• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

کورونا کے بھائی بندوں کی کہانی

by sohail
مارچ 28, 2020
in کالم
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

جب سے ووہان سے کورونا کے ابن بطوطہ بننے کی خبر آئی تب سے مجھے لگتا ہے کہ دنیا کا سفر کرتے کرتے بالاخر "سیلاب بلا میرے گھر” کا رخ بھی کر سکتا ہے۔ ۔ ۔ مگر ایک اور بات جو میں آپ سے شئیر کرنا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ کہتے کہتے رک جاتا تھا۔ آج شئیر کرتا ہوں۔ اور شئیر کرنے کی وجہ بھی بتاتا ہوں۔

میں تقریباً چودہ سال بیرون ملک رہ کر چھ سال پہلے سعودیہ سے واپس پاکستان آ رہا تھا۔ ۔ ۔ پاکستان آنے کے بعد شائد پہلا ہفتہ تھا، میں آر اے بازار ایک فوٹوگرافر کی دکان پر کھڑا تھا۔ یہ فوٹوگرافر کی دکان اب ایک ایڈیٹنگ شاپ میں بدل چکی تھی ۔ ۔ ۔ مگر بازار کے اسی حصے میں تھی جہاں تیس سال پہلے تصویر کھینچ کر چار دن بعد کا وقت دیا جاتا تھا کہ آ کر تصویریں لے جانا۔ ۔ ۔ ان فوٹوگرافروں کے بچوں نے وقت گذرنے کے ساتھ نئے کام سیکھ کر پرانی دکانوں میں روزگار چلا لیا۔ ۔ ۔ مگر اب بھی ان میں سے اکا دکا دکان پر پرانے بابوں میں سے کوئی اس زمانے کی باتیں کر رہا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ اس دکان میں بھی ایک بابا بیٹھا ہوا تھا جو خوامخواہ کی آسانی بانٹ دیا کرتے ہیں۔ ۔ ۔

میرے گلے میں خراش تھی، میں ہلکا سا کھانسا تو بابے نے میری طرف دیکھا۔ اور یہ پرواہ کیے بغیر کے میں ایک اجنبی ہوں ۔ ۔ اور اس کوشش میں بھی ہوں کہ کسی سے زیادہ بات نہ کروں ۔ ۔ اس بابے نے بے تکلفی سے میری طرف دیکھا، مسکرایا اور اور بولا، باؤ جی! گلا خراب اے ؟ ۔ ۔ ۔ ہو جاندا ایے ۔ ۔ ۔ موسم ہی ایہو جیا ائے۔ ۔ ۔ میں نے بات نہ بڑھانے کے لیے مسکرا کر سر ہلایا اور اور پھر دوسری جانب متوجہ ہونے کی کوشش کی۔ ۔ ۔ مگر بابے نے بات جاری رکھی ۔ ۔ ۔ دیکھو جی، گلا خراب ہو جاتا ہے ۔ ۔ اور کسی دوائی سے آرام نہیں آتا ۔ ۔ بس اس کا حل یہی ہے کہ آپ شربت توت سیاہ لے لو ۔ ۔۔ اور ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچ اس شربت کا ڈال لو ۔ ۔ اور ہلکے ہلکے گھونٹ لے کر پینا ہے ۔ ۔ ایک دم نہیں پینا۔ ۔۔ بس جی، آپ کی خراش دور ہو جائیگی۔

دوستو! مجھے سچ میں یہ مشورہ خوامخواہ لگا ۔ ۔ میں چودہ سال بیرون ملک رہا تھا۔ اکثر پاکستان آنا ہوتا تھا تو پیٹ خراب ہو جاتا تھا۔ جس کی وجہ پانی کی تبدیلی ہوتی تھی۔ یا دوبارہ سے بازار کے مرچ مصالحے والے کھانے۔ ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ۔ ۔ اللہ نے ہمیشہ اپنی رحمت سے بیماریوں سے محفوظ ہی رکھا تھا۔ ان تمام سالوں میں۔ ۔ ۔

