• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اگست 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

لاکھوں ٹن گندم جن کھا گئے یا بھوت؟

by ویب ڈیسک
اگست 14, 2026
in بلاگ
0
پنجاب میں گندم کی سرکاری خریداری کم ہونے پر کسان پریشان، فی من قیمت 3000 تک گرگئی
0
SHARES
17
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سمیرا سلیم کا بلاگ

پاکستانی عوام کچھ حیرت میں مبتلا ہے کہ کٹائی کے ایک ماہ بعد ہی گندم منڈیوں سے کیسے غائب ہو گئی۔ زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا، گندم کے ساتھ آخر ہوا کیا؟ نگران حکومت سے لے کر موجودہ نظام تک شوگر اور گندم کا گورکھ دھندہ اور باریک واردات عوام سمجھ نہیں سکے۔

نگران دورِ حکومت میں گندم کا ایک بڑا اسکینڈل آیا، جب گندم کی فصل پکنے کو تیار تھی تو 250 ارب روپے کی 28 لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کر لی گئی، اور وہ بھی گلی سڑی۔ واردات وہی ہے، بس ٹرینڈ بدلا ہے۔ پہلے سال کے اختتام پر آٹے اور گندم کی قلت کا رولا ڈالا جاتا تھا۔

اب کی بار 2 کروڑ 96 لاکھ 10 ہزار ٹن گندم کی پیداوار کے باوجود صوبوں کو 22 لاکھ ٹن گندم کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنی گندم وفاقی حکومت درآمد کر رہی ہے، اتنی تو صرف پنجاب کو چاہیے، جو ملک کا اناج گھر سمجھا جاتا ہے اور گندم کی پیداوار میں 75 سے 77 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔گندم اچانک غائب ہونے کے بعد حکومت نے بیرونِ ملک کسانوں کو نوازنے کی تیاری پکڑ لی ہے۔ نگران حکومت سے موجودہ حکومت نے صرف گندم امپورٹ کے لیے 1 ارب 10 کروڑ ڈالر غیر ملکی کسانوں کی جھولیوں میں ڈال دیے۔ اربوں ڈالر کی گندم عالمی منڈی سے خریدنا اب معمول بن گیا ہے۔ تقریباً 34 کروڑ ڈالر سے پھر 10 لاکھ ٹن خریدنے جا رہے ہیں۔79 سالہ زرعی پالیسیوں اور ناقص طرزِ حکمرانی سے ملکی کسان نیم جان پڑا ہے۔

اب ایک نئی کہانی سامنے آئی ہے، ادھر گندم امپورٹ ہو رہی ہے تو ادھر پنجاب کا محکمہ فوڈ سیفٹی کہتا ہے کہ پنجاب میں تو 5.4 ملین میٹرک ٹن گندم سرپلس موجود ہے، اور یہ کہ پنجاب سے 4.5 ملین میٹرک ٹن گندم غائب ہونے کا تاثر بھی غلط ہے۔ بھئی، اگر ایسی بات ہے تو پھر کروڑوں ڈالر غیر ملکی کسانوں کی جیبوں میں ڈالنے کے لیے گندم درآمد کیوں کی جا رہی ہے؟حکومتی رویوں اور غلط فیصلوں کی وجہ سے کسان کی حالتِ زار وقت کے ساتھ ساتھ بگڑ رہی ہے۔ کیا آئی ایم ایف نے بھی قسم کھا رکھی ہے کہ پاکستان کے غریب غربا کی جیبوں پر ہی ڈاکہ ڈالنا ہے، چاہے وہ مہنگی بجلی، مہنگی گیس، مہنگی کھاد، مہنگے پٹرول اور زرعی و دیگر ٹیکسوں کی صورت میں ہو یا پھر درآمد شدہ گندم اور چینی۔آئی ایم ایف اتنا سمجھدار تو ہے کہ وہ حکمران اشرافیہ کو کچھ نہیں کہتا، چاہے وہ اربوں کے لگژری طیارے خریدیں یا پھر پُرتعیش زندگی کے لیے بے تحاشا مراعات لیں، بس اگر مسئلہ ہے آئی ایم ایف کو تو وہ صرف کسان اور مزدور طبقے سے، جسے دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ آئی ایم ایف ان کو کہتا ہے کہ 8 ارب ڈالر کی دالیں اور اناج امپورٹ کرو۔آئی ایم ایف ایک ایسا ڈرامہ ہے جو حکومت عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے رچاتی آ رہی ہے۔ فیصلہ آپ کریں کہ گندم بحران کی ذمہ دار حکومتی پالیسیاں ہیں یا پھر آئی ایم ایف؟

حکومت نے رٹ لگائی ہوئی تھی کہ گندم کی سپورٹ پرائس آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے نہیں رکھ سکتے۔ مہنگی بجلی، مہنگی کھاد، مہنگے بیج کے باوجود کسان کو اپنی فصل 2800 روپے سے 3200 روپے میں بیچنا پڑی۔ حکومت نے آئی ایم ایف کا بہانہ بنا کر اپنے کسانوں سے گندم کی خریداری تک نہ کی اور ان کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔اب قیمتی زرمبادلہ بیرونِ ملک کسانوں پر لوٹانے میں ذرا برابر بھی تکلیف نہیں ہو رہی، بس اپنا کسان موجودہ نظام کو خوشحال نظر نہیں آنا چاہیے۔ زراعت کا شعبہ آخری سانسیں لے رہا ہے اور اس کی دوا کرنے والا بھی کوئی نہیں۔

ہمارا ہمسایہ ملک بھارت اپنے کسانوں کو 600 یونٹ تک مفت بجلی کے علاوہ کھاد وغیرہ پر بھی بھاری سبسڈی دیتا ہے، اسی طرح چین بھی کسانوں کو بھاری سبسڈی دے رہا ہے۔ مگر پاکستانی حکومت کسانوں کو ان کی فصلوں کا معقول معاوضہ بھی نہیں دے رہی۔ بھارتی کسان خوشحال جبکہ پاکستانی کسان بے حال ہے۔اربوں روپے کا نقصان اٹھانے کے بعد اب کسان اتحاد دھمکی دے رہا ہے کہ یا تو وزیر اعلیٰ مریم نواز استعفیٰ دے دیں، نہیں تو وہ لانگ مارچ کریں گے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کو بھی اب گندم کرائسس پر وائٹ پیپر جاری کرنا یاد آیا ہے۔مگر مدّعا یہ ہے کہ اگر اپوزیشن نے کچھ ذمہ داری سے ان معاملات پر اپوزیشن کی ہوتی تو شاید حالات مختلف ہوتے۔ موجودہ نظام میں تو ہومیو پیتھک اپوزیشن بھی نہیں ہے۔ جتنی خراب کارکردگی موجودہ حکومت کی ہے، اگر اپوزیشن نے عمران خان پر سیاست کرنے کی بجائے قومی مسائل پر سیاست کی ہوتی تو حکومت کے دن کب کے گنے جا چکے ہوتے۔کسان کے فی ایکڑ اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں، زراعت اب ان کے لیے گھاٹے کا سودا ہے، مگر پھر بھی وہ کاشتکاری کرنے پر مجبور ہے۔ تقریباً ہر حکومت نے کسان کو نظر انداز کیا۔ حکومت کو ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ زراعت اور کسان کی خوشحالی کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In