حکومت نے کورونا بحران کے باعث ٹیکس محصولات میں ریکارڈ کمی اور حکومتی اخراجات میں نمایاں اضافے کے مدنظر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو گروی رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
فائنانس ڈویژن نے 700 ارب روپے اکٹھا کرنے کے لیے اجرا سکوک بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی سلسلے میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو گروی رکھا جائے گا۔
وفاقی کابینہ نے گزشتہ ہفتے اس تجویز کی منظوری دے دی ہے، فائنانس ڈویژن کی رائے تھی کہ گزشتہ دو حکومتوں نے، پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن، نے اثاثہ جات کو گروی رکھ کر اجارہ سکوک بانڈزایشو کیے تھے جن سے 51 ارب روپے کی بچت ہوئی تھی۔
اجرا سکوک شریعت کے مطابق جاری ہوتے ہیں جن میں سرمایہ کاری پر ہونیوالا نفع، سود کے بجائے کرایہ کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔
اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ گروی رکھے جانے والے اثاثے کی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے، اسے سکوک بانڈز خریدنے والوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے جو اسے حکومت کو کرائے پر واپس کر دیتے ہیں، بانڈ کی مدت ختم ہونے پر اثاثے واپس حکومت کو مل جاتے ہیں۔
فائنانس ڈویژن کا نکتہ نظر ہے کہ اجرا سکوک، حکومت کے قرض لینے کے روایتی طریقوں مثلاً پی آئی بی یا ٹی بلز کی نسبت بہتر آپشن ہے۔
اجرا سکوک پروگرام پہلی بار 2008 میں شروع ہوا تھا اور اس وقت سے اب تک 19 سودے ہوئے ہیں جن کی مالیت 936 ارب روپے تھی۔
ان کے لیے پشاور اسلام آباد موٹروے، اسلام آباد لاہور موٹروے، فیصل آباد پنڈی بھٹیاں موٹروے اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کو گروی رکھا گیا۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق اس حوالے سے 10 دسمبر 2019 کو ایک سمری کابینہ کے سامنے رکھی گئی تھی، کابینہ کے ارکان نے ہدایت کی کہ شریعت کے مطابق قرض لینے کا سابقہ حکومتوں کا ریکارڈ پیش کیا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ کیا اس سے قرض لینے کے روایتی طریقوں کی نسبت زیادہ بچت ممکن ہے۔
بعد ازاں فائنانس ڈویژن نے بتایا کہ مقامی اجرا سکوک پروگرام کے ذریعے گزشتہ حکومتوں نے 51 ارب روپے کی بچت کی تھی۔
یہ بھی بتایا گیا کہ 2008 سے جون 2020 کے دوران سکوک پر 234 ارب روپے کا نفع دیا گیا جبکہ روایتی بانڈز کے ذریعے اگر یہ قرض لیا جاتا تو اس پر 285 ارب روپے کا سود دینا پڑتا۔
سکوک پر نفع کی اوسط شرح روایتی بانڈز کی نسبت 1.9 فیصد کم ہوتی ہے، یہ شرح 10.2 فیصد کے بجائے 8.3 فیصد ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق فائنانس منسٹری نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات ابتدائی تخمینوں سے کم رہیں گے جبکہ حکومتی اخراجات میں اضافہ ہو گا۔
وزارت خزانہ نے مزید کہا کہ اس کے باعث بجٹ خسارہ مزید بڑھے گا، اس لیے مقامی قرضے لے کر اپنے وسائل کو بڑھانا ضروری ہے۔
سمری میں یہ بھی کہا گیا کہ اسلامی بینکنگ میں موجود سرمایہ فنڈنگ کے لیے ایک اہم اور نسبتاً سستا ذریعہ ہے۔
