سمیرا سلیم کا بلاگ
پنجاب حکومت نے حال ہی میں صوبے بھر میں ایک بہت اچھا مصنوعی ذہانت پر مبنی صفائی ستھرائی کا وسیع نظام متعارف کرایا۔ اس منصوبے کی تعریف ن لیگ کے ناقدین بھی کرتے تھے۔ صاف ستھری شاہراہیں، گلی محلے اور شہر کس کو اچھے نہیں لگتے؟ مگر المیہ وہی کہ پنجاب حکومت کو میگا منصوبے لانچ کرنے کی بہت جلدی تھی۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ، بغیر فزیبلٹی اور ریسرچ کیے قومی خزانے سے 80 ارب مالیت کا میگا پراجیکٹ لانچ کر دیا، جس کے اب بھیانک نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
منصوبہ نہ صرف کرپشن کے الزامات کی زد میں ہے بلکہ مالی مشکلات، بدانتظامی اور تنازعات کا بھی شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ اس منصوبے سے سالانہ 70 ارب روپے ریونیو حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جو فی الحال ناکام جا رہی ہے۔ حکومت تاحال بمشکل ایک ارب روپے کے لگ بھگ اکٹھے کر سکی ہے۔ اتنا تو حکومت نے کمایا نہیں، جتنا صرف ایک ضلع فیصل آباد میں کرپشن کی نذر ہو گیا۔
حالات یہ ہیں کہ ستھرا پنجاب کے پاس ملازمین کو تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں، اور ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ یہاں تک کہ ایک ملازم کی خودکشی کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ جس ادارے کو بنے چند ماہ ہی ہوئے ہوں اور وہاں کا ملازم تنخواہ نہ ملنے پر خودکشی کر لے، اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے؟ غریب کو اپنی محنت کی اجرت بھی نہ ملے تو وہ کس کے در پر جائے؟
کبھی عدالتیں ہوتی تھیں جو ازخود نوٹس لے کر مظلوموں کی داد رسی کر لیا کرتی تھیں۔ بابو بھی ڈرتے تھے کہ ہائیکورٹ طلب کر لے گی۔ سرکار کی مہربانی سے یہ خوف بھی نہ رہا۔ اب سب کی موجیں لگی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مظلوم کو صرف موت کا آسرا ہے، اور بالآخر وہ اسی کا رخ کرتا ہے۔
ان حالات تک پہنچانے والے ظالموں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والا کوئی نہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں صفائی کے ایک لاکھ 76 ہزار 846 ملازمین ہیں، جن میں سے بیشتر اضلاع کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جا سکی۔ اب فنڈز کا رونا رویا جا رہا ہے۔
فنڈز کی کمی، صفائی کے ٹیکس کی ناکافی وصولی اور پرائیویٹ کنٹریکٹرز کے ساتھ تنازعات کی وجہ سے صفائی کا یہ منصوبہ چند ماہ بعد ہی ناکامی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ 80 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کا حساب کتاب اب کون دے گا؟
ستھرا پنجاب اتھارٹی نے حکومت سے 30 ارب روپے سے زائد کی رقم مانگی، تاہم اخباری اطلاعات کے مطابق تقریباً 10 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اب ستھرا پنجاب اتھارٹی اور کنٹریکٹرز ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔
اتھارٹی کے حکام کہتے ہیں کہ کوڑا جمع کرنے کے مراکز قائم کرنا اور گھر گھر جا کر کوڑا اٹھانے کو یقینی بنانا ٹھیکیداروں کی ذمہ داری تھی، مگر انہوں نے اپنے کام میں غفلت برتی۔ اب اتھارٹی نے ٹھیکیداروں پر تقریباً 11 ارب روپے کے جرمانے عائد کر دیے ہیں، جس سے تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ظاہر ہے، جب آپ اتنے بڑے صوبے کو بغیر کسی منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی کے لاہور سے بیٹھ کر چلائیں گے تو پھر یہی نتائج سامنے آئیں گے۔
نئے صوبے بنانے کی بات ہو تو سب جماعتیں ایک ہو جاتی ہیں، کیونکہ مفادات یکساں ہیں۔ پنجاب اور سندھ پر حکمرانی کو اپنا حق سمجھنے والے خاندان اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح پر منتقل نہیں کرنا چاہتے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہر سال ملنے والے اربوں روپے پر مزاجِ بادشاہی اپنا اختیار کیونکر چھوڑے؟ 1972ء میں 6 کروڑ آبادی والا ملک آج 25 کروڑ آبادی کے ساتھ بھی صرف چار صوبوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
ستھرا پنجاب کے ٹھیکیداروں نے جرمانے واپس لینے کا مطالبہ کر رکھا ہے اور صفائی کے عملے کو تنخواہوں کی ادائیگی روک دی ہے۔ سزا غریب ملازمین کو دی جا رہی ہے۔ اب ملازمین کے پاس احتجاج کے علاوہ اور کیا آپشن بچا ہے؟شاہی حکمرانوں کی یہ روایت رہی ہے کہ ان کا کوئی بھی میگا منصوبہ کرپشن کے الزامات سے خالی نہیں رہا۔ اب فلیگ شپ منصوبہ ستھرا پنجاب بھی ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کا روپ دھارتا جا رہا ہے۔
