• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعرات, جولائی 30, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home پاکستان

ایک آنکھ ضائع ہونے اور دوسری کو خطرے کا دعویٰ،بشریٰ بی بی نے سزا کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا

by ویب ڈیسک
جولائی 30, 2026
in پاکستان
0
عدت نکاح کیس: بشریٰ بی بی کی سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کی درخواست
0
SHARES
10
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ اور اڈیالہ جیل میں قید بشرٰی بی بی نے نیب ریفرنس میں سزا کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں فوجداری اپیل دائر کر دی ہے۔ بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں 30 اپریل 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سزا معطلی کی درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اپیل نیب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 32A اور آئین کے آرٹیکل 175F کے تحت دائر کی گئی ہے، جبکہ ریاست پاکستان اور قومی احتساب بیورو (نیب) کو فریق بنایا گیا ہے۔

اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 30 اپریل 2026 کو فوجداری اپیل نمبر 64/2025 میں دائر درخواست نمبر 340/2025 پر سنایا گیا فیصلہ قانون کے منافی ہے۔ مؤقف کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانون کے طے شدہ اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سزا معطلی کی درخواست مسترد کی، عدالت نے کیس کے میرٹ پر کوئی بات نہیں کی، حالانکہ اس سے قبل نیب کی درخواست یہ قرار دے کر مسترد کی جا چکی تھی کہ بشرٰی بی کی درخواست قابلِ سماعت ہے۔

اپیل میں سات اہم نکات اٹھائے گئے ہیں۔ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 54 سالہ بشرٰی بی بی پاکستان کی سابق خاتون اول ہیں، انہیں صرف "معاون اور سہولت کار” قرار دے کر سات سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ پراسیکیوشن ان کے مبینہ "اہم کردار” کو ثابت کرنے میں ناکام رہی۔

اپیل میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ جیل میں قید کے دوران بشرٰی بی کو آنکھ کا عارضہ لاحق ہوا، جس کے باعث انہیں علاج اور سرجری کے لیے جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کی موجودہ طبی حالت بذاتِ خود سزا معطلی اور رہائی کا قانونی جواز بنتی ہے۔

اپیل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعات 426 اور 497 کے تحت سزا معطلی اور ضمانت کے اصول ایک جیسے ہیں، جبکہ دفعہ 497 کی پہلی شق کے مطابق بیمار خاتون ملزمہ کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہیے۔ مزید کہا گیا کہ دفعہ 426(1-A) کے تحت بشرٰی بی بی سزا معطلی کی قانونی حقدار بن چکی ہیں۔

درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بشرٰی بی کو جیل میں تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، انہیں کسی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور مناسب طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔

اپیل میں عدالت کو یاد دلایا گیا کہ ٹرائل کے دوران بشرٰی بی بی ضمانت پر تھیں اور اس وقت تک استغاثہ کے 35 میں سے بیشتر گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے تھے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ گزشتہ ایک سال سے نیب جان بوجھ کر بشرٰی بی اور عمران خان کی درخواستوں پر سماعت میں تاخیر کر رہا ہے۔

اپیل میں بتایا گیا ہے کہ 16 اپریل 2026 کو بشرٰی بی بی کی ایک آنکھ کا آپریشن کیا گیا، جبکہ اب دوسری آنکھ کے علاج کے لیے بھی انہیں دوبارہ ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ نہ اہلِ خانہ کو میڈیکل ریکارڈ فراہم کیا گیا اور نہ ہی آپریشن سے قبل ان کی تشویشناک حالت سے آگاہ کیا گیا۔

درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر فوری علاج نہ کیا گیا تو دوسری آنکھ کی بینائی بھی ضائع ہو سکتی ہے اور بشرٰی بی مکمل طور پر نابینا ہو سکتی ہیں۔ اپیل میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ بیماری دورانِ قید لاحق ہوئی، جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث ایک آنکھ متاثر ہو چکی ہے جبکہ دوسری آنکھ بھی خطرے سے دوچار ہے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426(1-A) کے تحت سزا معطلی عدالت کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی تقاضا ہے، کیونکہ قانون میں لفظ "shall” استعمال کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپیل میں تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہو اور مقررہ قانونی مدت گزر جائے تو سزا معطل کرنا اصول جبکہ انکار استثنائی صورت ہے۔ اس مؤقف کے حق میں سپریم کورٹ کا فیصلہ PLD 2007 SC 564 بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ بشرٰی بی کا مقدمہ دفعہ 426(1-A) کے استثنائی معاملات میں شامل نہیں، کیونکہ نہ انہیں عمر قید یا سزائے موت سنائی گئی ہے، نہ وہ خطرناک مجرم ہیں اور نہ ہی دہشت گردی کے کسی مقدمے میں ملوث ہیں۔ وکیل کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر قانونی غلطی کی کہ اس مرحلے پر میرٹ پر بات نہیں کی جا سکتی، جبکہ قانون کے مطابق سزا معطلی کے مرحلے پر شواہد کا ابتدائی جائزہ لیا جا سکتا ہے اور جب دفعہ 426(1-A) کے تحت قانونی حق پیدا ہو جائے تو صرف میرٹ کی بنیاد پر سزا معطل کرنے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

بشرٰی بی بی نے وفاقی آئینی عدالت میں اپیل کے ساتھ تاخیر معافی کی الگ درخواست بھی دائر کی ہے۔ یہ درخواست سپریم کورٹ رولز 2025 کے آرڈر XXXV رول 6 اور آرڈر XXIII رول 1 کے تحت جمع کرائی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کے خلاف پہلے ہی فوجداری اپیل نمبر 64/2025 دائر کی جا چکی تھی جبکہ فوری ریلیف کے لیے 19 مارچ 2025 کو سزا معطلی کی درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔

درخواست کے مطابق سزا معطلی کی یہ درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک سال سے زائد عرصہ زیرِ التوا رہی، اس دوران 16 مرتبہ سماعت مقرر ہوئی لیکن ہر بار نیب کی جانب سے کارروائی میں تاخیر کی گئی، جس کے باعث موجودہ اپیل مقررہ وقت میں دائر نہ ہو سکی۔ بشرٰی بی بی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ تاخیر معاف کرتے ہوئے 30 اپریل 2026 کے فیصلے کے خلاف ان کی اپیل کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

دانیال ہاشمی کی ایکسکلوسِو رپورٹ

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In