یورپین ممالک اس وقت عالمی وبا کوویڈ 19 کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کی شدید لپیٹ میں ہیں۔
اٹلی، اسپین، جرمنی، فرانس، برطانیہ، نیدرلینڈ، اور دیگر کئی ممالک میں کورونا کے باعث ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں متاثر ہیں۔
کورونا کی وبا کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یورپین ممالک نے بھی لاک ڈاؤن کا سہارا لیا ہے۔ جس سے ان ممالک کی صنعتیں، فیکٹریاں، اور دیگر کئی سرکاری اور نجی ادارے بند پڑے ہیں۔
دوسری جانب حکومتوں کی جانب سے لوگوں کی آمد و رفت کو ختم کرنے کے لیے ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنز اور یہاں تک کے عام ٹرانسپورٹ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔
انسانی نقل و حرکت رکنے کے باعث جہاں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے وہیں ہمارے سیارے نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے۔
دنیا کے چار ممالک جنہوں نے پابندیاں لگائے بغیر کورونا کےخلاف کامیابی حاصل کی
کورونا وائرس کے باعث امریکہ شدید بیروزگاری کے چنگل میں
طبی ماہرین نے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد کورونا کی نئی لہر کا خدشہ ظاہر کر دیا
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے باعث یورپ کی فضائی آلودگی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر سے دیکھا گیا ہے کہ یورپ کے بڑے شہروں جن میں برسلز، پیرس، میڈریڈ، میلان، فرینکفرٹ شامل ہیں، کی فضاوں میں پانچ مارچ سے لے کر 25 مارچ تک نائیٹروجن ڈائی آکساڈ میں میں بڑی حد تک کمی آئی ہے۔
یورپین اینوائرمنٹ ایجنسی (ای ای اے) کے سروے کے مطابق اسپین کی حکومت کی جانب سے غیر ضروری ٹرانسپورٹ پر پابندی کے بعد میڈریڈ کی فضا میں نائٹروجن آکسائیڈ کا تناسب 56 فیصد تک کم ہوا ہے۔
ای پی ایچ اے کے مطابق آلودہ شہروں میں بسنے والے باشندوں میں قوت مدافعت کا نظام کمزور ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ان میں کوویڈ 19 کے پھیلنے کا خطرہ بے حد زیادہ ہے۔
