سمیرا سلیم کا بلا گ
وزیر داخلہ محسن نقوی کے اعترافِ نااہلی سے مجھے فوراً سینئر کالم نگار سہیل وڑائچ کا 29 دسمبر کا کالم یاد آ گیا، جس میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ الیکشن کے بغیر گرینڈ پلان میں ایک ’’ونڈر بوائے‘‘ کی ضرورت کو محسوس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے توجہ دلائی تھی کہ شہباز شریف سونا ہیں، مگر اب سونے نہیں، ہیرے کی ضرورت آن پڑی ہے۔ اس کالم کو سات ماہ بھی نہیں گزرے کہ محسن نقوی صاحب نے سسٹم کولیپس ہونے کا اعلان کر کے ایسے نظام کو چارج شیٹ کر دیا، جس کی بدولت حاصل ہونے والی طاقت سے وہ خود بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ملک میں 75 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے خوش نما دعوے زمین بوس، معاشی ماڈل کولیپس، دہشت گردی بے قابو، ملک قرضوں کی دلدل میں، جبکہ اربوں روپے کے لگژری جہاز، نظامِ عدل مکمل خاموش کرانے کے بعد سسٹم کولیپس کا اعلان پاکستانی کاکروچ کے ڈر سے کیا گیا ہے؟ بہرحال، خاص لوگوں کے بڑے خاص بندے نے اتنا بڑا اعلان کیا ہے تو مطلب ’’گل ودھ گئی اے‘‘۔ تاہم، ابھی اس راز سے پردہ اٹھنا باقی ہے کہ راج نیتی کے نئے کھیل میں کام ایک ونڈر بوائے سے ہی چل جائے گا یا پھر صدارتی نظام کی آمد کا وقت ہوا چاہتا ہے؟
دوسری طرف موجودہ سسٹم کے سب سے بڑے بینیفشری، پیپلز پارٹی اور ن لیگ، جس طرح آپس میں دست و گریباں ہیں اور ان کے درمیان جو رسہ کشی پچھلے کچھ ہفتوں سے جاری ہے، ایسے میں وزیر داخلہ نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر جھگڑنے اور کارکردگی کا راگ الاپنے والوں کا نہ صرف پوسٹ مارٹم کیا ہے بلکہ انہیں تنبیہ بھی کی ہے کہ اپنے گھوڑوں کی سمت درست کر لیں، ایسا نہ ہو کہ جن کی بدولت آپ پچھلے چار سال سے اقتدار کے مزے لے رہے ہیں، وہ پھر ریڈ لائن کراس کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ محسن نقوی کی گفتگو میں نظام کی پروردہ سیاسی قیادت کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ بندے کے پتر بنو یا نہ بنو، نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور نظامِ حکمرانی میں تبدیلی کی خواہش کو اب جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا۔
اگست کا مہینہ بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے اور محسن نقوی کے اس بیان کو ونڈر بوائے یا پھر صدارتی نظام کی جانب پہلی پیش رفت کہا جا سکتا ہے۔ اس نظام کی جو بازگشت بڑے عرصے سے سنائی دے رہی تھی، اب بظاہر لگتا ہے کہ اس پر عمل درآمد کا وقت آ گیا ہے۔
محسن نقوی نے جس طرح اپنے ہی وزیراعظم شہباز شریف کو چارج شیٹ کیا ہے اور طرزِ حکمرانی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں، اسے ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا۔ عوام کا جو درد اچانک محسن نقوی کے دل میں اٹھا ہے، اس کے پیچھے گرینڈ پلان میں ردوبدل اور ایک نئی آئینی ترمیم کی منصوبہ بندی نظر آ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا یوں دست و گریباں ہونا، ایک دوسرے پر مینڈیٹ چوری اور کرپشن کے الزامات لگانا، کہیں نہ کہیں گڑبڑ ہے کے اشارے تو دے ہی رہا تھا، مگر وزیر داخلہ کی تقریر سے معلوم ہوا کہ پوری دال ہی کالی ہے۔ ہواؤں کا رخ بدلنے لگا ہے، مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ الیکشن کے بغیر نئی تبدیلی کیا گل کھلائے گی؟
گزشتہ دنوں پیپرز لیک ہونے پر بھارت میں جو کچھ ہوا ہے، اس نے یقیناً حکمران اشرافیہ کے دل میں خوف پیدا کیا ہے کہ کہیں پاکستانی کاکروچ بھی بے قابو نہ ہو جائیں۔ کچھ ایسی ہی بات وزیر داخلہ نے بھی کہی ہے کہ اگر پاکستانی کاکروچ اکٹھے ہو گئے تو سب کچھ الٹ دیں گے۔ یہ بات کہہ کر ہمارے وزیر داخلہ نے حکمرانوں کو کچھ زیادہ ڈرا دیا ہے، وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی کاکروچ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے اس قسم کے ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو یہاں کی حکمران سیاسی قیادت اتنی فاترالعقل نہیں کہ ان سے مذاکرات جیسی فضول ایکسرسائز میں اپنا وقت ضائع کرے گی۔ ان کا استقبال ہماری شیر دل پولیس محض لاٹھیوں کے بجائے 26 نومبر جیسے مناظر سے کرے گی۔ بہرحال، راج نیتی کے نئے کھیل کا آغاز ہونے جا رہا ہے، دیکھتے ہیں کہ اس کھیل میں کون بلی چڑھتا ہے۔
