• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, ستمبر 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home پاکستان

برطانیہ کی مدد سے پاکستان میں ٹیکس چوری کے خلاف ’ڈیجیٹل آئی‘ متحرک، تمام 27 سیمنٹ فیکٹریوں کی نگرانی شروع

by Ahmed Arsalan
ستمبر 22, 2026
in پاکستان
0
برطانیہ کی مدد سے پاکستان میں ٹیکس چوری کے خلاف ’ڈیجیٹل آئی‘ متحرک، تمام 27 سیمنٹ فیکٹریوں کی نگرانی شروع
0
SHARES
21
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پاکستان میں ٹیکس وصولی اور صنعتی پیداوار کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جسے ’ڈیجیٹل آئی‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل آئی (Digital Eye) سسٹم اب پاکستان کے تمام 27 سیمنٹ کارخانوں میں پیداوار کی نگرنی کر رہا ہے، جس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ٹیکس قوانین کی پاسداری مضبوط بنانے اور عوام کی فلاح و بہبود کی خدمات کے لیے ریونیو جمع کرنے میں مدد مل رہی ہے۔


یہ سسٹم، جس کا پہلا پائلٹ منصوبہ 2023 میں شروع کیا گیا تھا، جدید ویڈیو اینالیٹکس (video analytics) کے ذریعے پروڈکشن لائنز کی برائے راست (ریل ٹائم) نگرانی کرتا ہے۔ اس سے کارخانوں اور ایف بی آر کو پیداوار کا ایک آزادانہ ریکارڈ حاصل ہوتا ہے۔ ایف بی آر کے موجودہ ‘ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم’ (Track and Trace System) کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے، یہ ٹیکس حکام کو پیداوار کے بارے میں بہتر آگاہی فراہم کرتا ہے اور دستی تفتیش (manual inspection) و کاغذی کارروائی پر انحصار کو کم کرتا ہے۔


برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ایف بی آر کے سینئر حکام کے ہمراہ فیکٹو سیمنٹ (Fecto Cement) کا دورہ کیا تاکہ اس ٹیکنالوجی کی عملی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ دورے کے دوران، انہوں نے پروڈکشن لائن کا معائنہ کیا، مانیٹرنگ سسٹم کا مشاہدہ کیا اور اس بات پر بریفنگ حاصل کی کہ یہ ٹیکنالوجی ٹیکس انتظامی اصلاحات میں کس طرح معاون ثابت ہو رہی ہے۔


برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ (CMG OBE) کا اس موقع پر کہنا تھا کہ "ڈیجیٹل آئی، برطانیہ اور پاکستان کے باہمی تعاون سے عملی تبدیلی لانے کی ایک بہترین مثال ہے۔ پاکستان میں تیار کردہ اور اب ایف بی آر کی جانب سے ملک بھر میں استعمال ہونے والا یہ سسٹم ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکس تعمیل کو مضبوط بنانے، منصفانہ مقابلے کی فضا قائم کرنے اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے جدت طرازی کو کس طرح وسیع پیمانے پر اپنایا جا سکتا ہے۔ برطانیہ کو فخر ہے کہ اس نے تکنیکی مہارت کے ذریعے اس سفر میں تعاون کیا، اور ساتھ ہی اس ادارے کی پائیداری کے لیے ضروری صلاحیتوں کی تعمیر میں بھی مدد فراہم کی۔”


چیف ریفارمز اینڈ ماڈرنائزیشن، ایف بی آر ڈاکٹر نجیب اللہ کا کہنا ہے کہ "نتائج خود بولتے ہیں۔ ریل ٹائم پروڈکشن مانیٹرنگ نے سیمنٹ اور چینی کے شعبوں میں ٹیکس تعمیل کو پہلے ہی مضبوط کیا ہے، اور یہ کام ٹیکس ادا کرنے والے قانون پسند افراد پر مزید بوجھ ڈالے بغیر کیا گیا ہے۔ اب ہماری توجہ اس ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے، درستگی کو بہتر بنانے، اپنی ٹیموں کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور اس سسٹم کو مزید شعبوں تک پھیلانے پر ہے۔ پیداوار کا درست ڈیٹا ان کاروباری اداروں کا تحفظ کرتا ہے جو ایمانداری سے ٹیکس ڈکلیئر کرتے ہیں۔ ہم برطانیہ کے تکنیکی تعاون (REMIT) کے مشکور ہیں اور اس طریقہ کار کو دیگر شعبوں میں بھی نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”


ایک پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنی کا تیار کردہ یہ حل برطانیہ کے تکنیکی تعاون سے ٹیسٹ اور بہتر بنانے کے بعد ملک بھر میں نافذ کیا گیا۔ یہ منصوبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی جدت طرازی کو بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے قومی سطح کی اصلاحات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی اور اس کے پیچھے موجود اصلاحات افریقی ممالک کی توجہ بھی حاصل کر رہی ہیں، جو ٹیکس تعمیل کو جدید بنانے کے لیے پاکستان کے تجربات سے الاستفادہ کرنا چاہتے ہیں۔


یہ سسٹم ایف بی آر کے پہلے سے موجود ‘ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم’ کی تکمیل کرتا ہے۔ جہاں ٹریک اینڈ ٹریس پروڈکشن لائن سے نکلنے والی مصنوعات کا ریکارڈ رکھتا ہے، وہیں ‘ڈیجیٹل آئی’ اے آئی ویڈیو اینالیٹکس کے ذریعے پیداوار کی آزادانہ مانیٹرنگ کرتا ہے۔ اس طرح دونوں سسٹمز کے ڈیٹا کی تصدیق کی جا سکتی ہے جس سے رپورٹس کی شفافیت پر اعتماد بڑھتا ہے۔


برطانوی تعاون نے ایف بی آر کو اس قابل بھی بنایا ہے کہ وہ خود مختارانہ طور پر اس سسٹم کو چلانے، اس کی دیکھ بھال کرنے اور اسے مزید ترقی دینے کی صلاحیت حاصل کر سکے۔ ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع ہونے والا یہ منصوبہ اب پاکستان کے تمام 27 سیمنٹ کارخانوں تک پھیل چکا ہے اور چینی کے شعبے میں بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس طریقہ کار کو مزید شعبوں تک پھیلانے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔


حکومت پاکستان کے مطابق، ان وسیع تر اصلاحات کی بدولت سیمنٹ کے شعبے سے 32 ارب روپے کی بقایا جات کی وصولی میں مدد ملی اور کرشنگ کے حالیہ سیزن کے دوران ریکارڈ شدہ چینی کی پیداوار میں 31 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ نتائج پالیسی اور تعمیلی اقدامات کے مرہون منت ہیں، جن میں ڈیجیٹل آئی ایک اہم جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔

Ahmed Arsalan

Ahmed Arsalan

Next Post
پٹرولیم لیوی میں فی لیٹر 20 روپے تک اضافے کا امکان

پیٹرول 1000 روپے تک پہنچنے کا خدشہ لیکن احتجاج پر اربوں خرچ،کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In