سمیرا سلیم کا بلاگ
ایسا شاید پہلی بار ہے کہ تحریک انصاف نے کھیلے بغیر ہی چھکا مار دیا ہے۔ پی ٹی آئی نے جب 27 ستمبر کی احتجاجی کال دی تھی تو بچہ بچہ جانتا تھا کہ اندرونی اختلافات کا شکار پارٹی کبھی کامیاب احتجاج نہیں کر پائے گی۔ مگر حکومتی ردعمل نے احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی اسے کامیاب بنا دیا۔ لانگ مارچ ہو نہ ہو، حکومت نے بتا دیا ہے کہ وہ اس وقت شدید نفسیاتی دباؤ میں ہے اور اپنا تخت بچانے کے لیے ہر حد پار کرے گی۔
ان ہتھکنڈوں سے چاہے عوام خوار ہوں، بچے اسکول نہ جا سکیں، فوڈ سپلائی متاثر ہو، لوگ گھروں میں بھوکے پیاسے محصور ہو جائیں، امپورٹ ایکسپورٹ میں خلل پڑے، ٹیکس دہندگان کا پیسہ کنٹینرز کے کرایوں یا پنجاب پولیس کے 22 ہزار اہلکاروں کی مہمان نوازی پر اڑایا جائے، انہیں کوئی پرواہ نہیں۔
حیرت ہے کہ ایک قیدی میں ایسا بھی کیا ہے کہ اس کا خوف طاقت کے بھرپور سائے تلے پلنے والی حکومت کے گوڈے گٹوں میں بیٹھ گیا ہے۔
ابھی بارات پہنچی نہیں اور اسلام آباد کنٹینروں میں محصور ہو گیا ہے، اور پھر وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ احتجاج ہمیں یومیہ بہت بھاری پڑے گا ۔ حضور، کس نے آپ کو مشورہ دیا کہ سامان سے لدے کنٹینرز ضبط کر لیں، روڈ بلاک کرکے معیشت کا پہیہ جام کر دیں، عدالتی فیصلے کی حکم عدولی کریں۔
ایک کنٹینر کا ایک دن کا کرایہ 20 ہزار ہے اور اطلاعات کے مطابق اب تک ایک ہزار کنٹینرز کو قبضے میں لیا گیا ہے۔ اس حساب سے صرف 15 دن کا کرایہ 30 کروڑ روپے بنتا ہے، ابھی اس میں ان کنٹینرز کی قیمت شامل نہیں جو خاردار کیلوں کی وجہ سے تباہ ہو گئے۔
ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ 2024 میں حکومت کو 1641 کنٹینرز کے کرایوں کی مد میں مالکان کو 24 کروڑ سے زائد روپے ادا کرنا پڑے، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی اسمبلی میں ایک تحریری جواب میں بتایا تھا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں صرف احتجاج کو مینیج کرنے پر 1.35 ارب روپے سے زیادہ اخراجات آئے ہیں۔
وہ تمام سیاسی جماعتیں جو اس وقت اقتدار میں ہیں یا اتحادی ہیں، خان کے تین سالہ دورِ اقتدار میں لانگ مارچ کرتی آئی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ ہو یا بلاول بھٹو اور مریم نواز کا مہنگائی مکاؤ مارچ، سب نے سڑکوں پر احتجاج کیے۔ دھرنوں کی سیاست کا موجد اگر عمران خان ہے تو اس ٹرینڈ کی پیروی حریف جماعتوں نے خوب کی۔
خان کے دورِ حکومت میں عالمی مارکیٹ میں پیٹرول 120 ڈالر اور پاکستان میں 140 سے 150 روپے فی لیٹر تھا تو انہی سیاسی جماعتوں اور میڈیا نے ایک طوفان برپا کر رکھا تھا۔ مگر کبھی یہ نوبت نہیں آئی کہ اسلام آباد کو مکمل بند کر دیا گیا ہو۔ اب یہ حالت ہے کہ ہفتہ بھر پہلے ہی ہر چوک، چوراہا کنٹینروں کے گھیرے میں ہے۔
جب سے عمران خان جیل میں ہے، پارٹی کی آزاد قیادت کبھی سیم پیج پر نظر نہیں آئی، ان حالات میں احتجاج کی کال نے شہباز سرکار کو حواس باختہ کر دیا ہے۔ خوف میں ایسے ایسے خوفناک اقدامات کیے جا رہے ہیں جیسے بیرونی حملہ آوروں کا کوئی لشکر اسلام آباد فتح کرنے چل پڑا ہو، جس سے بچانے کے لیے کنٹینروں کا جال بچھا دیا گیا ہے۔
ملک کی باگ ڈور محسن نقوی اور ان کے بڑوں کو تھما کر خود شہباز شریف دو ہفتے قبل ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بہانے بیرونِ ملک سے نکل گئے۔ چند لندن کی ٹھنڈی فضاؤں سے لطف اندوز ہوئے اور اب امریکہ پہنچ گئے ہیں۔ مطلب واضح ہے کہ ملک کے اصلی وارث جانیں اور احتجاج جانے، ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔
احتجاج سے 15 دن پہلے ہی معیشت اور اسلام آباد کو مفلوج کرنے کا پلان موجودہ نظام نے خود بنایا، اور عدالتی احکامات نے بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑا۔ عدالتیں بھی حکومت کے ہاتھوں اپنے ہی احکامات کا مذاق اڑتے دیکھ رہی ہیں۔ ملک کا ہر شعبہ تباہ پڑا ہے۔ تجربہ کار حکومت نے عدلیہ، انتظامیہ و سیکیورٹی اداروں سے لے کر معاشی اداروں تک سبھی کو وینٹی لیٹر پر ڈال دیا ہے۔
حیرت ہوتی ہے کہ ایک بند پڑی اسٹیل ملز نے 3 سال میں 79 ارب کا خسارہ دیا، پی آئی اے نجی ملکیت میں جا چکی لیکن پھر بھی خسارے میں ہے، اور یہ بوجھ بھی عوام برداشت کرے گی کیونکہ حکومت تجربہ کار ہے۔


