• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, اپریل 20, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

نان نفقہ

by sohail
اپریل 1, 2020
in کالم
1
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

آفس سے گھر کی طرف جاتے ساتویں میل پر بائیک پنکچر ہوگئی۔ رات کے گیارہ بجے کا وقت اور میں جانتا تھا کہ آگے ایک کلومیٹر پر پیٹرول پمپ ہے جہاں پنکچر لگانے والا موجود ہوگا۔

پیدل بائیک کو گھسیٹتے ہوئے خاصی مشکل ہو رہی تھی چنانچہ میں نے لیپ ٹاپ کا بیگ گلے سے اتار کر بائیک کے ہینڈل سے لٹکایا اور پورا زور لگا کر فلیٹ ٹائر والی بائیک کو گھسیٹنے لگا۔

شام کو بارش ہوئی تھی اور جگہ جگہ سڑک کے ٹوٹے ہونے کی وجہ سے پانی جمع تھا جن سے بائیک کا پنکچر ٹائر گذرتا تو جوتوں میں پانی جانے لگتا۔

ہوا بند تھی، حبس بڑھا ہوا تھا جس کے باعث اس معمولی زور لگانے سے بھی جسم پسینے سے بھیگ رہا تھا۔ میں نے تنگ آ کر ایک جگہ بائیک کو اسٹینڈ پر کھڑا کیا اور اپنی شرٹ بھی اتار کر بائیک پر رکھ دی اور بھیگی ہوئی بنیان کے ساتھ دوبارہ بائیک گھسیٹنے لگا۔ دل ہی دل میں میں باس کے ائیرکنڈیشنڈ دفتر کو کوس رہا تھا جس میں سارا دن بیٹھنے کے بعد جسم گرمی کا عادی ہی نہیں رہتا۔ ذرا سے حبس سے دیکھو کس قدر پسینہ آ رہا ہے۔

خدا خدا کر کے پیٹرول پمپ آیا اور میں پنکچر شاپ والے کے سامنے بائیک کھڑی کر کے کرسی پر ڈھیر ہو گیا۔ موبائل کی بیل بار بار بج رہی تھی۔ اب جو پتلون کی جیب سے نکال کر دیکھا تو بیوی کی سات کالز آ چکی تھیں۔

"کہاں ہو تم؟۔ کب سے کال پر کال کر رہی ہوں۔ بارہ بجنے والے ہیں اور تمہاری یہ نوکری ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ پتہ ہے کب سے انتظار کر رہی ہوں کھانا بنا کر۔ ”  وہ مسلسل بول رہی تھی۔

"ارے بات تو سنو۔ بائیک پنکچر ہو گئی تھی راستے میں۔ ابھی پنکچر لگوا رہا ہوں۔ آتا ہوں تھوڑی دیر تک۔ کچھ لانا تو نہیں گھر آنے سے پہلے۔ بہت تھک گیا ہوں پھر واپس بازار نہیں جا سکوں گا۔”

"صبح اپنی لسی کے لیے دہی لیتے آنا، اور انڈے ۔ ۔ اور ہاں پتی بھی ختم ہو رہی ہے۔ وہ بھی لیتے آنا۔ باقی سب ہے۔ میرے لیے ایک کوک کی بوتل لے آنا اور وارد کا کارڈ۔ سو سو والے دو لانا۔ اب ایک سے پیکیج نہیں لگتا۔ ٹھیک ہے، یاد رہے گا ناں؟”

"ہاں ہاں، یاد رہے گا، لاتا ہوں ۔۔ چلو اوکے بائے”، میں نے موبائل بند کر کے پنکچر والے کو پیسے پکڑائے۔ شرٹ جو اب کچھ سوکھ گئی تھی، دوبارہ پہنی اور لیپ ٹاپ کا بیگ کاندھے پر لٹکا کر بائیک اسٹارٹ کی۔

"باؤ جی!” ، پنکچر والا جھجھکتے ہوئے بولا، "ہو سکے تو موٹرسائیکل کی ٹیوب نئی ڈلوا لیجیے، پنکچر تو میں نے لگا دیا ہے مگر اسکی حالت کافی پتلی ہو گئی ہے "

"اچھا اچھا”، میں نے کہا ، "ڈلواتا ہوں۔ بس اگلے ہفتے تک تنخواہ ملتی ہے تو نئی ٹیوب ڈلوا لیتا ہوں” ۔

میں نے بائیک کو گئیر میں ڈالا، اور گھر کی جانب روانہ ہوگیا۔

پنکچر والے کی بات سے مجھے دوبارہ یاد آ گیا کہ آج صبح ہی باس نے نیا ٹارگٹ دیا تھا۔ "اس مرتبہ پینتس چالیس آئٹمز کا آرڈر جو لایا، وہ اپنے لیے نئی جاب ڈھونڈ لے۔”

