• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, جولائی 29, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

ترقی موسموں کو کھا گئی

by ویب ڈیسک
جولائی 28, 2026
in بلاگ
0
آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی ،کہاں کہاں موسم گرم اور خشک رہے گا َ؟
0
SHARES
10
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سمیرا سلیم کا بلاگ

ہر سال مون سون کا سیزن آتا ہے اور محکمہ موسمیات بھی الرٹ جاری کرتا یے، اس کے باوجود لاہور سے کراچی اور پشاور تک سب بڑے شہر محض بارش سے ہی ڈوب جاتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دعویٰ کرتی ہیں کہ انھوں نے اربوں روپے خرچ کر کے نکاسی آب، سیوریج اور سڑکوں کا نظام بہترین بنا دیا ہے۔ اب حکمرانوں کے خودساختہ پیرس لاہور کو ہی دیکھ لیجیے، ترقیاتی منصوبہ بندی ایسی شاندار کے انڈر پاسز اور علاقے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں، جن سڑکوں پر ن لیگ فخر کرتی ہے وہ اتنی غیر معیاری نکلیں کہ ایک بارش برداشت نہ کر سکیں اور زمین میں دھنس گئیں۔ سال 2025 میں نیشنل اکنامک کونسل نے لاہور کے سیوریج نظام کی اپ گریڈیشن کے لیے 50 ارب روپے کی منظوری دی تھی۔ وہ 50 ارب کہاں گیا کچھ پتہ نہیں پھر رواں برس کے اوائل میں سیوریج و نکاسی آب کے حل کیلئے 200 ارب مالیت کے بڑے منصوبے شروع کرنے کے دعوے سامنے آئے۔یہی نہیں مارچ میں لاہور کے سیوریج کے نظام کی مکمل اصلاح کے لیے 141 ارب روپے لاگت کا ایک اور نیا منصوبہ لانچ ہوا ، افسوس کہ اربوں روپے کا یہ منصوبے بھی کوئی چمتکار نہ دکھا سکے۔

اربوں روپے کے متعدد منصوبوں کی اس بازگشت کے برعکس اس بار تو ایسا لگا جیسے پانی کو کہیں سے بھی نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا، پھر پانی نے اپنی جگہ خود بنائی ، ہسپتالوں اور گھروں سے لیکر شاپنگ مالز اور دکانوں میں بس پانی کا ہی راج تھا۔ تقریباً پورا لاہور ہی حکومتی نااہلی کے باعث ڈوبا ہوا تھا۔ لوگوں کے قیمتی سامان برباد ہوئے، کاروبار متاثر ہوئے۔ ہر سال حکومتیں monsoon preparedness plan شیئر کرتی ہیں لیکن جب وقت آتا ہے تو آپ کو کوئی تیاری نظر نہیں آتی۔ ایک وقت تھا جب مون سون کا سیزن نعمت تصور کیا جاتا تھا مگر اب ناقص حکمرانی کے باعث باران رحمت زحمت کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ جون کے آخر سے شروع ہونے والی بارشوں سے ڈوبنے اور کرنٹ لگنے سے ملک بھر میں 107 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ۔

ایک بار پھر مون سون نے انتظامیہ کی مون سون سے نمٹنے کی تیاریوں کی قلعی کھول دی ہے۔ ملک میں جہاں ایک طرف سخت موسمی حالات کا سامنا ہے وہیں تیزی سے ہاوسنگ سوسائٹییز اور ڈویلپمنٹ پراجیکٹس نے گرین کور کو کم کر کر دیا ہے۔ ترقی کے نام پر اسلام آباد میں 40 ہزار سے زائد درختوں کا قتل عام کیا گیا، اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے مون سون کی نوعیت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اب بادلوں کا پھٹنا بھی معمول بن گیا ہے، جو کبھی عجیب سی حیرت میں ڈال دیتا تھا کہ کلاؤڈ برسٹ کس بلا کا نام ہے اور یہ کیسے پھٹتا ہو گا۔ مہربانی ان حکمرانوں کی جن کے ترقی کے نام پر سریا اور سیمنٹ کے پہاڑ کھڑے کرنے کے ویژن نے ہمیں یہ دن دیکھنے پر مجبور کر دیا۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In