مگر سردیاں شروع ہوتے ہی میرا گلا ایسا پکڑا گیا کہ شہد کی چائے، لیموں کا قہوہ سب بیکار ہوا۔ ۔ ۔ مجھے وہ بانے کی بیکار والی نصیحت یاد آئی۔ فوری شربت توت سیاہ لایا، اور گرم کپ پانی میں ڈال کر پیا ۔ ۔ اگلی صبح سے فرق پڑ گیا۔ ۔ پھر گرمیاں جاتیں ۔ ۔ سردیاں آتیں ۔ ۔ ۔یا سردیاں جاتیں اور گرمیاں آتیں ۔ ۔ ۔ میں نے دیکھا کہ فلو، نزلہ زکام، بخار، اور کھانسی ایک کورس کی شکل میں باقاعدگی سے آتیں۔ ۔ ۔ اور ہر ایک نے اپنے دن مقرر کیے ہوئے تھے۔ ۔ کوئی دو دن، کوئی چار دن ۔ ۔ کھانسی البتہ ہفتے سے دو ہفتے میں جاتی ۔ ۔ اور جاتے جاتے بھی مڑ کر دیکھتی ۔ ۔ جیسے بھیگی آنکھوں سے کہہ رہی ہو ۔ ۔ "جا تو رہی ہوں ۔ ۔ مگر مس کرونگی ۔ ۔ اور پھر آؤنگی ۔ ۔ مجھے تمہارا ساتھ بہت اچھا لگتا ہے” ۔ ۔

اپنی کھانسی کے لیے تو میں نے ایک تفصیلی روزنامچہ بھی طے کر لیا تھا۔ ۔ ۔ پہلے دن گلے میں ہلکی سی خراش ہوتی اور میٹھا میٹھا سا درد صرف تب ہوتا جب تھوک نگلنے کی کوشش کی جاتی۔ ۔ ۔ یہ تعارفی مرحلہ ہوتا تھا۔ اگلے دو دن خراش بڑھ کر کھانسی میں بدلتی۔ اور ہر چند منٹ بعد احساس دلاتی کہ باقی سب ٹھیک ہے مگر سب سے اہم میں ہوں۔ ۔ ۔ چاہے تم فون پر ہو، کسی سے ضروری بات کر رہے ہو، یا خالی دیوار کو گھور رہے ہو، مجھے کھانسنا مت بھولنا۔ گلے کی درد کم ہو جاتی اور میں سانس کی نالی اور پھر پھیپھڑوں میں سے خراش کو بلغم کے ساتھ جاتے محسوس کرتا۔ ایک ہفتے کے اس کورس میں ناک سے پھپھڑوں تک سب کی اوورہالنگ ہو جاتی ۔ ۔ اور بندہ خود کو بھلا چنگا محسوس کرتا۔

پچھلے سال البتہ معاملہ زرا مختلف رہا۔ اور اسی وجہ سے آپ کو یہ کہانی سنا رہا ہوں۔ ہوا یوں کہ گلے کی خراش آئی تو اس بار اس کا جوش و جذبہ ہی اور تھا۔ گلے کو دبا کر پکڑا اور سیدھا میرے حواس پر چھا گئی۔ تھوک نگلنے سے ہونے والا درد تو تھا ہی بخار اور جسم درد بھی ہو گیا۔ ۔ ۔ میں نے حسب معمول "تکا لگایا” کہ ہو نہ ہو موسمی بخار کو میرا ڈینگی سے ڈرا ایمیون سسٹم سانپ سمجھ کر زیادہ ہی اینٹی باڈیز بنانے کے چکر میں ہے۔ خیر دو دن خاموشی سے بخار اور کھانسی کے ساتھ بیوی کی گھوریاں برداشت کرتا رہا ۔ ۔ کہ بستر سے لگنے کے لیے مردوں کو بس نزلہ ہی کافی ہے۔ ۔ ۔ پھر نوبت یہ آئی کی کھانسی کرنا دشوار ہو گیا اور گلہ سوج گیا۔ ۔ ۔ ایک وقت میں میں سنجیدگی سے سوچنے لگا کہ شائد ہسپتال جانا پڑے۔ ۔ اگر گلا ہی بند ہو گیا تو سانس کیسے لونگا ۔ ۔ خیر اسکی نوبت نہ آئی کہ نہ اس وقت کورونا کا رولا تھا اور نہ امریکا میں مرنے والوں کی وجہ سے ہمارا مرنا اتنا کنفرم ہوا تھا۔ ۔ ۔ اس لیے رو پیٹ کر ٹھیک ہونا ہی مقدر ٹھہرا۔ ۔