ہونہہ، باس کو کیا پتہ ایک آئٹم سیل کرنے کے لیے سو سے زیادہ کالز کرنا پڑتی ہیں۔ جن میں سے تیس تو آواز سنتے ہی کال بند کر دیتے ہیں۔ چالیس یہ سن کر معذرت کر لیتے ہیں کہ کوئی چیز بیچنے کے لیے کال کی ہے۔ اور باقی بیس سے تیس کے قریب لوگ پوری کہانی سن کر بتاتے ہیں کہ انکو اسکی ضرورت ہی نہیں۔ آٹھ دس ایسے بھی ملتے ہیں جو جھڑکیوں اور کبھی کبھار گالیوں کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ خیر یہ تو باس ہی نے بتایا کہ انہوں نے بھی اپنے سیلز کے زمانے میں بہت گالیاں سنی ہیں۔ ۔

پنکچر والا ٹائر ہلکا سا ببل کر رہا تھا، لگ رہا تھا کہ یا تو پنکچر والے نے ہوا کچھ زیادہ ہی بھر دی ہے، یا پھر وہ ٹھیک کہہ رہا تھا، ٹیوب کی حالت اب ایسی نہیں رہی کہ مزید چل سکے۔ چلو، اگلی تنخواہ تک تو چلے۔ ابھی دس روز باقی ہیں۔

میرا دھیان پھر باس کے دیے گئے نئے ٹارگٹ کی طرف چلا گیا۔ پچاس آئٹمز۔ گالیاں اور جھڑکیاں تو اس جاب کا حصہ ہیں، انکا برا نہیں ماننا چاہیے۔ باس نے پہلے روز سیلز ٹیم کو لیکچر دیتے ہوئے بتایا تھا۔ اس روز سے میں نے بھی کبھی کسی کی گالی کو سیریس نہیں لیا تھا۔

ہی ہی ہی، بائیک چلاتے چلاتے میری ہنسی نکل گئی۔ پچاس آئٹمز کا مطلب ہے، پانچ ہزار کالز۔ اور تقریباً دو تین سو گالیاں۔ ہی ہی ہی۔ میں خواہ مخواہ ہنستا جا رہا تھا۔ مجھے بچپن کا ایک واقعہ یاد آ رہا تھا۔

کھلے میدان میں ہم شام کو محلے کے سارے لڑکے کھیلا کرتے تھے۔ وہیں ایک لڑکے سے میری لڑائی ہو گئی۔ میں نے اسکے پیٹ میں مکا مارا اور وہ چیخ مار کر دہرا ہو گیا۔ میں وہاں سے بھاگ لیا۔ دو گھنٹے بعد گھر پہنچا تو اس لڑکے کی ماں میرے گھر کے باہر محلہ جمع کیے ہوئے تھی۔ میری ماں نے جھٹ سے میرا کان پکڑ لیا۔ اور لگی مارنے۔ کیوں مارا تو نے۔ بتا کیوں مارا تو نے۔ صالحاں کے بیٹے کو ۔؟ بتا ؟ ۔

"بتاتا ہوں ماں، کان تو چھوڑو۔ بتاتا ہوں۔ ہم کھیل رہے تھے۔ اس نے مجھے دھکا دیا۔ میں نے اسکو دھکا دیا۔ حساب برابر ہو گیا تھا۔ پھر اس نے مجھے گالی دے دی۔ گالی دے دی ماں۔ بس پھر میں نے اسکو مکا مار دیا” ، میں روتے ہوئے بول رہا تھا۔ ماں نے میرا کان یکدم چھوڑ دیا۔ اور صالحاں سے لڑنے لگی۔

جا لے جا اپنے بیٹے کو، اس نے کام ہی مار کھانے والا کیا ہے۔ میرا بیٹا لڑاکا نہیں ہے۔ بس اسکو گالی سے نفرت ہے۔ صالحاں ماں سے لڑنے لگی، اور میں خوش خوش گھر کے اندر چلا گیا۔ میری ماں اب نپٹ لے گی اس سے۔ مجھے یقین ہو گیا تھا۔

بائیک چلاتے چلاتے، آنکھوں سے پانی بہت بہتا ہے۔

سودا سلف لیتے لیتے پونا ایک بج چکا تھا۔ بیوی نے دروازہ کھولا تو خاموشی سے اسکو سودا سلف پکڑا کر باتھ روم چلا گیا۔ نہا کر نکلا تو بیوی کھانا گرم کر چکی تھی۔ میں جلدی جلدی نوالے نگلنے لگا۔

