بھارتی وزارتِ صحت مسلسل تبلیغی جماعت والوں کو کورونا پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے اور حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے حکام ان کے لیے انسانی بم اور کورونا جہاد جیسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں جس کے باعث ملک بھر میں مسلمان مخالف حملوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
ایک نوجوان بھارتی مسلمان جو غریب لوگوں کو خوراک مہیا کر رہا تھا اسے ہندو انتہا پسندوں نے کرکٹ کے بلے سے تشدد کا نشانہ بنایا، اسی طرح کے دیگر واقعات میں بھی مسلمانوں کو مارا پیٹا اور زخمی کیا گیا جبکہ مساجد پر بھی حملے کئے گئے اور انھیں کورونا وائرس پھیلانے کا مرکز قرار دیا گیا۔
بھارت: تبلیغی اجتماع میں چند افراد کی شرکت مگر سزا پوری برادری کو
بھارت میں پولیس نے تبلیغی جماعت کے سربراہ کو تلاش کر لیا
مودی سرکار بھارتی مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کیلئے مسلسل کوشاں
نیویارک ٹائمز میں شائع ایک آرٹیکل میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی ریاست پنجاب میں سکھوں کے گوردواروں پر لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں تک پیغامات پہنچائے گئے کہ وہ مسلمانوں کے ڈیری فارم سے دودھ خریدنا چھوڑ دیں کیونکہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ ہے۔
اسی طرح انٹرنیٹ کے ذریعے نفرت انگیز پیغامات کو پھیلایا گیا اور بظاہر جعلی ویڈیوز کے ذریعے مسلمانوں کو ماسک نہ پہننے، سماجی دوری پر عمل نہ کرنے اور اس وائرس سے بالکل بھی پریشان نہ ہونے کی تلقین کی گئی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ ویڈیو بنانے والے چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت اس وبائی مرض سے زیادہ سے زیادہ بیمار یا متاثر ہو۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، عالمی وبا کی صورت میں ہمیشہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کا خدشہ رہتا ہے، اس کی ایک مثال صدر ٹرمپ ہیں جو اسے "چینی وائرس” قرار دیتے رہے ہیں، خوف اور اضطراب کے شکار لوگ دنیا بھر میں ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔
بھارت کی مجموعی آبادی ایک ارب تیس کروڑ ہے اور اس ہندو اکثریت والے ملک میں 20 کروڑ مسلمان آباد ہیں۔
بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو مودی کی قیادت میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی اور ہندو قوم پرستی کا سامنا ہے، کشمیر پر کرفیو اور کریک ڈاؤن سے لیکر بھارتی شہریت کے نئے قانون جیسے معاملات تک انہیں آئے روز ایک نئی مصیبت کا سامنا ہے۔
دودھ کا کاروبار کرنے والے محبوب حیدر نے بتایا کہ اس وائرس کی وجہ سے ان کی زندگی پہلے سے بھی مشکل ہو گئی ہے اور نفرت کی ایک نئی لہر جنم لے چکی ہے۔ خوف ہماری زندگی کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ کورونا وائرس نے لوگوں کو ہمیں مارنے کا ایک بہانہ دے دیا ہے۔
بھارت کے اسلامی سینٹر کے چئیرمن خالد رشید نے کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق حکومت کو الزامات کا کھیل نہیں کھیلنا چاہیے تھا کیونکہ اگر کسی کے مذہب کو بنیاد بنا کر میڈیا بریفنگ دی جائیں گی تو یہ مزید تقسیم کا باعث بنے گا۔
انھوں نے کہا کہ یہ وائرس تو مر جائے گا لیکن فرقہ وارانہ بدنظمی کے وائرس کو ختم کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔
اس بدترین صورتحال میں بھارتی حکومت کے دعویٰ میں کچھ سچائی موجود ہے۔ بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرہ 8 ہزار افراد میں تبلیغی جماعت کے ایک اجتماع کا بھی کردار شامل ہے جو انہوں نے مارچ میں کیا تھا۔
اسی طرح کے اجتماع پاکستان اور انڈونیشیا میں بھی منعقد ہوئے جو ان ممالک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی ایک وجہ بنے۔
بھارتی حکومت مسلسل تبلیغی جماعت کے مدرسوں اور قرنطینہ میں موجود اس کے اراکین میں ایسے لوگوں کو تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے، ایسے ہی ایک واقعہ میں نقاب پوش پولیس افسران نے تبلیغی جماعت کے ہیڈکوارٹر کو سیل کر دیا جبکہ دوسری صبحِ پولیس افسران ہاتھوں میں رائفلز اٹھائے اس علاقے کا گشت کرتے نظر آئے۔
