• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

ہمارے نواب صاحب – پہلی قسط

by sohail
اپریل 1, 2020
in کالم
0
0
SHARES
3
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

 (دو اقساط کی پہلی قسط)

(نواب یوسف ٹالپر سابق وزیر زراعت کی ماتحتی میں گزارے ہوئے ایام سرکاری کی یادیں)

آنجہانی رمیش ہمارے نواب یوسف ٹالپر صاحب کا فیملی ڈرائیور تھا۔ آم کی پیٹیاں لاد کر کہیں بھی ہوں، ان دنوں بھی جب برگ آوارہ جیسے ہمارے ٹھکانے ہوتے تھے، وہ ڈھونڈ لیتا تھا۔ایک معمولی سرکاری ملازم کو ایک وزیر تعلق ختم ہونے کے دس برس بعد بھی یاد رکھے یہ دونوں طرف سے رواجی اور خاندانی ہونے کی دلیل ہے۔

پاکستان تحریک انصاف جولائی 2018 کے انتخابات جیت چکی تھی۔ حلف برداریاں شروع نہ ہوئیں تھیں مگر نازبرداریاں جاری تھیں۔ انہی ابتدائی ایام میں ہم نے ایک دوست کو جنہیں صدرعلوی سے قربت کی خوش گمانی ہے، سمجھایا کہ پی ٹی آئی کے پاس قابل اور سلجھے ہوئے سیاست کاروں کا شدید قحط ہے۔ وہ نواب یوسف ٹالپر کو پیپلزپارٹی سے بطور وزیر زراعت مانگ لیں۔ ان کی قابلیت کمال کی ہے۔ سندھی بہت رسم و رواج اور سنگت و الے لوگ ہیں۔زرداری صاحب بڑے دل والے ہیں۔ انہیں ملکی مفاد میں ادھار دے دیں گے۔

 دوست کو یہ تجویز کچھ عجیب لگی۔ ان کا خیال تھا کہ ٹالپر صاحب کپتان کی پارٹی کی مخالف سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسا کہاں ہوتا ہے۔ یہ جتلاتے وقت ان کی نگاہ پرویز الہی، شیخ رشید، ایم کیو ایم (چور، شیدے ٹلی، زندہ لاشوں والے القابات) پر نہیں گئی تھی۔ ان سب حقیران ملت کی کپتان ہر تقریر میں تذلیل کیا کرتے تھے۔

ہم نے دوست کو قائل کرنے کے لیے سمجھایا کہ مافیا والے کہتے ہیں کہ”دوستوں کو قریب مگر دشمنوں کو قریب تر رکھا کیجئے“۔ دوست کے پاس اس تجویز کو رد کرنے کا جواب یہ تھا کہ یہ بات جرائم کی دنیا میں شاید بہتر سمجھی جاتی ہو، دنیائے سیاست میں ایسے کھلواڑ کی گنجائش نہیں نکلتی۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں علم نہ تھا کہ اوپر جا کر سیکس، جرائم، اور سیاست ایک ہی کمبل تلے سوئے ہوتے ہیں۔

 ہم نے اپنا نقطہء نظر واضح کرنے کے لیے دو مثالیں دیں۔ ایک پر تو ڈیوس کیرنس گڈون نے کمال کتاب  Team of Rivals لکھی ہے۔ کتاب اپنے بیان، دلائل اور موضوع کی افادیت کی وجہ سے انعام کی حق دار بھی ٹھہری ہے۔ ۔ امریکہ کے سولہویں صدر ابراہام لنکن بہت ہی غیر معمولی انسان تھے۔ وہ جب1861 میں امریکہ کے صدر بنے تو ڈیموکریٹ پارٹی کے اندر ہی صدارت کے عہدے کے تین امیدواروں سے مقابلہ کرنا پڑا تھا۔ صدر بنتے ہی انہوں نے ایک ایسا کام کیا کہ پور امریکہ ششدر رہ گیا۔ انہون نے ان اپنے تینوں سیاسی مخالفین یعنی سی وارڈ کو وزیر خارجہ، چیس کو زیر خزانہ اور بیٹس کو اٹارنی جنرل جیسے کلیدی عہدوں پر لگا دیا۔ ہم اہلیان کراچی کی ان سے عقیدت مندی دیکھیں کہ ہم نے کراچی میں ان کے نام کا ایک غیرمستند یونانی دواخانہ اور فاتح سندھ جو اپنا پورا نام نواب بادشاہ سر چارلس نیپئر فاتح سندھ لکھا کرتا اس کے نام پر نئپئر روڈ والی ہیرا منڈی آباد کر لی ہے۔