"تم نے کھانا کھا لیا؟” ، میں نے یونہی بات کرنے کو پوچھا۔

“ہاں کھا لیا ہے،۔ کھانا۔ "، بیوی کا لہجہ روکھا سا تھا۔ مجھے لگا کہ میرے دیر سے آنے پر خفا ہے۔

"ارے بھئی میں نے بتایا تو تھا کہ بائیک پنکچر ہو گئی ہے۔ دس بجے تو میرا باس نکلتا ہے۔ اسکے بعد ہی مجھے چھٹی ہوتی ہے۔ اب نوکری کا معاملہ ہے دیر سویر تو ہو ہی جاتی ہے”، میں نے وضاحت کی۔

"نہیں، میں کہاں ناراض ہوں۔ کھانا کیسا ہے؟ آپ کھاتے ہی جا رہے ہو۔ کبھی بندہ ایک دو لفظ منہ سے تعریف کے ہی نکال دیتا ہے۔۔ ” ، بیوی نے بات بدلی۔

"ارے کھانا۔ ؟ ۔۔ اچھا ہے۔ بہت اچھا ہے ” میں نے گڑبڑا کر کہا ، "دیکھو، تم آلو گوبھی تو ویسے بھی بہت اچھی بناتی ہو۔ اور پھر مجھے تو تمہارے ہاتھ کے سارے کھانے۔ "، میری بات ادھوری تھی کہ بیوی ہاتھ میں پکڑا میگزین سائیڈ پر رکھ کر بیڈروم میں چلی گئی۔ مجھے لگا آج کچھ موڈ زیادہ ہی خراب ہو گیا میرے لیٹ آنے سے۔ میں نے ٹی وی آن کیا، اور بغیر آواز کے خبروں کی چلتی پٹی پڑھنے لگا۔ کورونا سے اتنے ہلاک، اتنے نئے کیسز۔

بے خیالی میں میں نے بیوی کا پھینکا ہوا میگزین اٹھا لیا۔ اتفاق سے وہی صفحہ کھلا ہوا تھا جہاں وہ پڑھ رہی تھی۔ کوئی صاحبہ بیویوں سے مخاطب تھیں۔ کہ وہ بھی انسان ہیں، جانور نہیں۔ سارا دن گھر کے کام کر کر کے تھک جاتی ہیں۔ ایسے میں شوہروں کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے کاموں کی تعریف کیا کریں۔ ان کے کھانے کی تعریف کریں۔ انکو بتائیں کہ انکا کام بھی بہت اہم ہے۔ تاکہ وہ اپنے آپ کو کمتر محسوس نہ کریں۔

ہمم۔ اب میں سمجھا۔ بیوی کا موڈ کیوں خراب تھا۔ کمرے کی بتی بجھ چکی تھی۔ مجھے یقین ہو گیا کہ وہ سوچکی ہوگی۔ بیچاری میری وجہ سے جاگتی رہتی ہے اتنی دیر تک۔ میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ کل آفس سے واپسی پر کچھ پھول لاؤنگا اور اسکی خوب تعریف بھی کرونگا۔ میگزین والی نے ٹھیک ہی لکھا ہے۔ آخر گھر میں رہنے والی عورت کا کام بھی اہم ہوتا ہے۔ اسکو بھی سراہنا چاہیے۔

اگلے روز واپسی پر میں نے ڈھائی سو کا پھولوں کا گلدستہ لیا، اور بیوی کو فون کیا کہ جلدی گھر آ رہا ہوں۔ جلدی کام ختم کرنے کی خاطر لنچ بریک بھی نہ لی، جس کی وجہ سے فاقے کی سی کیفیت تھی۔ سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ لڑکپن سے ایک مسئلہ میرے ساتھ یہ تھا کہ کھانے میں دیر ہو جائے تو سر شدید درد کرتا تھا۔ چاہے بعد میں کھانا کھا بھی لوں، سر درد دیر سے ٹھیک ہوتا تھا۔ خیر آفس بوائے نے چائے کے ساتھ ڈسپرین دے دی تھی۔ جس سے کافی فرق لگ رہا تھا۔

بائیک کا ٹائر آج پھر اچھل رہا تھا، مگر نئی ٹیوب کے پیسے ابھی کہاں تھے۔ ویسے بھی تنخواہ میں نو روز ابھی باقی تھے۔ اپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں نے ہاتھوں میں پکڑے گلدستے کو ایک بار سونگھا، کیا خوشبو تھی۔ بیوی کو خوش ہوتے سوچ کر میں خوش ہو گیا۔

"ارے یہ کیا؟ "، بیوی پھول دیکھ کر چلائی،” آج کوئی خاص دن ہے کیا؟”

