سیاسی رہنما عموما اپنی دولت اور اثرورسوخ کے بل بوتے پر بیماری کے دوران بہترین نجی ہیلتھ کئیر تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں مگر کورونا وائرس نے دنیا بھر کی قیادتوں پر الگ قسم کے اثرات ڈالے ہیں۔
امریکہ، آسٹریلیا، اسرائیل، برطانیہ اور دیگر ممالک میں حکومتی رہنما اور دیگر حکام اس سے متاثر ہوئے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کورونا وائرس کا شکا ر ہوچکے ہیں۔ اٹلی میں مخلوط حکومت میں شامل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ نکولازنگاریتی کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ فرانس کے وزیرِ ثقافت پانچ ممبران ِپارلیمنٹ سمیت کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔
اسی طرح امریکہ میں سینیٹر رینڈ پال میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے، نیویارک کی ریاستی اسمبلی کے دو ممبران بھی کورونا وائرس کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔
میامی کے مئیر فرانسس سواریز میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے، اس کے علاوہ بہت سے نمایاں لوگ خود کو الگ تھلگ کر چکے ہیں جن میں سینیٹر رک سکاٹ اور ٹیڈکروز شامل ہیں۔
کورونا وائرس عالمی سطح پر کیا تبدیلیاںلائے گا؟ دنیا کے 12 معروف دانشوروں کی پیش گوئیاں
کورونا کے اثرات کے متعلق دنیا کے بڑے بنکوں کی پیش گوئیاں
کیا کورونا وائرس مغربی جمہوریتوں کو مستقل تبدیل کر دے گا؟
ان تمام جمہوری ممالک میں ان رہنماؤں کے قرنطینہ میں جانے یا الگ تھلگ ہونے کے باوجود حکومتیں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اگر بدتر صورتحال بدترین میں بدل بھی جائے تو ان ممالک میں نئی کابینہ، وزراء اعظم اور صدور کے انتخاب کے آزمودہ طریقہ کار موجود ہیں۔
مگر دیگر ممالک جہاں سیاسی ادارے کمزور ہیں وہاں اگر ملک کا سربراہ بیمار ہوجائے یا ہلاک ہوجائے تو اس کے اثرات ترقی یافتہ یورپی ممالک سے یکسر مختلف ہوسکتے ہیں۔
کمزور سیاسی اداروں کے حامل ممالک میں ملکی سربراہ کی ہلاکت یا بیماری مخالف رہنماؤں، اپوزیشن جماعتوں یا فوج کو اقتدار پر قبضہ کیلئے اکسا سکتی ہے۔ ایسا ایشیاء، افریقہ، لاطینی امریکہ اور یور پ کے کچھ ممالک میں ہوسکتا ہے۔
ایسے ممالک جہاں سیاست افراد کے گرد گھومتی ہے، ان میں کسی سیاسی رہنما کی ہلاکت حکمران جماعت میں اقتدار کیلئے لڑائی کو جنم دے سکتی ہے جس سے سیاسی جماعتیں تقسیم ہوسکتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں لڑائیوں کی صورت میں فوج کو اقتدار پر قبضے کا بہانہ مل سکتا ہے۔
معاشی و سیاسی طور پر اہم ملک نائجیریا کے 77سالہ صدر محمدو بوہاری کے چیف آف اسٹاف ابا کیاری میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
ٹویٹر پر افواہیں زیرِ گردش ہیں کہ نائیجریا کے صدر بھی کورونا کا شکار ہوکر طاقت سے محروم ہو چکے ہیں مگر میڈیا کی جانب سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ ان میں ابھی تک وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
کورونا وبا کا خاتمہ کیسے ہو گا؟ تین امکانات سامنے آ گئے
کورونا وائرس وبا کے دوران دنیا بھر میں آزاد میڈیا پر حملے
کورونا وائرس لاک ڈاؤن: پاکستانی شہر آلودگی سے پاک ہونے لگے
اسی طرح دنیا کورونا وائرس وبا کے دوران ایران کی جانب بھی متوجہ ہے۔ اس ملک میں کورونا وائرس کی ہولناکی میڈیا سینسرشپ کی وجہ سے کم ہے تاہم اب تک دو وائس صدور اور تین کابینہ حکام میں کورونا وائرس کے شکار ہونے کی اطلاعات ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ ایران میں 10 فیصد اراکین پارلیمنٹ سمیت اسلامی پاسدارنِ انقلاب کے نمایاں لوگ بھی اس سے متاثر ہوچکے ہیں۔
80 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کا ایک سینئر مشیر بھی اس وبا کا شکار ہوچکا ہے جس سے سپریم لیڈر کی صحت سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایسے تمام ممالک میں حکومتی سطح پر خلا سیاسی بحران کے خطرات بڑھاتا ہے۔
کورونا وائرس کی وبا لیڈرشپ بحران پیدا کر کے سیاسی عدم استحکام لا سکتی ہے۔ اسی طرح اس وبا سے عوامی بے چینی اور سیاسی بحران پیدا ہوسکتے ہیں جس سے حکومتوں کیلئے خطرات ہیں۔
غیر ملکی امداد دینے والے مضبوط ممالک خود مالی بحرانوں میں گھر چکے ہیں۔ ان حالات میں اب اس بات کے شدید خطرات ہیں کہ سیاسی و معاشی طور پر کمزور ممالک کو قرضوں، بڑے پیمانے پر بیروزگاری اور سماجی بے چینی جیسے مسائل کا سامنا ہوگا۔
دنیا کے کئی ممالک میں غریب افراد سے بھوک چند دن کی دوری پر ہے۔ سیاسی بے چینی نچلے طبقہ سے شروع ہو گی۔ جن ممالک میں غربت زیادہ ہے وہاں صحت کا نظام کمزور اور خوراک کی قیمت زیادہ ہے۔
شہری پہلے ہی بھاری مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ غریب ممالک میں کچی آبادیوں کے رہائشیوں کیلئے خود کو الگ تھلگ کرنا مشکل ہے۔
کم آمدنی والے لوگ کئی ہفتوں تک گھر وں میں بند نہیں رہ سکتے۔ ان کیلئے مشکل ہے کہ بغیر کام کے گھر رہیں اور فاقوں کے خطرات مول لیں۔
بہت سی حکومتوں کی جانب سے کورونا وائرس وبا پر قابو پانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات نے ایسے دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ بھارت میں وزیراعظم نریندرا مودی نے تین ہفتوں تک لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کی۔
اس سے بڑے پیمانے پر شہروں میں کام کرنیوالوں نے گھروں کی جانب ہجرت کی۔ ٹرانسپورٹ نہ ہونے سے لوگوں کو پیدل گھروں کو جانا پڑا جس سے 20 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ وزیراعظم کولاک ڈاؤن کے اثرات پر معافی مانگنی پڑی ہے۔