بہت بعد میں صدر بارک اوباما نے بھی نومبر2008 میں کچھ ایسی ہی واردات کی۔ انہون نے اپنی ڈیموکریٹ پارٹی میں اپنی سب سے بڑی مخالف ہلری کلنٹن کو فون پر اطلاع دی کہ وہ انہیں امریکہ کی سیکرٹری آف اسٹیٹ بنا رہے ہیں تو ہلری نے ان کی تجویز یہ کہہ کر رد کردی کہ’Oh, no, you don’t.’, ‘Oh, please, there’s so many other people who could do this.

  مسز ہلری کلنٹن نے جب  یہ عہدہ قبول کر لیا اور حلف اٹھا لیا تو کسی نے کہا۔ یہ عجب چمتکار ہے۔ مملکت کا دوسرا اہم ترین عہدہ دے کر اوباما نے ہلری کلنٹن کو شیشے کے گھر میں بٹھا دیا ہے۔ ساری دنیا بشمول پینٹاگون، سی آئی اے، ایف بی آئی اور دنیا بھر کے میڈیا کی نگاہ ان پر رہے گی۔ کپتان کو کون سمجھائے کہ سلیم جعفر جیسے لوزرز کو آخری اوور دینے کا نتیجہ 1987 ورلڈ کپ کا لاہور والا سیمی فائنل ہارنے کی صورت میں نکلتا ہے۔

پیپلزپارٹی کے اہم رہنما نواب یوسف ٹالپر 1994 سے 1997 تک ہمارے وزیر زراعت ہوتے تھے۔ ہم گریڈ اٹھارہ کے پی سی ایس افسر تھے۔ ہماری ان کی وزارت سے وابستگی کا سلسلہ یوں دراز ہوا کہ کوئی دن جاتا تھا کہ سعید صدیقی سندھ کے چیف سیکرٹری ہمیں کراچی یا کسی قریبی ضلع کا ڈپٹی کمشنر لگاتے۔ آصف زرداری صاحب سے بھی ہمارا محدود دوستانہ تھا۔ وہ ہمارا لحاظ کرتے تھے۔ ہماری بیگم کے بھائی سیف سے ان کا لڑکپن کا یارانہ تھا۔ جوانی میں ایک گوری ماڈل یوآن کے چکر میں سلیم بگٹی کو ان سے کچھ غلط فہمی ہو گئی تھی جس پر ان کا میٹروپول ہوٹل کے بار سمار میں جھگڑا ہوگیا تھا۔ سلیم بگٹی کو راضی کرکے واپس دوستی کرانے میں سیف کا بہت ہاتھ تھا۔

ایسے میں عبداللہ شاہ صاحب سی ایم سندھ کے ساتھ ایک اجلاس میں ڈاکٹر ظفر الطاف نے ناہید خان صاحبہ کی طاقت اور بے نظیر صاحبہ کی آئل  پام کی کاشت میں دل چسپی کے پیش نظر ہم کو اعتماد لیے بغیر چپکے سے ہمارے آرڈرز جاری کرا لیے کہ ہم صوبائی حکومت کے ملازم ہوکر بھی ان کی وزارت میں افسری کے جلوے دکھائیں گے۔