"نہیں بھی اور ہے بھی”، میں نے مسکرا کر کہا۔

بیوی نے مسکرا کر پھول لے لیے، میرے کاندھے سے لیپ ٹاپ اتارا اور بولی،

"تم جلدی سے نہا لو، میں نے آلو گوشت بنایا ہے۔ تین ہفتے سے فریج میں پڑا ہوا تھا سوچا تم جلدی آ رہے ہو تو پکا لوں” ، وہ تیزی سے بولی۔ مجھے لگا میں بالکل ٹھیک جا رہا ہوں۔ دیکھو تو زرا سی توجہ سے انسان کس قدر کھل جاتا ہے۔ مجھے یہ پہلے کیوں نہیں معلوم تھا۔ میں خود کو کوستے ہوئے باتھ روم چلا گیا۔

نہا کر واپس آیا تو ٹی وی کے سامنے میز پر کھانا رکھا ہوا تھا۔ ٹی وی کے ساتھ والے گلدان میں میرے لائے ہوئے پھول سج چکے تھے۔ بیوی ایک دم خوش نظر آ رہی تھی۔

میں نے بیوی کے آلوگوشت کی جی بھر کر تعریف کی۔ وہ ویسے بھی کمال کھانا پکاتی تھی۔ اس لیے مجھے جھوٹ کا سہارا بھی نہیں لینا پڑا۔ البتہ چائے کی تعریف کرتے ہوئے ایک آدھ ٹھسکا ضرور لگا۔ اتنے سال کی سیلزمینی میں بھی اپنوں سے جھوٹ بولتے زبان اٹکنے لگتی تھی۔

وہ رات ایسے تھی جیسے ہماری نئی نئی شادی ہوئی ہو۔ میری بیوی ایک دلہن کی طرح میرے ہر کامپلیمنٹ پر شرما رہی تھی۔ حالانکہ ہماری شادی کو چوتھا سال تھا۔ صبح آفس نہ جانا ہوتا تو شائد ہم صبح تک جاگتے رہتے۔

اگلی صبح آفس کے لیے نکلتے ہوئے بیوی نے لیپ ٹاپ میرے کاندھے پر ڈالا تو رات کی باتوں کا خمار اسکی آنکھوں میں تھا۔ جبکہ میں نے بھی لاڈ سے رخصت ہوتے ہوئے اسکو بتایا، "جان! آج آفس میں بہت کام ہوگا۔ باس نے نیا ٹارگٹ دیا ہے۔ لگتا ہے آج پھر لنچ اسکپ کرنا پڑیگا۔ بہت کالز کرنا پڑتی ہیں یار۔ "

بیوی نے ادائے دلبرانہ سے مسکراتے ہوئے کہا، "اچھا جلدی جاؤ۔ اور کام تو مرد کو کرنا ہی پڑتا ہے نا۔ اس سے کیا گھبرانا۔ بیاہ کر لائے ہو۔ اب میرا نان نفقہ تو کمانا تمہارا ہی فرض ہے نا۔ ہی ہی ہی "۔ اسکی مترنم ہنسی سیڑھیاں اترتے میرے کانوں میں گونجتی رہی۔

میں نے بائیک اسٹارٹ کی، اور اچھلتے ٹائر کے ساتھ آفس روانہ ہو گیا۔

sohail

sohail

Next Post
وینٹی لیٹر کیا ہے؟ اس وقت دنیا اس کی کمی کو کیسے پورا کر رہی ہے؟

وینٹی لیٹر کیا ہے؟ اس وقت دنیا اس کی کمی کو کیسے پورا کر رہی ہے؟

تبلیغی مرکز میں کورونا مریض سامنے آنے بعد پورے رائیونڈ میں مکمل لاک ڈاؤن

تبلیغی مرکز میں کورونا مریض سامنے آنے بعد پورے رائیونڈ میں مکمل لاک ڈاؤن

مسلمان ممالک حج کے لیے ابھی معاہدے نہ کریں، سعودی عرب کا اعلان

مسلمان ممالک حج کے لیے ابھی معاہدے نہ کریں، سعودی عرب کا اعلان

پنجاب کے مختلف اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں پر ملیریا کی دوا کا استعمال شروع

پنجاب کے مختلف اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں پر ملیریا کی دوا کا استعمال شروع

پنجاب حکومت نے ریکارڈ مدت میں ایک ہزار بیڈز پر مشتمل فیلڈ اسپتا ل تیار کر لیا

پنجاب حکومت نے ریکارڈ مدت میں ایک ہزار بیڈز پر مشتمل فیلڈ اسپتا ل تیار کر لیا

Comments 1

  1. Samina Rasheed says:
    6 سال ago

    بہت عمدہ اور رواں تحریر
    حقیقت اور زندگی سے قریب

    جواب دیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In