متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ سفارت خانے کو اسلام آباد سے اجازت ملنے کا انتظار ہے جس کے بعد یو اے ای میں پھنسے پاکستانیوں کے لیے فلائٹس شروع ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے کوشاں ہیں لیکن پہلے ہمیں ان کے لیے قرنطینہ کی سہولیات اور علاج کے انتظامات مکمل کرنے ہیں۔
ایکسپریس ٹریبون کے مطابق ان کا یہ بیان یو اے ای کی طرف سے اس تنبیہ کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جو ممالک اپنے شہریوں کو واپس لانے سے انکار کر رہے ہیں ان کے ساتھ لیبر کے حوالے سے تعلقات پر نظرثانی کی جائے گی۔
متحدہ عرب امارات کا چند ممالک سے بھرتیوں پر پابندیاں لگانے کا امکان
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ ان ممالک کے ساتھ تعاون اور لیبر تعلقات کی ازسرنو تشکیل کا سوچ رہی ہے جنہوں نے پرائیویٹ شعبے میں کام کرنے والے اپنے شہریوں کو وطن واپس آنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یو اے ای مختلف امکانات پر غور کر رہی ہے جن میں ایسے ممالک سے نئی بھرتیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنا اور کوٹا سسٹم لانا شامل ہے۔
ایمریٹس کی نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق مزید امکانات میں باہمی یادداشت کے ان معاہدوں کو معطل کرنا بھی شامل ہے جو یو اے ای کی وزارت ہیومن ریسورس نے ان ممالک کے متعلقہ حکام سے کیے ہیں۔
