کورونا وائرس کا سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ ہے کہ یہ پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے جسکا مطلب ہے کہ شدید متاثرہ مریضوں کو سانس لینے کے لیے وینٹلیٹر کی اس وقت تک ضرورت ہوگی جب تک انکے پھیپھڑے مکمل طور پر صحتیاب ہوکر اپنا کام شروع نہیں کرتے۔
دنیا بھر کے اسپتالوں میں اس مشین کی شدید کمی ہے جسکی وجہ سے انتہائی نگہداشت یونٹس سخت دباؤ میں ہیں۔
اس صورتحال میں پریشانی سے دوچار حکومتوں کے دباؤ کے بعد ونٹیلیٹر بنانے والی کمپنیاں اب گاڑیاں بنانے والی کمپنیوںاور ہوا بازی کی فرمز کے ساتھ شراکت داری کر کے کام کر رہی ہیں تاکہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے اس مسئلہ کا حل نکالا جا سکے۔
لیکن انکی کاوشیں بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہونگی، اس لیے حکومتوں نے بہت سی امیدیں کمپنیوں اور چھوٹی ورکشاپوں سے بھی لگا رکھی ہیں جو اس کام میں مہارت نہیں رکھتیں۔
امریکہ میں سوسائٹی آف کریٹیکل کیئر میڈیسن کا اندازہ ہے کہ ملک میں 2 لاکھ وینٹیلیٹر موجود ہیں جن میں سے کچھ بوسیدہ ہیں اور سانس کے شدید مسائل سے دوچار مریضوں کو لگانے کے قابل نہیں ہیں۔
ایک اندازہ کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کی صورت میں تقریباً 10 لاکھ امریکیوں کو وینٹیلیشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور شدید متاثرہ افراد کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
کورونا وائرس: پاکستان میں ایک لاکھ افراد کیلئے صرف ایک وینٹی لیٹر
امریکہ وینٹی لیٹرز کی شدید کمی کا شکار، میڈیا حکومت پر برس پڑا
کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستان کو کیا مسائل درپیش ہیں؟
اسی طرح کی قلت دیگر ممالک میں بھی پائی گئی ہے اور دنیا میں کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں صرف گنتی کے وینٹیلیٹرز موجود ہیں۔
باوجود اس کے کہ کمپنیاں اس کی مخالف ہیں لیکن شدید قلت کے باعث کچھ ڈاکٹر ایک سے زیادہ مریضوں کو ایک ہی وینٹی لیٹر لگا رہے ہیں۔
وینٹیلیٹر ہے کیا اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
وینٹیلیٹر مشین میں آکسیجن کی مقدار بڑھا کر پھیپھڑوں میں ہوا بھیجی جاتی ہے جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈکو پھیپھڑوں کے سکڑنے پر نکالا جاتا ہے۔
زیادہ تشویشناک صورتحال میں مریض کی سانس کی نالیوں میں ایک ٹیوب ڈالی جاتی ہے اور اس عمل کو Intubation کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں ٹیوب کے ذریعے پھیپھڑوں کو آکسیجن پہنچائی جاتی ہے۔
وینٹیلیٹرز ہر مریض کو اسکی ضرورت کی مناسبت سے احتیاط کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔ اس میں مشین کیطرف سے ہر منٹ کے لیے سانس کی مقدار مقرر کرنا اور ہوا کا حجم شامل ہے۔
وینٹیلیٹر مشین دیگر کام بھی کرتی ہے جسمیں مریضوں کو خود سے سانس لینے میں مدد دینا شامل ہے۔ سب سے بہترین مشین 50 ہزار ڈالر تک کی ہے جسمیں مریض کے علاج کے حساب سے سنسر موجود ہوتے ہیں۔
اسے اعلیٰ تربیت یافتہ عملہ ہی چلاتا ہے کیونکہ معمولی غفلت سے کافی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں جن میں پھیپھڑوں میں ضرورت سے زیادہ آکسیجن پہنچا دینا بھی شامل ہے۔
ویٹی لیٹرز کی پیداوار بڑھنے کےلیے کچھ کم تجربہ کار گروہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ کچھ ہفتوں میں ڈیزائن، ٹسٹنگ اور اپروول کے بعد اسے بنانے کا کام شروع کیا جائے۔ یہ کام عام طور پر سالوں کا ہوتا ہے۔
