ملائیشیا سے تھائی لینڈ اور اب پاکستان اور انڈیا میں تبلیغی جماعت کے مذہبی اجتماعات کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں۔
بھارتی وزارت داخلہ کے حکام جنوب مشرقی ایشیاء، خصوصاً ملائیشیاء، سے تعق رکھنے والے ان افراد کی تلاش کے لیے مختلف ریاستوں کے ساتھ رابطے میں ہیں جنہوں نے مارچ کے اوائل میں دلی کے علاقے نظام الدین میں ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کی تھی۔
بھارت ویب سائیٹ دی پرنٹ کے مطابق اب تک متعدد افراد کی شناخت ہو چکی ہے جنہیں ٹیسٹ کے بعد قرنطینہ میں رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
امیگریشن حکام کی جانب سے بیرون ممالک سے آنیوالے افراد کی فہرست مکمل پتہ کے ساتھ ریاستی حکومتوں کو بھجوا دی گئی ہے۔
رائیونڈ مرکز میں تبلیغی جماعت کے27 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق
کورونا وائرس اور مذاہب کا ردعمل
بھارت میں کورونا پھیلانے والے مذہبی رہنما کی ہلاکت کے بعد 40 ہزار افراد قرنطینہ میں داخل
بھارتی حکام کو تبلیغی جماعت کے افراد کی تلاش میں مشکل پیش آ رہی ہے کیونکہ وہ مشنری ویزا پر بھارت نہیں آئے تھے۔
بھارت میں اس وقت نظام الدین اجتماع میں شرکت کرنیوالے 10 افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔
تلنگانہ ریاست نے نظام الدین اجتماع میں شرکت کرنیوالے اپنے 6 شہریوں کی کورونا وائرس سے موت کی تصدیق کی ہے جن میں تبلیغی جماعت کشمیر کے سربراہ بھی شامل ہیں۔
کشمیر پولیس نے اجتماع میں شرکت کرنیوالے افراد کی فہرست مرتب کی ہے اور ان سے اپیل کی ہے کہ وہ خود سامنے آئیں۔
کشمیر میں کورونا کے تصدیق شدہ 37 کیسز میں سے 18 افراد ایسے ہیں جنہوں نے تبلیغی اجتماع میں شرکت کی یا اس اجتماع میں جانیوالوں سے میل جول رکھا۔
فروری میں ملائیشیاء کی ایک مسجد میں ہونے والے تبلیغی اجتماع میں 16 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس اجتماع سے نکلنے والے افراد جنوب مشرقی ایشیاء کے 6 سے زائد ممالک میں کورونا وباء کے پھیلاؤ کا باعث بنے ہیں ۔
