متحدہ عرب امارات کی حکومت ان ممالک کے ساتھ تعاون اور لیبر تعلقات کی ازسرنو تشکیل کا سوچ رہی ہے جنہوں نے پرائیویٹ شعبے میں کام کرنے والے اپنے شہریوں کو وطن واپس آنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔
یو اے ای حکومت مختلف امکانات پر غور کر رہی ہے جن میں ایسے ممالک سے نئی بھرتیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنا اور کوٹا سسٹم لانا شامل ہے۔
ایمریٹس کی نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق مزید امکانات میں باہمی یادداشت کے ان معاہدوں کو معطل کرنا بھی شامل ہے جو یو اے ای کی وزارت ہیومن ریسورس نے ان ممالک کے متعلقہ حکام سے کیے ہیں۔
کورونا وائرس: متحدہ عرب امارات میں 10 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی نوکری چلی گئی
دبئی میں کورونا وائرس کے خلاف ڈرونز کا استعمال شروع
کورونا وباء کے باعث بیروزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ جائے گی، ماہرین معاشیات
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ان امکانات پر اس لیے غور کیا جا رہا ہے کیونکہ کئی ممالک نے اپنے ان شہریوں کو واپس لینے سے انکار کیا ہے جو وقت سے پہلے چھٹی پر اپنے ملک جانا چاہتے ہیں یا جن کی ملازمت موجودہ صورتحال میں ختم کر دی گئی ہے۔
ان ذرائع نے واضح کیا کہ ان کارکنوں کے ممالک کو اپنے شہریوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے جو وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔
حال ہی میں یو اے ای کی مختلف وزارتوں نے مل کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ قدم لیا ہے جس کے تحت کئی ممالک کے شہریوں کو ان کے ملک واپس بھیجا جا رہا ہے۔
اپریل کے دوران وزارت نے فیصلہ کیا تھا کہ پرائیویٹ شعبے میں کام کرنے والے جو غیرملکی کارکن کورونا وائرس کے حوالے سے لیے گئے حکومتی اقدامات کے بعد وطن واپس جانا چاہتے ہیں انہیں اس کی اجازت دی جائے گی۔
اس کے تحت ملازمین کو اپنی سالانہ چھٹیوں کی تاریخوں کی معلومات متعلقہ محکمے کے پاس جمع کرانی ہوں گی یا اپنے مالکان کے ساتھ بغیر تنخواہ کے معاملات طے کرنے ہوں گے۔