تین دن بعد جب ہمارے ہاتھ میں نوٹیفیکشن آیا تو ہم نے احتجاج کیا جس کا جواب صرف اتنا تھا کہ انہوں نے ہمیں ڈپٹی کمشنر کے طاقتور منصب سے کھینچ کر ڈائریکٹر اسپیشل پراجیکٹس گریڈ بیس کیPosition of Reason  پر فائز کرنا بہتر جانا ہے۔

 اس معاملے میں  ٹھان لیتے تو مڑتے نہیں تھے۔ وزیراعظم بے نظیر نے نواب صاحب کو ایک دن کہا مجھے کسی نے ایک بہت اچھے فوجی افسر میجر جنرل اعجاز کا کا ذکر کیا ہے ایماندار اور قابل۔ میں انہیں زرعی سپلائز کے ادارے میں ایم ڈی لگانا چاہتی ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں اگر کسی کو کہوں گی تو معاملات کسی اور رخ پر نکل جائیں گے۔ تمہارے تعلقات بھی فوجیوں سے پرانے ہیں۔ کچھ کرو۔ نواب صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو پوچھا کہ اس مشن کو کیسے پورا کرنا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے خود بھی جنرل کی بڑی تعریف کی، وزیر صاحب کو کہا کہ وہ تین دن میں کسی سے ملاقات کرکے کوئی حل نکالتے ہیں۔ تیسرے دن ان کی تعیناتی کا اسٹیبلشمنٹ سے نوٹیفیکشن لا کر وزارت کے نوٹیفیکشن سمیت نواب صاحب کے حوالے کردیا۔ بے نظیز صاحبہ نے جب یہ نوٹیفیکشن دیکھا تو ششدر رہ گئیں۔ جنرل اعجاز ہمارے جنرل جاوید قمر باجوہ کے سسر ہیں۔

           وزارت زراعت میں ہمارا دفتر پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کوئینز روڈ کی عمارت میں تھا۔ اس کا سنگ بنیاد جناح صاحب نے اور افتتاح خواجہ ناظم الدین نے کیا تھا۔ پانچ ایکٹر کی اس عمارت پر ان دنوں امریکی کونسلیٹ کا دفتر ہے۔ عجب منحوس مارا دفتر تھا اور مال بناؤ زراعتی افسران تھے۔ اس احاطے میں پشت پر دور ہٹ کر پاکستان کاٹن اسٹینڈرڈ کا دفتر تھا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد اقبال  دیوان چار عدد کتب کے مصنف ہیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا، پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ، دیوار گریہ کے آس پاس۔ پانچویں کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ ان دنوں ادارہ قوسین کے ہاں زیرطبع ہے۔ آپ کے کالمز وجود، دلیل،دیدبان اور مکالمہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ سابق بیورکریٹ ہیں.

sohail

sohail

Next Post
اسپین میں کورونا کے نئے کیسز میں کمی مگر اموات میں اضافہ

اسپین میں کورونا کے نئے کیسز میں کمی مگر اموات میں اضافہ

کورونا وبا دنیا بھر میں حکومتیں تبدیل کر سکتی ہے

کورونا وبا دنیا بھر میں حکومتیں تبدیل کر سکتی ہے

احتیاط نہ کی گئی تو کورونا مریضوں کی تعداد 50 ہزار تک جا سکتی ہے، عمران خان

احتیاط نہ کی گئی تو کورونا مریضوں کی تعداد 50 ہزار تک جا سکتی ہے، عمران خان

طالبان کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں میں جنگ بندی کے لیے تیار

طالبان کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں میں جنگ بندی کے لیے تیار

امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ سوشل میڈیا کے ذریعے مداحوں کی مدد کرنے لگیں

امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ سوشل میڈیا کے ذریعے مداحوں کی مدد کرنے لگیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In