کی عمر کی عالمی آبادی کا 6.2 فیصد بنتے ہیں۔2014 میں یہ شرح 5.2 فیصد تھی۔

سب سے زیادہ استعمال ہونے والی منشیات

* بھنگ (Cannabis): 25 کروڑ 60 لاکھ صارفین
* اوپی اوئیڈز: 6 کروڑ 30 لاکھ
* ایمفیٹامینز: 3 کروڑ 20 لاکھ
* کوکین: 2 کروڑ 50 لاکھ
* ایکسٹیسی: 2 کروڑ 10 لاکھ

مصنوعی منشیات کا سیلاب

رپورٹ کے مطابق غیر قانونی لیبارٹریاں قوانین سے بچنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکہ دینے کے لیے مسلسل نئی مصنوعی منشیات تیار کر رہی ہیں۔

2024 میں ضبط ہونے والی منشیات کی مختلف اقسام کی تعداد سن 2000 سے پہلے کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ رہی۔

اسی طرح 755 نئی نفسیاتی اثرات رکھنے والی منشیات (NPS) عالمی منڈی میں گردش کرتی رہیں جن میں 118 نئی اقسام پہلی مرتبہ سامنے آئیں۔

افغانستان کی پابندیوں سے عالمی افیون مارکیٹ میں بڑی تبدیلی

افغانستان میں 2022 میں پوست کی کاشت پر پابندی کے بعد افیون اور ہیروئن کی غیر قانونی پیداوار میں نمایاں کمی آئی۔اگرچہ میانمار میں افیون کی پیداوار 2021 کے 420 ٹن سے بڑھ کر 2025 میں ایک ہزار ٹن سے تجاوز کر گئی تاہم یہ اضافہ افغانستان میں ہونے والی ہزاروں ٹن کمی کا ازالہ نہ کر سکا۔

فینٹانائل سمیت مصنوعی اوپی اوئیڈز کا بڑھتا خطرہ

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہیروئن کی قلت کے باعث منشیات فروش اب فینٹانائل، نائٹازینز اور اورفینز جیسی مصنوعی اوپی اوئیڈز پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو دنیا میں قدرتی افیون پر مبنی منشیات کی جگہ مصنوعی منشیات مستقل طور پر لے سکتی ہیں جس کے صحت اور معاشرے پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

میتھ ایمفیٹامین اب عالمی منشیات بن چکی ہے

رپورٹ کے مطابق میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار اور اسمگلنگ اب صرف ایشیا تک محدود نہیں رہی بلکہ مشرق وسطیٰ،افریقہ، یورپ اور بحرالکاہل کے ممالک تک پھیل چکی ہے۔2024تک اس کی ضبطگی میں اوسطاً 13 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اگرچہ میانمار اب بھی اس منشیات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے تاہم شمالی امریکہ، مغربی و جنوبی افریقہ اور جنوب مغربی ایشیا بھی اہم سپلائرز کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

شام میں کیپٹاگون بحران کے بعد نئی تبدیلی

رپورٹ کے مطابق دسمبر 2024 میں شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد کیپٹاگون کی سپلائی متاثر ہوئی جس کے باعث بعض علاقوں میں اس کی قیمت دوگنی ہو گئی۔اس صورتحال کے بعد خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ صارفین اب میتھ ایمفیٹامین کی جانب منتقل ہو رہے ہیں جس کا استعمال پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں بڑھ رہا ہے۔

بھنگ کے استعمال میں ایک دہائی کے دوران 40 فیصد اضافہ

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بھنگ کے استعمال میں گزشتہ دس برسوں کے دوران 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔2014میں 15 سے 64 سال کی عمر کے افراد میں اس کا استعمال 3.8 فیصد تھاجو 2024 میں بڑھ کر 4.8 فیصد ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق بھنگ کی قانونی حیثیت میں نرمی اور بعض ممالک میں قانونی اجازت نے اس رجحان کو تقویت دی۔

بھنگ کی اسمگلنگ اب بین الاقوامی سطح پر پھیل رہی ہے

ماضی میں بھنگ کی اسمگلنگ زیادہ تر ایک ہی خطے تک محدود رہتی تھی تاہم اب شمالی امریکہ سے دیگر خطوں تک اس کی فراہمی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔2015سے 2024 کے دوران 57 ممالک نے شمالی امریکہ کو بھنگ کی اسمگلنگ کا ذریعہ قرار دیاجبکہ اس سے پہلے کی دہائی میں یہ تعداد صرف 11 تھی۔

کوکین کی پیداوار ریکارڈ سطح پر

رپورٹ کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں کوکین کی پیداوار بڑھ کر 4 ہزار ٹن سے زائد ہو گئی جو دس برس پہلے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔منظم جرائم پیشہ گروہ اب مغربی و وسطی یورپ، شمالی امریکہ اور اوشیانا کے ساتھ ساتھ افریقہ اور ایشیا کی نئی منڈیوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

منشیات صرف صحت نہیں، امن و امان کے لیے بھی خطرہ

رپورٹ کے مطابق منشیات کا استعمال صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ جرائم، گھریلو تشدد، سماجی بے چینی اور عدم تحفظ میں بھی اضافے کا سبب بنتا ہے۔غربت، ذہنی صحت کے مسائل، علاج کی سہولیات کی کمی اور کمزور سماجی نظام ایسے عوامل ہیں جو منشیات کے استعمال کو بڑھاتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا انتباہ
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسدادِ منشیات و جرائم نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف مربوط کارروائیاں، انٹیلی جنس کا تبادلہ، مشترکہ آپریشنز، مؤثر روک تھام، علاج اور بحالی کے نظام میں سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں منشیات کا عالمی خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اورمہلک بنتا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In