• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, جولائی 24, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تحقیقاتی رپورٹس

تمباکو سیکٹر میں 253 ارب روپے سے زائد ممکنہ ٹیکس نقصان،غیر دستاویزی سگریٹ مارکیٹ کا بڑاانکشاف۔۔ایف بی آر نے کمپنیوں کا جھوٹ پکڑ لیا

by ویب ڈیسک
جولائی 24, 2026
in تحقیقاتی رپورٹس
0
تمباکو سیکٹر میں 253 ارب روپے سے زائد ممکنہ ٹیکس نقصان،غیر دستاویزی سگریٹ مارکیٹ کا بڑاانکشاف۔۔ایف بی آر نے کمپنیوں کا جھوٹ پکڑ لیا
0
SHARES
11
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

زاہد بلوچ کی Exclusive رپورٹ

ایف بی آر کی جانب سے مالی سال 2025-26 کے لیے تیار کی گئی تمباکو ویلیو چین کی ایگزیکٹو سمری میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو کی پیداوار، خریداری، سگریٹ سازی اور ٹیکس ادائیگیوں کے اعداد و شمار کا باہمی موازنہ کرنے سے بڑے پیمانے پر تضادات سامنے آئے ہیں، جن سے اربوں روپے کے ممکنہ ٹیکس نقصان اور غیر دستاویزی سگریٹ مارکیٹ کی موجودگی کا اندازہ ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ جائزہ جولائی 2025 سے جون 2026 تک کے عرصے پر مشتمل ہے، جس میں پاکستان ٹوبیکو بورڈ (PTB)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم (TTS)، درآمدات و برآمدات، تمباکو کی پیداوار، پتی کی خریداری، کوٹہ الاٹمنٹ اور وفاقی ٹیکس ادائیگیوں کا ریکارڈ شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کسی مخصوص کمپنی یا فیکٹری کا نام ظاہر نہیں کیا گیا بلکہ تمام اعداد و شمار سیکٹر کی سطح پر پیش کیے گئے ہیں۔

ریکارڈ تمباکو پیداوار

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں تمباکو کی متوقع پیداوار 169.455 ملین کلوگرام رہی جو پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ پیداوار قرار دی گئی ہے۔ یہ گزشتہ سال کی 137.165 ملین کلوگرام پیداوار کے مقابلے میں تقریباً 23.5 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ Flue-Cured Virginia (FCV) تمباکو کی بہتر پیداوار اور Rustica تمباکو کی غیر معمولی فصل رہی، جس کی پیداوار 50.755 ملین کلوگرام ریکارڈ کی گئی۔

خریداری مقررہ کوٹے سے 22 فیصد زیادہ

پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ 115 خریداروں کو مجموعی طور پر 85.146 ملین کلوگرام تمباکو خریدنے کا کوٹہ دیا گیا تھا تاہم حقیقی خریداری اس حد سے 18.9 ملین کلوگرام زیادہ رہی جو مقررہ کوٹے سے تقریباً 22 فیصد زائد بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تین بڑے خریداروں نے مجموعی خریداری کا 79.63 ملین کلوگرام یعنی 76.5 فیصد حصہ حاصل کیا۔

سگریٹ کی پیداوار اور ٹیکس میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم (TTS) کے تحت رجسٹرڈ سگریٹ کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

* مالی سال 2024-25 میں پیداوار 36.833 ارب سگریٹ اسٹکس تھی۔
* مالی سال 2025-26 میں یہ بڑھ کر 41.486 ارب سگریٹ اسٹکس ہو گئیں۔

اسی عرصے کے دوران فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مجموعی وصولیاں 317.6 ارب روپے سے بڑھ کر 357.8 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔

40 ارب سے زائد سگریٹ دستاویزی نظام سے باہر؟

رپورٹ میں سب سے اہم انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ تمباکو کی دستیاب مقدار کے حساب سے ملکی صنعت تقریباً 81.8 ارب سگریٹ اسٹکس تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی جبکہ سرکاری طور پر صرف 41.486 ارب اسٹکس کی پیداوار ظاہر کی گئی۔

اس طرح اندازہ لگایا گیا ہے کہ تقریباً 40.3 ارب سگریٹ اسٹکس ایسی ہو سکتی ہیں جو دستاویزی نظام سے باہر تیار یا فروخت ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق اگر ان سگریٹس پر کم از کم ٹیکس بھی وصول کیا جاتا تو قومی خزانے کو تقریباً 253.4 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہو سکتی تھی۔

بڑے پیمانے پر ریکارڈ میں تضادات

رپورٹ میں متعدد اہم بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے

پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق برآمدات کے لیے خریدی گئی تمباکو کی مقدار 50.505 ملین کلوگرام جبکہ کسٹمز کے مطابق برآمدات صرف 44.108 ملین کلوگرام رہیں، یعنی 6.4 ملین کلوگرام کا فرق۔
* تین بڑے خریداروں کے اسٹاک ریکارڈ اور پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے اعداد و شمار میں 14.78 ملین کلوگرام کا فرق۔
* متعدد خریداروں کی جانب سے مقررہ کوٹے سے کہیں زیادہ تمباکو خریدنے کے شواہد۔

ٹیکس وصولیوں کے مختلف منظرنامے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 253.4 ارب روپے کا تخمینہ ایک ابتدائی نظریاتی اندازہ ہے، جبکہ مزید معاشی تجزیوں کے بعد مختلف ممکنہ منظرنامے بھی پیش کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق:

* محتاط اندازوں کے مطابق ممکنہ اضافی ٹیکس آمدن 160 سے 300 ارب روپے کے درمیان ہو سکتی ہے۔
* اگر غیر قانونی سگریٹ مارکیٹ کو مکمل طور پر دستاویزی نظام میں لایا جائے تو حکومت کو تقریباً 172 سے 196 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے، جبکہ مرکزی تخمینہ 183 ارب روپے بتایا گیا ہے۔
* متبادل نکوٹین مصنوعات، نسوار اور نفاذِ قانون کے عوامل کو شامل کرنے کے بعد حقیقت پسندانہ قابل وصول آمدن 92 سے 196 ارب روپے کے درمیان رہ سکتی ہے، جبکہ منصوبہ بندی کے لیے 130 سے 150 ارب روپے سالانہ کا تخمینہ زیادہ مناسب قرار دیا گیا ہے۔

سفارشات

رپورٹ کے مطابق غیر دستاویزی سگریٹ مارکیٹ کی روک تھام کے لیے صرف فیکٹریوں کی نگرانی کافی نہیں بلکہ تمباکو کی ابتدائی خریداری اور گرین لیف تھریشنگ کے مرحلے پر سخت نگرانی اور کنٹرول کو سب سے مؤثر حکمت عملی قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تمباکو کی خریداری، ذخیرہ، برآمدات، سگریٹ کی پیداوار اور ٹیکس ریکارڈ کے درمیان موجود تضادات کی فوری تحقیقات کی جائیں تاکہ قومی خزانے کو ہونے والے ممکنہ اربوں روپے کے نقصان کا سدباب کیا جا سکے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
ملازمین کو واضح پیغام ہے، جو کارکردگی دکھائے گا وہی پی آئی اے میں رہے گا، پی آئی اے کا نام بھی تبدیل ہوگا ؟ عارف حبیب نے بتا دیا

عارف حبیب اینڈ کمپنی پی آئی اے قیمتی اثاثے سمیت لے اڑی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In