مگر فلم ابھی باقی ہے میرے دوست ۔ ۔ ۔

ہوا یہ کہ اگلے روز سے بیگم نے اپنا گلا پکڑ لیا۔ ۔ ۔ جس کو میں نے اسکے پچھلے بیس سال سے ناشتہ نہ کرنے کی عادت بد سے جوڑ دیا۔ کہ تمہارا ایمیون سسٹم ہی ناقص ہے ۔ ۔ اور کرو ناشتے کا ناغہ ۔ ۔ ۔ خیر بیگم کو بخار ہوا، اور پھر ایسی کھانسی اور گلے کا درد کہ وہ بے حال ہو گئی۔ ۔ پانچ پانچ دن کے دو اینٹی بایوٹک کورس کر لیے مگر کھانسی نہ رکی، اور نہ گلا ٹھیک ہوا۔ ۔ بالاخر ڈاکٹر طحہ کام آیا، جو بیگم کے میکے میں پرانا ہومیوپیتھ ہے۔ اسکی چند خوراکوں سے دوسرے روز سے کھانسی اور بخار کم ہونے لگا۔ باقی کہانی ویسی ہی ہے۔

چھ سال سے پاکستان میں رہنے کے بعد، اور ہر سال کھانسی، بخار اور پولوشن اور اسموگ کو جھیلنے کے باوجود میرا پختہ یقین یہ تھا کہ ان دنوں میں مجھے اور بیگم کو اٹیک ہوا وہ مختلف تھا۔ فلو کا وائرس تھا تو بھاری تھا ۔ ۔ یا پھر ہمارے گلے کسی بہت ہی زہریلی چیز سے خراب ہوئے تھے۔

کورونا وائرس سے ملتے جلتے دو سو کے قریب وائرس ہیں جو پوری دنیا میں موجود ہیں۔ اور ہر سال ہمارے امیون سسٹم کو آزماتے ہیں۔ انکا علاج صرف اور صرف ریسٹ، لیکوئڈز اور بخار ہیں۔

بس یہی بتانا تھا آپ کو ۔ ۔ کہ کورونا کے لیے احتیاط ضرور کریں ۔ ۔ مگر یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ ممکن ہے کورونا کا کوئی بھائی بند پچھلے چند سالوں میں آپ کے گھر کا وزٹ کر کے جا چکا ہو ۔ ۔ اور آپکا امیون سسٹم پہلے ہی اس سے نمٹ چکا ہو۔

موجود کورونا کے لیے میرے دوست ڈاکٹر یونس، اور پنجاب کے ڈاکٹر نے یہی بتایا ہے کہ بخار کی دوا نہ لیں، لیکوئڈز لیں، جوشاندہ، گرین ٹی، اور دلیہ ساگودانہ وغیرہ ۔ ٹھوس غذا نہ کھائیں۔ بھاپ لیں، ریسٹ کریں۔ غرارے کریں۔ اور خوش رہیں۔ خوفزدہ ہونا آپ کے امیون سسٹم پر برا اثر ڈالتا ہے۔

خود سوچیں، مجھے اگر پچھلے سال کورونا کا اس قدر خوف ہوتا تو کیا میں گھر میں رہ کر بہتر ہو پاتا؟

sohail

sohail

Next Post

جدید تاریخ کی چند بڑی وبائیں جنہوں نے کروڑوں لوگوں کو ہلاک کر دیا

’صرف الفاظ کافی نہیں‘ سنگاپور کے وزیر دوران تقریر رو پڑے

’صرف الفاظ کافی نہیں‘ سنگاپور کے وزیر دوران تقریر رو پڑے

ترکی میں کورونا وائرس سے حفاظت کے انوکھے طریقے سوشل میڈیا پر مقبول ہو گئے

ترکی میں کورونا وائرس سے حفاظت کے انوکھے طریقے سوشل میڈیا پر مقبول ہو گئے

جارج آرویل کا ناول 1984 اور بگ برادر سوسائٹی

کورونا وائرس وبا کے دوران دنیا بھر میں آزاد میڈیا پر حملے

کورونا وائرس وبا کے دوران دنیا بھر میں آزاد میڈیا پر حملے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In