لیکن اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ یہ ایک ناممکن کام ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف مینوفیکچرنگ کے سربراہ ٹم منشل نے کہا کہ یہ سب کچھ دستیاب آپشنز پر منحصر ہے۔
انکا کہنا ہے کہ موجودہ وینٹیلیٹر کمپنیاں مزید مشینیں بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
ان تمام کوششوں کے پیچھے وہ کمپنیاں، گروپس اور اچھی نیت رکھنے والے افراد ہیں جو آلات بنانے کے لیے صدق دل سے ارادہ رکھتے ہیں۔
وینٹیلیٹر بنانے والی بڑی کمپنیاں
سوئس فرن ہیملٹن میڈیکل جو کہ وینٹیلیٹر مشینیں بنانے کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے ہفتہ میں 220 مشینیں دیتی ہے۔
تاہم یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اپریل کے آخر تک یہ پہلے سے دوگنی تعداد میں وینٹیلیٹرز بنائے گی۔
اٹلی کی Siare Engineering ہر ماہ 160 وینٹیلیٹرز مشینیں بناتی ہے جو آرمی کے ٹیکنیشنز کی مدد سے تین گنا تعداد میں پیداوار شروع کرنے کے لیے پر عزم ہے۔
تبلیغی جماعت کیسے جنوبی ایشیاء میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بنی؟
یورپ میںلاک ڈاؤن کے باعث کرہ ارض کی سانسیں بحال ہونے لگیں
کورونا وائرس کے باعث امریکہ شدید بیروزگاری کے چنگل میں
امریکہ کی فرم میڈٹرونک کا منصوبہ ہے کہ وہ آئرش پلانٹ پر ملازمین کی تعداد بڑھا کر پروڈکشن کے لیے 24 گھنٹے کام کرتی رہے۔
امریکہ ہی میں وینٹیک لائف سسٹم نے جنرل موٹرز کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ وینٹیلیٹرز بنانے کی شرح بڑھائی جائے۔ برطانیہ کا اسمتھ گروپ بھی اس حوالے سے کام کر رہا ہے۔
برطانوی حکومت کی جلد از جلد 5000 نئے وینٹیلیٹرز کی اپیل کے بعد کافی تعداد میں گروپس آگے آئے ہیں۔
ایک گروپ کی قیادت برطانوی ہواباز کمپنی میگٹ کر رہی جو دیگر کاموں کے علاوہ جہازوں کے لیے آکسیجن بناتی ہے۔
دوسرے گروپ کی قیادت موٹر سپورٹنگ کے حوالے سے مشہور کمپنی میکلارن کر رہی ہے۔ اسی طرح ویکیوم کلینر بنانے والی برطانوی کمپنی ڈیسون نے کہا ہے کہ اس کے پاس وینٹیلیٹر کے 10 ہزار ورژن موجود ہیں۔
مصنوعی سانس لینے کے دستی یونٹس کو بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جس میں ایک ماسک ربڑ کے بیگ کے ساتھ منسلک ہے اور پمپ کو ہاتھ سے دبانے پر پھیپھڑوں کو سانس ملےگی۔
ان بیگز کو آکسیجن سے بھی بھرا جا سکتا ہے۔ ان بیگز کو طبی عملہ اکثر ہنگامی وارڈز میں مریضوں کو ہوش میں لانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
کیا وینٹی لیٹر گھر پر تیار کیا جا سکتا ہے؟
ہیلتھ کئیر انجنئیرنگ کی ایک پروفیسر ربیکا شپلی کے مطابق یونیورسٹی کالج لندن میں ایک گروپ نے وینٹیلیٹرز بنانے کا آئیڈیا پیش کیا ہے جسے دنیا بھر سے خوب رسپانس ملا۔ انہوں نے کہا کہ ثابت شدہ ڈیزائن سے بہت جلد پروڈکشن کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
ابتدائی معیار کے کچھ وینٹی لیٹرز گھر پر ہی بنائے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک اوپن سورس وینٹیلیٹر ہے جو بارسلونا کے انجنئیرز نے بنایا ہے۔ اس میں ونڈ اسکرین کے وائپر کی ایک موٹر میں کچھ تبدیلیاں کر کے اسکے ساتھ آکسیجن بیگ کا استعمال کیا گیا ہے۔
ہوا کے حجم کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے مختلف سائز کے حصے استعمال کیے جا سکتے ہیں لیکن اس کو بناتے وقت احتیاط لازمی ہے۔
گھر پر اس مشین کو بنانے والے گروپ نے خبردار کیا ہے کہ یہ مشین صرف زندگی موت کی کشمکش کے وقت استعمال کی جا سکتی ہے اور یہ جدید مشینوں کے متبادل نہیں ہے۔
