ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی (5 جی) کے حصول کے لیے اس وقت دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اپنے وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔
اس تیزترین ٹیکنالوجی کے حصول میں کامیابی کا مطلب مسقتبل میں دنیا پر حکمرانی کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
فائیو جی کی رفتار موجودہ ٹیکنالوجی سے کئی گنا تیز ہو گی، اس کی سادہ مثال یہ ہے کہ جس ویڈیو کو ڈاؤن لوڈ کرتے ہوئے ایک صارف کو گھنٹہ لگتا تھا وہی ویڈیو فائیو جی کے ذریعے چند سیکنڈز میں ڈاون لوڈ کر لے گا۔
اس ٹیکنالوجی کے ذریعے صارفین اپنے گھروں کی ایلکٹرانکس کی چیزیں مثلاً فریج، اے سی، ٹیوب لائٹس، پنکھے،وغیرہ با آسانی اپنے موبائل سے منسلک کر کے استعمال کر سکیں گے۔
کورونا وائرس عالمی سطح پر کیا تبدیلیاںلائے گا؟ دنیا کے 12 معروف دانشوروں کی پیش گوئیاں
جدید تاریخ کی چند بڑی وبائیں جنہوں نے کروڑوں لوگوں کو ہلاک کر دیا
فائیو جی کے عام ہونے سے زندگی انتہائی تیز ہو جائے گی، آپ کے گھنٹوں پر مشتمل کئی کام سیکنڈز میں ہونے لگ جائیں گے۔
فائیو جی سے ٹرینیں، کاریں، بجلی کے گرڈ اسٹیشن اور کئی دیگر چیزوں کا انتظام دور بیٹھے سنبھالا جا سکے گا۔
آٹو میٹک اور بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں عام ہو جائیں گی جس سے حادثات میں نمایاں کمی واقع ہو گی۔
مذکورہ ٹیکنالوجی ٹوسٹر سے لے کر ٹیلیفون اور الیکٹرک کار سے لے کر بجلی کے گرڈ اسٹیشن تک ہر چیز کو سپورٹ کرے گی۔
فائیو جی کی بدولت کاریں اور بسیں ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ بھی کرسکیں گی۔
گزشتہ سال چین میں دو کلومیٹر کی سڑک پر فائیوجی سے چلنے والی گاڑی کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔
اسی طرح اس نئی ٹیکنالوجی سے شعبہ طب میں بھی انقلاب آئے گا۔ ڈاکٹر ہزاروں میل دور بیٹھ کر مرض کی تشخیص اور علاج کر سکیں گے۔
اس کے استعمال سے اربوں کی تعداد میں لوگوں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں گی۔
فائیوجی کی مدد سے مصنوعی ذہانت روز مرہ زندگی کا حصہ بن جائے گی، سیکیورٹی گارڈز، ڈرائیورز کی جگہ رپورٹس لے لیں گے اور ٹیلی کمیونیکیشن اور بائیوٹیکنالوجی میں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور یہ کھربوں ڈالرز کی بڑی صنعت بن جائے گی۔
فائیو جی کی آمد کے بعد سوشل میڈیا پر انسانوں کے درمیان روابط میں حقیقی زندگی کی جھلک بڑھ جائے گی۔
ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ بہت سی ایسی ایپس اور ڈیوائسز کو جنم دے گا جس کی بدولت ایک دوسرے سے دور بیٹھے افراد بھی اس طرح بات کر پائیں گے جیسے قریب بیٹھے ہوں۔
