• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, اگست 11, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

بلوچستان کے لاوارث عوام

by ویب ڈیسک
اگست 11, 2026
in بلاگ
0
پاکستان میں سیلولر صارفین کی تعداد کتنے کروڑ تک جا پہنچی ؟حیران کن اعدادو شمار جاری
0
SHARES
11
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیرا سلیم کا بلاگ

بلوچستان کے لوگوں نے بھی کیا قسمت پائی ہے، کبھی دہشت گردی سے نبرد آزما ہوتے ہیں تو کہیں صوبائی حکومت اور وفاق میں بیٹھے حکمرانوں کی بے حسی زندگی مشکل تر کر دیتی ہے۔ اس صوبے کے وسائل کو سب اپنا مال سمجھتے ہیں، مگر جب یہاں کی عوام کو کسی آفت کا سامنا ہو تو ان کے حصے میں کچھ نہیں آتا۔

سال 2022 میں بلوچستان کو تباہ کن سیلاب کا سامنا ہوا تو اس کے زیادہ تر متاثرین میں چھوٹے کسان، مزدور، دیہاڑی دار اور غریب طبقہ شامل تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے بڑے بڑے دعوے کیے۔ ورلڈ بینک نے بھی ان سیلاب متاثرین کے لیے 400 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی، جس میں سے 155 ملین ڈالر نئے گھروں کی تعمیر کے لیے رکھے گئے تھے۔

آج سیلاب کو گزرے تین سال ہونے کو ہیں اور وفاق و صوبائی حکومت اپنے گھر کھونے والے 1 لاکھ 34 ہزار سے زائد تصدیق شدہ متاثرہ خاندانوں کے لئے مضبوط اور محفوظ رہائش کی فراہمی سے انکاری ہو گئی ہے، جس پر عالمی بینک چیخ اٹھا ہے۔

عالمی بینک کے مالی تعاون سے چلنے والے منصوبے کی نگرانی کرنے والی اسٹیئرنگ کمیٹی نے رہائشی حصے کو تقریباً 69 ہزار یونٹس تک محدود کر دیا، جبکہ 400 ملین ڈالر کے اس پروگرام کی باقی ماندہ رقم سڑکوں اور آبپاشی کے شعبوں کی طرف منتقل کر دی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ورلڈ بینک نے 180 ملین ڈالر کی اضافی مالی معاونت واپس لے لی ہے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ متاثرین کے لیے اربوں روپے مالیت کے محفوظ رہائشی مکانات کے پروگرام سے فنڈز کا رخ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی جانب موڑنے سے بلوچستان میں غربت مزید بڑھ جائے گی۔

عوام کو شاید یاد ہو کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات سستی ہوئیں تو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے سستے ہونے کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچا سکتے کیونکہ ہم بلوچستان کی سڑکیں بنانا چاہتے ہیں۔3 سال سے دربدر ان متاثرین کو چھت فراہم کرنا ضروری نہیں، سڑکوں کی تعمیر ان کے نزدیک زیادہ اہم ہے۔ کیا شہباز شریف کا ہر خاندان کے لیے ’مضبوط اور پائیدار‘ رہائش کی فراہمی کا وعدہ محض سیاسی اسٹنٹ تھا؟

عالمی بینک کو یہ نہیں معلوم کہ ہماری حکمران اشرافیہ کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ عوام پر کیا گزر رہی ہے یا کیا گزرے گی۔ حکمران تو چاہتے ہیں یہی ہیں کہ عوام کو ایک وقت کی روزی روٹی میں اتنا الجھا دو کہ وہ باقی معاملات پر آواز بلند نہ کر سکیں۔

بلوچستان کے ان بے سہارا متاثرین کی فکر ہم سے زیادہ ورلڈ بینک کو ہے اور انہوں نے وفاقی اور بلوچستان کی حکومتوں کو مراسلہ بھیجا ہے، جس میں انہوں نے ان سنگدل اور بے حس حکمرانوں کو جگانے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ ان مستحق گھرانوں کی سماجی و اقتصادی حیثیت اتنی مضبوط نہیں، جس کے پیشِ نظر خطرہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہ رہائشی معاونت سے محروم رہیں گے، بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ ان محرومیوں میں شدت آ جائے گی اور وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہری ہوتی جائیں گی۔عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورومہ امگابازار نے تو فراڈ اور کرپشن کے معاملات سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

ورلڈ بینک بھی حیران ہے کہ یہ پاکستانی حکومت آخر کیا کھیل کھیل رہی ہے۔ مستحقین کا پیسہ اپنے مزاجِ شاہی کی تسکین کے منصوبوں پر کیسے خرچ کر سکتی ہے؟ بینک نے حکومت کو بتایا کہ 84 فیصد اہل مستحقین انتہائی غریب اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں سے 28 فیصد کی ماہانہ آمدنی 30 ڈالر سے کم اور 26 فیصد کی آمدنی 31 سے 70 ڈالر کے درمیان ہے۔

اس کے علاوہ، 39 فیصد کرایہ دار ہیں، 37 فیصد دیہاڑی دار مزدور ہیں اور 8 فیصد چھوٹے کسان ہیں۔ ورلڈ بینک شاید ان حکمرانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ان متاثرین کے پاس بچت محدود ہوتی ہے اور رسمی قرضوں تک رسائی بھی کمزور ہے۔ ان کو حکمرانوں کی طرح ہر براعظم میں جائیدادیں رکھنے کی سہولت بھی میسر نہیں، لہٰذا یہ غریب معاشی جھٹکوں اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی اتنی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ان پر کچھ رحم کریں۔ لیکن دیکھتے ہیں کہ عوام کے خون سے اپنی خواہشات کی تسکین کرنے والے ورلڈ بینک کو کیسے رام کرتے ہیں۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In