کورونا وائرس وبا سے جہاں دنیا بھر میں روزانہ ہزاروں اموات ہونے لگی ہیں وہیں اس کے تدارک کیلئے کیے گئے اقدامات بالخصوص لاک ڈاؤن کی پالیسی کے باعث آلودگی کم ہوئی ہے۔
حالیہ دنوں میں لاک ڈاؤن کے باعث انسانی سرگرمیاں کم ہونے سے پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں فضائی آلودگی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
دی نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ (این ایف ای ایچ) کے صدر نعیم قریشی کا کہنا ہے کہ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے، نجی گاڑیوں کا استعمال کم ہونے اور محدود صنعتی سرگرمیوں کے باعث فضائی آلودگی میں کمی ہوئی ہے۔
اسی طرح لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کا ائیر کوالٹی انڈیکس بہتر ہوا ہے۔
ایکسپریس ٹریبون میں شائع ہونیوالے ایک خبر میں ایک ماحولیاتی ماہر کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ لاہور میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے آلودگی کی سطح کم ہوئی ہے جس سے اس شہر نے سکھ کا سانس لیا ہے۔
یورپ میںلاک ڈاؤن کے باعث کرہ ارض کی سانسیں بحال ہونے لگیں
پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بہت بڑھ سکتی ہے، ڈاکٹر عطاالرحمان
پنجاب کے مختلف شہروں میں کورونا وائرس کے مریضوں میںاضافہ
ایکسپریس ٹریبون کے مطابق گزشتہ دو روز میں لاہور کا ائیر کوالٹی انڈیکس 18 سے 65 کے درمیان رہا ہے۔ اخبار کے مطابق گرمیوں میں لاہور میں آلودگی کا پیمانہ سرخ لکیر عبور کر جاتا ہے اور شہر کا ائیرکوالٹی انڈیکس 300 سے بڑھ جاتا ہے۔
محکمہ ماحول کے ڈائریکٹر محمد نسیم نے لاہور کے ائیر کوالٹی انڈیکس میں بہتری کا کریڈٹ لاک ڈاؤن کو دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں انسانی سرگرمی محدود ہونے کی وجہ سے فضا بہتر ہوئی ہے۔
14 نومبر 2019ء کو دی نیوز میں شائع ہونیوالی خبر میں ائیرکوالٹی اور آلودگی کی رینکنگ میں کراچی دنیا بھر میں دوسرے جبکہ لاہور تیسرے نمبر پر تھا۔
جون 2019 میں سابق وزیراطلاعات نثار اے میمن کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان میں فضائی آلودگی سے ہربرس ایک لاکھ 35 ہزار اموات ہوتی ہیں اور اس سے معیشت کو سالانہ 50 ارب ڈالر نقصان ہوتا ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے اٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں انسانی سرگرمیاں کم ہونے سے آلودگی کم ہوئی ہے۔
بی بی سی کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے پورے یورپ میں آلودگی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
