ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس میں لاک ڈاؤن کے بعد حفاظتی ٹیکے لگانے اور قطرے پلانے کا کام رک جانے سے پولیو اور خسرہ جیسی بچوں کی بیماریاں ایک بار پھر لوٹ سکتی ہیں۔
اگرچہ کوویڈ 19 جیسی وباء کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن جیسے اقدامات ضروری ہیں تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ زندگی معمول پر آجانے کے بعد قابل علاج بیماریاں اپنی پوری شدت سے سر اٹھائیں گی۔
برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے اپنی ایک مفصل رپورٹ میں کہا ہے کہ پوری دنیا میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بچوں کی بیماریوں کے انسداد کے لیے حفاظتی ٹیکوں اور قطروں کی مہمیں چلائی جا رہی تھیں جو کہ کورونا وائرس سے متعلق لاک ڈاؤن کیوجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔
یونیسیف میں حفاظتی ٹیکوں کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر رابن نینڈی نے ٹیلیگراف سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ نے معمول کے اور ایمرجنسی حفاظتی ٹیکوں اور قطروں کو کورونا وائرس کے مزید پھیلنے کے خدشات کی وجہ سے عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔
یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں پہلے ہی ہر سال 20 ملین بچوں کو حفاظتی ویکسین نہیں پہنچائی جا سکتی۔
اخبار کے مطابق گزشتہ سال کی ایک رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ تشنج، خسرہ وغیرہ کی ویکسین دنیا بھر میں صرف 86 فیصد بچوں تک پہنچی ہے اور یہ شرح 2010 سے جمود کا شکار ہے جبکہ ان بیماروں کے پھیلاؤ سے بچانے کے لیے 95 فیصد شرح ضروری ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈھنوم نے پیر کے روز ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ ضروری طبی سروسز کو کورونا وائرس کی وجہ سے نہیں رکنا چاہیے۔
انہوں نےکہا کہ اگرچہ دنیا حالیہ بحران کا شکار ہے لیکن صحت کی ضروری خدمات نہیں رکنی چاہیے، بچے ابھی بھی پیدا ہو رہے ہیں لہٰذا ویکسین دستیاب ہونی چاہیے اور لوگوں کو دیگر جان لیوا بیماروں کے علاج کی بھی ضرورت ہے۔
پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں انسداد پولیو مہم روک دی گئی ہے کیونکہ ان مہمات میں کام کرنے والے عملے کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے روک تھام کرنے کے کام پر لگا دیا گیا ہے۔ پوری دنیا میں یہ تین ممالک ہی پولیو کا شکار رہ گئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر ڈاکٹر کیٹ اوبرائین اعتراف کرتی ہیں کہ تعطل دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کی کاوشوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ عالمی ادارہ صحت کے پاس ایسا کوئی نگرانی کا نظام نہیں جس کے ذریعے بتایا جا سکے کہ کس ملک میں ویکسینیشن کی مہم معطل کی گئی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ انکی تشویش دنیا بھر کے ہر بچے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین صرف نومولود یا بچوں کا معاملہ نہیں ہے، جوان، حاملہ خواتین اور بوڑھوں تک کو ویکسین کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس وقت خصوصی طور پر خسرہ کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کیونکیہ اس
وباء نے بہت تیزی سے سر اٹھایا ہے.
2018 میں دنیا بھر میں خسرہ کے 9.7 ملین کیسز تھے جبکہ اموات ایک لاکھ 42 ہزار تین سو تھیں، ان میں زیادہ تر کی عمر پانچ سال سے کم تھی۔
ماہرین کے مطابق ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو میں وباء کے بڑے پیمانے پر پھیلنے اور چھ ہزار اموات سے 2019 کے اعداد و شمار 2018 سے بھی زیادہ ہوں گے۔
جن ملکوں میں کورونا وائرس پھیلا ہے، ان میں وینزویلا شامل ہے جس کا صحت کا شعبہ معاشی بحران کی وجہ سے بدحال ہے۔
یہی صورتحال کانگو کی ہے جس نے دو سال تک ایبولا کی وباء کا مقابلہ کیا ہے۔
ریڈ کراس میں ہیلتھ سربراہ ڈاکٹر اسپرنزا مارٹینز نے کہا ہے کہ اس طرح کے ممالک کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھے.
انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی ٹیسٹنگ ہے اور نہ ہی سپلائی کی وافر مقدار، ان کے پاس گاؤن ،دستانے، ماسک سمیت کوئی حفاظتی سامان نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وائرس اگر شہر کی کچی آبادی یا مہاجر کیمپ میں پھیلتا ہے تو سماجی فاصلہ وہاں ممکن نہیں ہوگا۔
ڈاکٹر اسپرنزا مارٹینز نے کہا کہ ایسے ماحول میں ویکسین کی نایابی وبائی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنے گی۔
