کچھ خیالات اور نظریات پر دنیا کے اکثر لوگ یقین رکھتے ہیں مگر درحقیقت ان میں کوئی سچائی نہیں ہوتی۔ ان میں سے سات مقبول ترین غلط فہمیاں ایسی ہیں جنہیں جدید تحقیق رد کر چکی ہے۔
1۔ مرنے کے بعد بالوں اور ناخنوں کا بڑھنا
بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ مرنے کے بعد بھی ناخن اور بال بڑھتے رہتے ہیں جبکہ حقیقت میں مرنے کے بعد ناخن اور بالوں کی نشوونما نہیں ہوتی۔ درحقیقت مرنے کے بعد جسم میں پانی کی کمی کے باعث بالوں اور ناخنوں کی جلد سکڑ جاتی ہے اور ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مردے کے ناخن اور بال بڑھ گئے ہوں۔
2۔ انسان چمپینزیز کی ارتقائی شکل ہیں
یہ بہت ہی مقبو ل نظریہ ہے جس پربہت سے لوگوں کا یقین ہے مگر انسان چمپینزی کی ارتقائی شکل نہیں۔ نظریہ ارتقاء کے مطابق انسان اور چیمپینزی کے آباؤ اجداد ایک ہیں مگر اس نظریہ کا یہ مطلب نہیں کہ انسان چیمپینزی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔
3۔ بیل سرخ رنگ سے نفرت کرتے ہیں
لگ بھگ ہر شخص اس نظریہ کو درست سمجھتا ہو گا کہ بیل سرخ رنگ سے نفرت کرتے ہیں۔ اس کی بنیاد فلموں اور کارٹونز میں دکھائے گئے مناظر ہیں جن میں بیل سے لڑنے والے اسے سرخ رنگ دکھا کر غصہ دلا رہے ہوتے ہیں۔
یہ بھی ایک غلط خیال ہے کیونکہ بیل کلر بلائنڈ ہوتے ہیں اور انہیں مختلف رنگوں کی پہچان نہیں ہوتی۔
4۔ انسان دماغ کا صرف 10 فیصد استعمال کرتے ہیں
بہت سی رپورٹس میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ انسان دماغ کا صرف 10 فیصد استعمال کرتے ہیں۔ اس انکشاف کو ٹی وی شوز، موویز اور دیگر کئی جگہوں پر مسلسل استعمال کرکے مزید مقبول بنادیا گیا ہے۔
حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ انسانی دماغ سے متعلق ایک حالیہ تحقیق میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ انسانی دماغ کو دن بھر پوری طرح استعمال کیا جاتا ہے۔
5۔ دیوارِ چین کو خلا سے دیکھا جاسکتا ہے
یہ بات آپ نے کئی جگہ پڑھی ہو گی مگر اب اسے غلط ثابت کیا جا چکا ہے۔ دیوارِ چین جتنی بھی بڑی ہو مگر یہ اتنی بڑی نہیں ہوسکتی کہ بیرونی خلا سے نظر آ سکے۔
آج تک کسی بھی ماہرفلکیات نے یہ دعویٰ نہیں کہ انسانو ں کی بنائی ہوئی کسی چیز کو صرف آنکھوں کے ذریعے خلاء سے دیکھا جا سکتا ہے۔
6۔ انگلیاں چٹخانے سے جوڑوں کا درد شروع ہونا
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ انگلیاں چٹخانے کی عادت سے انہیں جوڑوں کے درد کی بیماری ہو گی۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس نظریہ کو غلط ثابت کرنے والے سائنسدان نوبل انعام جیت چکے ہیں۔
7۔ سر سے جسمانی حرارت کا اخراج
لوگوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ ہم سردیوں میں جسم کی حرارت کا 98 فیصد سروں سے خارج کرتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ہم صرف سر ہی سے نہیں بلکہ پورے جسم سے حرارت خارج کرتے ہیں۔
