سمیرا سلیم کا بلاگ
جس طرح ریاستی ملکیتی پی آئی اے کو کوڑیوں کے مول اپنے پسندیدہ لوگوں کو بیچا گیا، وہ تو الگ قصہ ہے، مگر 10 ارب روپے میں پی آئی اے کی نیلامی کے ساتھ 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے اندرون و بیرونِ ملک موجود اثاثے بھی عارف حبیب اینڈ کمپنی کو تحفے میں دے دیے گئے، جبکہ تقریباً ساڑھے 4 ارب روپے کے جرمانے، ٹیکس اور سرچارج بھی معاف کر دیے گئے۔ ایسا بہترین پیکیج تو کسی بہت طاقتور اور پیارے کو ہی دیا جا سکتا ہے۔مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا شریف اور زرداری خاندان اپنے کاروبار اور جائیدادوں کو بھی اسی طرح نیلام کریں گے؟ کتنی حیرت کی بات ہے کہ 2002 تک جو پی آئی اے بیرونِ ملک اثاثے خرید رہی تھی، آج وہی پی آئی اے اپنے قیمتی اثاثوں سمیت کوڑیوں کے بھاؤ نیلام ہو گئی۔ان حکمرانوں کے معاہدے، چاہے آئی پی پیز کے ساتھ ہوں، ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر سے متعلق ہوں یا پھر ایوی ایشن کے، عوام کی جیبوں پر نہ صرف بھاری پڑے ہیں بلکہ رسوائی کا باعث بھی بنے ہیں۔
اب جو اس معاہدے کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری میں معلومات شیئر کی گئی ہیں، ان کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی کل 47 جائیدادیں ہیں، جن میں سے 14.2 ارب روپے مالیت کی 11 جائیدادیں نئے مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے 7 جائیدادیں بھارت، نیدرلینڈز، ازبکستان اور امریکا میں موجود ہیں، جبکہ 4 پاکستان میں واقع ہیں۔عارف حبیب اینڈ کمپنی نے صرف 10 ارب روپے کی ابتدائی ادائیگی کے بعد پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کر لیے ہیں، جبکہ باقی 25 فیصد حصص بھی آئندہ ایک سال کے دوران 45 ارب روپے کے عوض دے دیے جائیں گے۔نئے مالکان پی آئی اے میں 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کریں گے، یہ بھی معاہدے کا حصہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ نئے مالکان جتنے طاقتور ہیں، کیا وہ واقعی 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرتے ہیں یا نہیں؟ اس حوالے سے احتساب کہاں ہوگا اور کون کرے گا؟
اس سارے عمل میں ایک چیز بہتر ہوئی ہے کہ نیویارک میں واقع تاریخی روزویلٹ ہوٹل فی الحال ان کی دسترس سے بچ گیا ہے۔ واقفانِ حال کا دعویٰ ہے کہ یہ تاریخی ہوٹل ہماری کامیاب سفارت کاری کی بدولت بالآخر ٹرمپ اینڈ کمپنی کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی بھی روزویلٹ ہوٹل میں دلچسپی رکھتے ہیں، مگر ایک اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی بات سامنے آئی ہے کہ نئے مالکان قرض کی ادائیگی کے لیے روزویلٹ اور پیرس کے اسکرائب ہوٹل کو بھی بیچ سکتے ہیں۔نجکاری کمیشن کے مطابق، جو 36 جائیدادیں رہ گئی ہیں، انہیں ہولڈنگ کمپنی کی واجب الادا ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مدد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ کھیل ہے جس کے ذریعے تمام اثاثے آپس میں بندر بانٹ کر لیے جائیں گے۔عوام کو کس طرح بے وقوف بنانا ہے، یہ دہائیوں سے ہم پر حکمرانی کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری کا بظاہر اصل مقصد نہ صرف پی آئی اے کو خاص لوگوں کے حوالے کرنا تھا بلکہ بیرونِ ملک موجود ان اثاثوں پر بھی قبضہ حاصل کرنا تھا۔اندھے نے بانٹیں ریوڑیاں، وہ بھی اپنوں میں۔
